اردنی فرماں روا کیخلاف موساد کی بغاوت نا کام بنا دی گئی

رپورٹ : علی ہلال

مشرق وسطیٰ کے اہم عرب اسلامی ملک اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی کے خلاف بغاوت کو نا کام بنا دیا گیا ۔ گزشتہ ہفتہ کے روز ہونے والی اس کارروائی میں بادشاہ کے سوتیلے بھائی اورسابق ولی عہد شہزادہ حمزہ ،شاہی دیوان کے سابق چیف اور ایک دیگر اہم شخصیت کو نظر بند اور گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ شہزادہ حمزہ کو بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے ۔

اردن کے نائب وزیر اعظم نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ شہزادہ حمزہ اپنے گھر پر مکمل طور پر نظر بند ہیں اور انہیں کسی سے ملنے جلنے یا رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ بغاوت میں ملوث اب تک 20 اہم شخصیات کی گرفتاری ہو چکی ہے جب کہ اردنی آرمی چیف نے حالات قابو میں کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔

خطے میں فارسی توسیعی منصوبے کے حامی ذرائع ابلاغ نے اس بغاوت کے پیچھے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ملوث قرار دیا تھا ۔ مگر سعودی عرب نے فوری طور پر تردید کرتے ہوئے اردن میں امن وامان کے قیام کو بہت اہم قرار دے دیا ۔
خطے کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق نظر بند شہزادہ حمزہ کی اہلیہ ایرانی شہزادی کی بیٹی ہے اور ان شہزادہ کے ایران ،اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ روابط ہیں ۔

مزید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : دوسری قسط

ادھر عرب ذرائع نے ایسی بہت سی معلومات فراہم کی ہیں کہ اردن کی بغاوت کے پیچھے اسرائیلی ادارے کھڑے ہیں ۔ خیال رہے کہ نظر بند شہزادہ حمزہ کے دولت مند اسرائیلی تاجر شابو شنیک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں ۔ یورپ میں مقیم اسرائیلی کو اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کا اہم کارندہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ وہ ماضی میں امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر میں بھی اہم عہدے پر رہے ہیں ۔ جب کہ کافی عرصے سے اسی طرز پر اپنی سیکورٹی کمپنی چلا رہے ہیں جو امریکہ سمیت مختلف ممالک کو لوجسٹک مدد فراہم کر رہی ہے ۔ نظر بند شہزادہ حمزہ بلیک واٹر کے مالک ارینس پرنس سے بھی گہری دوستی ہے ۔

مذکورہ دونوں کمپنیاں ان دنوں اردن میں عراقی فورسز کی تربیت کے سلسلے میں موجود ہیں ۔ ہفتے کے روز تک شہزادہ حمزہ کے اسرائیلی دوست نے ان کی بیوی بچوں کو اسرائیل میں فارم ہائوس منتقل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں مگر اردنی حکام پہلے سے معلومات کر کے معاملہ کی تہہ تک پہنچ چکے تھے ۔ لہذا انہوں نے شہزادہ کے گرد غیر اعلانیہ حصار قائم کئے رکھا ۔ ناکامی کے بعد آخری لمحات میں شابوشنیک نے خصوصی طیارہ بھیج کر شہزادہ حمزہ کے بچوں کو جرمنی منتقل کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی سے دو چار ہو گئی اور شہزادہ کو نظر بند کر دیا گیا ۔

مذید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : تیسری قسط

خیال رہے کہ شاہ عبداللہ ثانی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں ۔1999 میں تخت نشین ہونے والے شاہ عبداللہ نے 2014 اور 2018 میں دو واقعات پر اسرائیل کو رسمی طورپر معافی مانگنے پر مجبور کیا ہے ۔ نومبر 2017 میں شاہ عبداللہ نے اسرائیل سے دو اہم اردنی زرعی علاقے واپس لے لئے ہیں ۔ ان علاقوں پر اسرائیل 1967 کی جنگ سے قابض تھا ۔1994 کے امن معاہدے کے وقت اسرائیل نے اس کی اردنی ملکیت تسلیم کر لی مگر دنیا کے بہترین پھل اور سبزیوں کی پیداوار کے لحاظ سے مشہور ہیں ۔

ابھی رواں ماہ شب معراج پر اردنی ولی عہد کو مسجد اقصی جانے کے لئے اسرائیل نے روڑے اٹکائے تو جواب میں اردن نے اسرائیلی وزیر اعظم کے طیارے کو متحدہ عرب امارات جانے کے لئے فضائی حدود دینے سے انکار کر دیا جس پر اسرائیلی وزیر اعظم یہ اہم ترین دورہ نہ کر سکے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *