بلدیہ عظمی کراچی، DMC کے ساتھ دیگر محکموں کے 608 ملازمین کا قبضہ

کراچی: بلدیہ عظمی کراچی (KMC) میں DMCs کے ساتھ دیگر محکموں سے آئے افسران کا قبضہ برقرار ہے، پاکستان ریلوے، جنگلات، فشریز، ورکس اینڈسروسز، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اوردیگر محکموں کے ملازم بھی KMC کا حصہ بن چکے ہیں، یہ افسرا ن جونیئر گریڈ میں آکر 17،18، 19 اور گریڈ 20 میں پہنچ چکے ہیں۔

مصدق ذرائع کا کہنا تھا کہ DMCs سے آئے 608 جونیئر گریڈ کے عملہ KMC میں سینئر ترین عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں اس بارے میں ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد بھی مختلف محکموں اور DMCs سے آئے ہوئے ملازمین کی حیثیت کو ہٹانے پر تیار تھے تاہم DMC شرقی کے ملازمین جمیل فاروقی سابق ڈائریکٹر HRM نے ڈر خوف اور ایک سازش کے تحت ملازمین کے تبادلے روک دیے تھے۔

جمیل فاروقی کے بقول ایک پینڈرا بکس کھل جائے گا اور سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ سندھ حکومت کی ہدایت کے باوجود قابضین کے خلاف کاروائی نہ ہوسکی، جمیل فاروقی ان اہلیہ سمیت دیگر رشتہ دار DMC شرقی کے ملازمین ہیں، ڈر تھا اگر ملازمین کو ہٹایا گیا تو وہ اور ان کے رشتہ دار بھی عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور ان کے ترقی اور دیگر فائلیں بھی کھولی جانے کی توقع ہے۔

کئی سال بیرون ملک رہنے کے باوجود تمام مراعات اور واجبات وصول کیا تھا جو سروسز رولز کے تحت جرائم ہے اگر یہ پینڈرا بکس کھول گیا تو جمیل فاروقی اور اس کے رشتہ داروں سے لاکھو ں روپے جرمانہ بھی سرکار میں جمع کرانا پڑ سکتا ہے۔

موجود ہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد گذشتہ دور 2016ء کے دوران بھی DMCs کے 608 ملازمین جو 2001ء سے 2016ء کے دوران مرحلہ وار KMC میں تنخواہیں ضم ہوئے ان کے خلاف فہرست مرتب ہوچکا تھا۔

تاہم بعض افسران کے ڈر خوف اور سیاسی بنیاد پر ملنے والے دباؤ کے باعث ان ملازمین کو ہٹانے کا ارادہ ترک کردیا ہے اور آج بھی برقرار ہے۔

انہوں نے ریلوے اور دیگر محکوں کے ملازم کو KMC سے فارغ کرنے کا باضا بط ہدایت کردیا تھا لیکن بعض نادیدہ قوت نے غیر قانونی تعینات ہونے والے ملازم کے خلاف کاروائی سے روک دیا گیا ہے۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے 2011ء کا حکمنامہ کے تحت KMC میں ضم ہونے والے تمام ملازمین کو فارغ کرنے میں رکاوٹ بن گئے تھے۔

سابق ڈائریکٹر HRM جمیل فاروقی نے نمائندہ سے بات چیت کے دوران بھی اس ڈر و خوف پید ا کرنے کی کوشش کیا، تاہم جمیل فاروقی اپنی فائلیں دبا کر تمام مراعات اور سہولیات حاصل کرتے رہے۔

سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر سینئر ڈائریکٹر ہومین رسورسس ڈیپارٹمنٹ KMC اصغر درانی کے حکمنامہ نمبر Sr.Dir(HRM)/KMC2021/1068 بتاریخ 31 مارچ 2021ء کو جاری کیا ہے۔

اس حکمنا مہ کے تحت مسعود عالم سے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی دوہرا عہدہ واپس اور سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز تعینات کردیا گیا ہے یہ محکمہ جنگلات سندھ سے۔

نعمان ارشد کراچی واٹر اینڈسیوریج بورڈ، علی حسن ساجد ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ DMCشرقی کے ملازم ہے، ڈائریکٹر جنرل انجینئر ننگ ڈیپارٹمنٹ نجیب احمد KWSB کے ملازم ہیں، چیف انجینئر انیس قائم خانی KWSB کے ملازم ہیں، ایگزیکٹو انجینئر توقیر عزیز KWSB کے ملازم ہیں، چیف انجینئر صباالحسن کچی آباد کے ملازم ہیں، ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد بھی KWSB کے ملازم ہیں۔

ڈائریکٹر پلاننگ انجینئر ننگ مظہر علی شیخ، DMCغربی کے ملازم ہیں، ڈائریکٹر پارکس طلحہ سلیم سندھ حکومت کے ملازم ہیں، ڈائریکٹر اسٹیٹ امتیاز ابڑو بھی سندھ حکومت کے ملازم ہیں، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عباسی اسپتال ڈاکٹر سلمی علی کوثر DMC شرقی کی ملازمہ ہیں، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ ارشاد لودھی DMC وسطی کے ملازم ہیں، ڈائریکٹر سلمان شمسی DMC وسطی، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی رضوان خان DMC شرقی، ڈائریکٹر HRM اسماعیل خان DMC جنوبی، ڈائریکٹر HRM عمرانہ اشفاق DMC غربی، سابق ڈائریکٹر آڈٹ تسلنیم احمد DMC وسطی، ڈائریکٹر صحت ڈاکٹر سراج احمد DMC وسطی، ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز DMC غربی، ایڈیشنل ڈائریکٹر عثمان خان DMC وسطی، ڈائریکٹر پلاننگ عمران راجپوت DMC غربی، ایڈیشنل ڈائریکٹر قبرستان سرور عالم پاکستان ریلوے کے ملازم ہیں۔

دلچسپ امریہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد نے سابق سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ کلچر خورشید احمد شاہ ریٹائرڈ ملازم کو سرکاری حیثیت پر برقرار رکھا ہے، افسر علی بھی اسپورٹس کچر ل میں ریٹائرڈ کے باوجود ہے، سرکاری مراعات کی موجیں اڑارہے ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر نسم احمد ریٹائرڈ کے باوجود جارجڈ پارکنگ میں عہدے پر براجمان ہے اور صرف سابق مشیر مالیات KMC آفاق سعید کو اپنے مدر ڈیپارٹمنٹ میں تبادلہ کیا گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *