حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی : ڈاکٹر تسکین احمد

پشاور : گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق کنسلٹنٹ یورالوجسٹ جنیٹو یورینری سرجن پروفیسر ڈاکٹر تسکین احمد نے کہا کہ کیا اور کب تک دفترِ ڈائیریکٹر جنرل، آڈٹ،حکومتِ خیبر پختونخواہ، پشاور کی تازہ ترین ستاسٹھ صحفوں پر مشتعمل تفصیلی رپورٹ براۓ سال 2018 تا 2020 براۓ انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈزئیزز (آئی کے ڈی)،حیات آباد میڈیکل کمپلکیس (ایچ ایم سی)، پشاور جس میں اُس ادارے میں مہا گپھلوں، سنگین ترین مجرمانہ بھرتیوں، وغیرہ کی نشان دہیاں کی گئی ہیں ۔

جن کے بعد بھی حسبِ معمول چیرمین، نیب، پاکستان، اسلام آباد، ڈائریکٹر انٹی کرپشن، حکومتِ خیبر پختونخواہ، پشاور؛ وغیرہ اپنی ہی سنگین ترین مجرمانہ ذاتی عاشقانہ کاروائیوں، وغیرہ میں مشغول رہیں گے انہوں نے کہا کہ کیا صرف ہر ممکنہ مکمل ترین عوام کے فلاح و بہبود کے امور، عدل و انصاف کے نظام قائم کرنا، غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کو روکنا، رضا کارانہ طور پر تمام تر قانونی اجازتوں کے باوجود بھی اپنی پرائیویٹ پریکٹسز ہرگز نہ کرنا، اپنی حق و حلال کی تنخواہوں کے زیادہ تر حصے عوام کی خدمات پر خرچ کرنا بجائے اپنے آپ پر واپنے زیرِ کفالت اپنے خاندان پر، وغیرہ بھی صرف ان %95 سے بھی بہت ہی زیادہ منافقیں عظیم باشندوں ہی کے ہاتھوں پسماندہ ترین بنائے گئے اس ملک میں سنگین ترین جرائم کے زمروں میں آتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پشتو زبان میں ایک محاورہ ہے جس کا اردو زبان میں ترجمہ کچھ مندرجہ ذیل یہ ہے یہ اقوام صرف پانچویں مذہب ہی کے ماننے والی ہیں یعنی اس ملک کی باشندے صرف ڈنڈے کی زبان ہی سمجھتیں ہیں چاہے کوئی اپنا حق چھینا چاہتا ہو یا ناحق کچھ چھینا چاہتا ہو لیکن کسی بھی غیرت مند، وغیرہ انسان کے لۓ مذکورہ بالا دوسرا والا طریقہ کا اختیار کرنا قطعاً ہی ناجائز، انتہائی گری ہوئی حرکت، وغیرہ کے زمروں ہی میں آتا ہے ۔

مذید پڑھیں :شہید بھٹو سے میری پہلی ملاقات

پشاور کے تیسرے بڑے ہسپتال یعنی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور میں باقی مرکزی اور صوبائی تدریسی اداروں کے ایک بدنامِ زمانہ ترین فضول، وغیرہ ڈاک خانے یعنی پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ، پشاور ہی کے اربابِ اختیار نے اپنی انتہائی گری ہوئی من مانیوں، وغیرہ ہی کے تحت پہلے سے ایک بہت بڑی قطعہ زمین اپنی مستقبل کی عمارات، وغیرہ کے لۓ مختص کی تھی چنانچہ میں نے 3 ستمبر 2000 کی آدھی رات کو کچھ مرکزی اور صوبائی محکموں ہی کی حوصلہ افضائیوں، پشت پناہیوں، وغیرہ سے اُس بڑی قطعہ زمین میں سے تقریباً پینتالیس کنال زمین اپنے بزورِ بازو بذاتِ خود قبضہ کر لی ۔

وہ قبضہ، وغیرہ میں نے ایک بہترین بھلائی کے کام ہی کے لۓ یعنی سینٹر فار کڈنی ڈزیزز، پشاور کی تعمیر ہی کیلئے کئے تھے جو کے مرکزی حکومت کے 1997 کے سینڑرز فار کڈنی ڈیزز پروگامز کے حصے تھے جس ادارے کا نام بعدازان تبدیل کر کے انسٹیٹوٹ آف کڈنی ڈزیزز، پشاور کر دیا گیا۔

فوراً ہی میرے خلاف ہر قسم کی کارؤائیاں، شور شرابے، وغیرہ شروع کئے گئے ہوئے۔لیکن صرف اللّٰه تعالیٰ کی مدد سے مجھ تقریباً اکیلے فردِ واحد کو اُن ہزاروں افراد ہی کے خلاف ہر قدم پر نصرت و کامرانی نصیب ہوئی اور بلآخر میرے اُن سب مخالفین کو منہ ہی کی کھانی پڑیں اُس ادارے کی تعمیر جون 2006 میں مکمل ہوئی اور میں نے اُس ادارے کے بطور پہلے چیئرمین، وغیرہ چارج بھی سنبھال لیا۔

مذید پڑھیں :تعلیم بحالی تحریک کے تحت 8 اپریل کو لاہور سے اسلام آباد مارچ کا اعلان

مجھے حکومت کی طرف سے بار بار یہ پیشکشیں بھی ہوئیں کہ میں وہاں پر مستقل وہاں منتقل ہو ہی جاؤں۔ لیکن میں نے ہر دفعہ ویسے کرنے مکمل انکار ہی کیا کیونکہ میں پہلے سے یعنی 9 مئ 1996 سے شمالی۔مغربی سرحدی صوبے (موجود خیبر پختونخواہ) کے سب سے تاریخی، قدیم، مایہ ناز، وغیرہ ویسے ہی ادارے واقع لیڈی ریڈنگ ہسپتال، پشاور کا بھی چیئرمین، وغیرہ تھا۔

لہذا وہ نیا ادارہ بھی اُس پرانے ادارے کی ذیلی شاخ ہی بنا رہا چنانچہ میں فروری 2009 تک اُن دونوں اداروں کا مشترکہ چیئرمین ، وغیرہ ہی رہا لیکن خاص کر جون 2007، اپریل 2008، جنوری 2009، وغیرہ میں حسبِ معمول اس بدقسمت ترین ملک کی تمام تر مختلف حکومتوں نے مکمل ترین جعلی دستاویزات، وغیرہ پر کچھ خاص مہا جعل سازوں، ٹھگوں، وغیرہ کو اُس نے ادارے میں اونچے ترین سطعوں سے لے کر نچلے ترین سطعوں تک ہی مختلف چور دروازوں بھرتی کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں ۔

علاوہ ازیں اُس ادارے کے تمام تر بنیادی اغراض و مقاصد، وغیرہ کے بدلنے کے جس کی نظیر خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں کہیں بھی نہیں تھیں،نہیں ہیں اور ان شاء اللہ نہیں رہیں گی ماسوائے اس ملک ہی جیسے چند ایک پسماندہ ترین ممالک کے مثلاً دو قطعی مختلف ڈسپلنز \سپیشلٹیز کا عجوبہ مرکب جیسے کہ یورالوجی اور ٹرانزپلانٹ سرجری کا عجوبہ مرکب مذکورہ بالا مکمل عجوبے مرکب کے علاوہ ایک انہوں نے الحاق سے نفرالوجی کے ڈسپلن \سپیشلٹی کو بھی محض یورالوجی کے ڈسپلن \سپیشلٹی ہی کے واسطے اُس سنٹر میں جگہ دلوائی گئی ۔

مذید پڑھیں :من پسند چیئرمین EOBI تعیناتی کیلئے ریکارڈ ترین تیزی

یاد رہے کہ نفرالوجی کے ڈسپلن \سپیشلٹی کا یورالوجی کے ڈسپلن \سپیشلٹی سے براہِ راست ہرگز کوئ تعلق نہیں ہے ہاں کسی قدر بلواسطہ تعلق ہے اب ایک تو چوری اور اُس پر سینہ زوری کہ اُس عجوبے مرکب کے تمام تر دنیا کے عجوبے مرکب تدریسی عہدے، وغیرہ تک بھی بنوائے گئے کیونکہ میڈیکل سائینسز کے زیادہ تر ڈسپلنز \سپیشلٹیز میں صرف اپنے ہی ممکنہ متعلقہ چھوٹے بڑے ٹرانزپلانٹس تمام دنیا میں ہوتے رہتے ہی ہیں یا پھر ٹرانزپلانٹ سرجری کی اپنی ہی ڈسپلن \ سپیشلٹی ہے ۔

لیکن اُس ادارے کی چھتوں پر کئی چھاتہ بردار محض جنرل سرجنز ٹھگ، وغیرہ ہی چھتریوں سے براہِ راست اعلیٰ تدریسی عہدوں پر مکمل ترین جعلی دستاویزات، وغیرہ کے سمیت اُن دنیا بھر کے عجوبے مرکب عہدوں پر بطور عجوبے مہا ٹھگ مجرمان کمانڈوز، گوریلوں، وغیرہ کی طرح مکمل غیر آئینی و غیر قانونی طریقوں سے اتارے گئے علاوہ ازیں وہ تمام عجوبے مہا ٹھگ مجرمان صرف اوچھے ہتھکنڈوں، وغیرہ سے ناگزیر انسان بن کر سے زندگی بھر وہاں اُن عہدوں سے آج تک ہی چمٹے رہنا بھی چاہتے تھے، ہیں اور رہیں گے ۔

لیکن ترقی یافتہ اور مہذب دنیا میں اس طرح کے عجوبے مرکب ہرگز ہی نہیں ہوتے تھے،نہیں ہوتے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں ہونگے ۔ چنانچہ فروری 2009 میں جب میں ملک سے باہر تھا تو مذکورہ بالا تمام غلط کاروائیوں کے ردعمل کے طور پر میں نے بذاتِ خود یعنی رضا کارانہ طور پر باقاعدہ باضاطہ، وغیرہ طور پر اُس نۓ ادارے کو اپنے پرانے ادارے سے مکمل ترین طور پر الگ کر دیا اور ساتھ ہی اُس نئے ادارے کی چیرمینشپ، وغیرہ سے بھی بذاتِ خود باقاعدہ باضبطہ، وغیرہ طور پر مستعفیٰ بھی ہوا ۔

مذید پڑھیں :سیکرٹری بورڈ اینڈ جامعات علم الدین بلو کے عدالتی احکامات کے برعکس فیصلے

بعد ازان آنے والے وقتوں میں کئ حکومتوں، میرے سابق ماتحتوں، وغیرہ نے مجھے مذکورہ بالا دونوں فیصلے واپس لینے پر آمادہ کرنے کی باربار کئی کوششیں بھی کیں۔لیکن میں اُن کچھ مہا جعل سازوں، ٹھگوں، وغیرہ (عجوبے ٹھگ مجرمان) کی موجودگیوں میں کبھی بھی اصولوں پر سودے کرنے،سنگین ترین مجرمانہ کاروائیوں، وغیرہ والوں میں سے نہیں تھا، نہیں ہوں اور ان شاء اللہ نہیں رہوں گا ۔

ان مہا جعل سازوں، ٹھگوں، چور دروازے والوں، وغیرہ (عجوبے ٹھگ مجرمان ) ہی میں سے کچھ نے ناجائز ترین طریقوں سے ہی مذکورہ بالا نئے ادارے سے مذکورہ بالا پرانے ادارے میں اپنی تبادلوں کے باقاعدہ لیکن مکمل ترین غیر آئینی و غیر قانونی تحریری احکامات تک بھی اُس وقت کی حکومتوں سے بھی جاری کروائیں لیکن میں نے اُن سب مذکورہ بالا احکامات، وغیرہ کو ماننے سے انتہائی سختیوں سے ہی مکمل، مستقل، وغیرہ انکار کیا اور بلآخر اُن کچھ مہا جعل سازوں، ٹھگوں، چور دروازے والوں، وغیرہ (عجوبے ٹھگ مجرمان) کی ‘زندہ بوریاں بند جسموں’ کو واپس مذکورہ بالا بنگلہ دیش جیسے بنائے گئے نئے ادارے کے اندر ہی واپس پھینک آنے میں %201 تک کامیاب ہی رہا ۔

آج سولہ سال گزرنے کے باوجود وہ نیا ادارہ ابھی تک آدھا تیتر آدھا بٹیر ہی ہے آخر میں ضرور میں یہ بتلاتا چلوں کہ میں بذاتِ خود اپنے ذاتی تجربوں ہی کی بنیادوں پر مستقبل میں مذکورہ بالا سنٹر میں یورالوجی، نفرالوجی (انہونا الحاق) اور مذکورہ بالا عجوبے مرکب کے درمیان اقتدار کی کرسیاں حاصل کرنے کی منفی ترین محلاتی سازشوں، خانہ جنگیوں، وغیرہ ہی کو دیکھ رہا ہوں بجاۓ مثبت ترین تعمیری امور کہ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *