سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : تیسری قسط

سفر نگار : اسرار ایوبی 

پرنسس آف ہوپ

ہنگول نیشنل پارک کی ایک خاص پہچان پرنسس آف ہوپچ (چامید کی شہزادی) نامی مٹیالی چٹان ہے۔ یہ ایک بلند و بالا قدرتی مٹیالی چٹانوں کے جھرمٹ میں انسانی جسم کے مانند ایک مجسمہ ہے۔ جس کی بناوٹ کچھ اس طرح ہوگئی ہے کہ یہ چٹان افق کے پار سے ایک ایسی شہزادی کی طرح دکھائی دیتی ہے یہ جو دور افق میں کچھ تلاش کر رہی ہے ۔ معروف ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی جب 2004ء میں اقوام متحدہ کے ایک خیر سگالی مشن پر پاکستان آئیں تو یہ چٹان ان کی توجہ کا مرکز بنی اور انہوں نے ہی اسے پرنسس آف ہوپ یا امید کی شہزادی کا نام دیا تھا ۔ اس مجسمہ کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کی تخلیق نہیں بلکہ سمندری ہواؤں اور کٹاؤ کے باعث اس مجسمہ کی خود بخود تخلیق ہوئی ہے ۔

ہمارے ہم سفر دوست مختار علی، نجیب اللہ خان، شاہد اختر اور محمد ندیم اقبال کو اس مجسمہ کو قریب سے دیکھنے کا انتہائی اشتیاق تھا اور وہ وہاں پہنچتے ہی بیتابی کے عالم میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس چٹانی شکل کی پرنسس آف ہوپ کو انتہائی قریب سے دیکھنے کے لئے دشوار گزار پہاڑی کی انتہائی بلندی تک پہنچ گئے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر قریب سے اس کی تصاویر بھی بنائی تھیں ۔ لیکن افسوس صوبہ کی اہم ترین شاہراہ مکران کوسٹل ہائی وے M-10 سے بالکل متصل ہونے کے باوجود یہ معروف سیاحتی مقام بھی انتہائی ویران اور لاوارث دکھائی دیا۔ جہاں دور دراز سے آنے والے سیاحوں کے بیٹھنے کے لئے نہ تو کوئی سایہ دار جگہ بنائی گئی ہے اورنہ ہی کوئی بنیادی سہولت موجود ہے ۔

ساحل اورماڑہ اور جناح نیول بیس

ضلع گوادر کی تحصیل اور ماڑہ کراچی کے مغرب میں 360 کلو میٹر کے فاصلہ پر اور گوادر کے مشرق میں 230 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع فوجی محل وقوع کا حامل اور خوبصورت مناظر پر مشتمل ساحلی مقام ہے ۔ جو کراچی سے بذریعہ مکران کوسٹل ہائی وے کراچی اور گوادر سفر کے دوران ر استہ میں آتا ہے ۔ اور ماڑہ کے مقام کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے اور اس تاریخی مقام کا سلسلہ فاتح عالم سکندر اعظم سے بھی جا ملتا ہے ۔ روایت ہے کہ سکندر اعظم نے 400 قبل از مسیح میں سندھ اور برصغیرکو فتح کرنے کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے اس مقام پر چند دن قیام کیا تھا۔

مذید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : قسط اول

بتایا جاتا ہے کہ 1938ء تک برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے مال بردار بحری جہاز ہر پندرہ دن بعد ساحل سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر لنگر انداز ہوا کرتے تھے۔ اور ماڑہ میں جہاز رانی کے لئے ایک جدید لائٹ ہاؤس، بندرگاہ اور فش ہاربر بھی قائم ہیں اور سب سے بڑھ کر وطن عزیز کی 1,064 کلو میٹر محیط اور طویل و عریض سمندری پٹی،خطہ کی اہم بحری گزر گاہ اور ملکی سمندری حدود کی نگہبانی اور نگرانی کے لئے پاک بحریہ کی ایک اہم اور جدید نیول بیس بھی یہاں قائم ہے ۔

جسے بابائے قوم محمد علی جناح کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس بحری بیس کی تعمیر کا آغاز 1994ء میں ہوا تھا اور 22 جنوری 2000ء کو اس کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا تھا۔ اور ماڑہ کو پاک بحریہ کی دوسری اہم بحری بیس میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہا ں ایک چھوٹا ساہوئی اڈہ بھی ہے، جو اورماڑہ کو فضائی راستے کے ذریعہ پورے ملک سے منسلک کرتا ہے۔ یہاں بیک وقت آٹھ جنگی بحری جہازوں اور چار آبدوزوں کے لئے گودیوں کی گنجائش موجود ہے، جس میں مستقبل قریب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

کراچی سے اورماڑہ تک کا فضائی سفر نصف گھنٹہ پر محیط ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے ادارہ ای او بی آئی) (EOBI کے ایک سینئر اور سابق افسر حسام الدین نذر کے جواں سال اور لائق صاحبزادہ لیفٹیننٹ کمانڈر محمد حسنین حسام آج کل یہاں تعینات ہیں۔ جب انہیں ہمارے دورہ کی بابت پتا چلا تو انہوں نے بڑی سعادت مندی اور اصرار سے ہمیں جناح نیول بیس آنے کی دعوت دی ۔ ہم وقت مقررہ پر نیول بیس کے داخلی راستہ پر پہنچ گئے اور ان سے فون پر رابطہ قائم کیا۔ تھوڑی دیر میں لیفٹیننٹ کمانڈر حسنین سرکاری گاڑی میں ہمیں لینے پہنچ گئے۔

مذید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : دوسری قسط

سیکیوریٹی لوازمات کی کلیئرنس کے بعد ہم ان کی معیت میں نیول بیس میں قائم رہائشی بلاک جا پہنچے۔ جہاں انہوں نے بڑی محبت و خلوص سے ہمارے لئے گرما گرم پکوڑوں، سموسوں اور خوش ذائقہ چائے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ چائے نوشی کے دوران حسنین سے کافی گپ شپ رہی اور سب دوستوں نے ان کی پاک بحریہ میں شمولیت پر بڑی خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور پھر دن بھر کے سفر سے تھکے ہوئے تمام ساتھی سستانے لیٹ گئے۔

بعد ازاں حسنین نے بڑی اپنائیت اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں اپنی یونٹ کے میس میں رات کے کھانے کی دعوت دی جو ہم نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لی ۔ انہوں نے میس کے بقعہ نوربنے اور قدرتی ماحول سے مزین لان میں بیحد لذیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور دیگر اشیاء کا خوب اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانے کے بعد چائے اور گفتگو کا دور چلا اور نصف شب کے قریب ہم نے ان سے اجازت چاہی اور کچھ دیر چہل قدمی کے بعد سب ساتھی سونے کے لئے چلے گئے ۔ صبح ناشتہ کے بعد بلاک کے باہر کچھ یادگار تصاویر بنائیں اور پھر لیفٹیننٹ کمانڈرحسنین کی شاندار مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اور انہیں خدا حافظ کہتے ہوئے اپنی اگلی منزل گوادر کی جانب روانہ ہو گئے ۔

جاری ہے ۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *