دیارِ خلافت کا سفرِ شوق : پانچویں قسط

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ترکی کا پورا نام جمہوریہ ترکی ہے، اسے جدیدترکی بھی کہا جاتا ہے، بطور ”جمہوریہ“ ترکی خلافت عثمانیہ کا جانشین ہے اور جمہوریہ کے سانچے میں ترکی خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی دلگداز سانحے کے بعد خلافت کی بچی کچھی زمین پر ڈھلا ہے، ترکوں کی تاریخ بہت قدیم ہے، تاہم ترکی ایک ملک اور ایک نیشن اسٹیٹ کے طور پر باقاعدہ 1923ءمیں الغائے خلافت کے بعد وجود میں آیا، جس کی کچھ تفصیل ابتدائی سطور میں ہم عرض کر چکے ہیں۔

انقرہ ترکی کا دار الحکومت ہے اور اس شہر کو نیا دار الحکومت بنانے کا فیصلہ جدید ترکی کے بانی اور ترکوں کے بابائے قوم مصطفی کمال پاشا اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات جو بھی ہوں، حقیقت یہ ہے کہ انقرہ کو نیا دار الحکومت بنانے سے استنبول کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں ہوئی، استنبول اگرچہ ترکی کا دار الحکومت نہیں، مگر ترکی اور عالم اسلام کے ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی دار الخلافہ کے طور پر اب بھی یہ عظیم شہر ایک الگ پہچان، شان اور تشخص رکھتا ہے اور اس شناخت کے ساتھ اس کا وجود مزید نکھر کر سامنے بھی آگیا ہے اور اسے دار الحکومت کے سیاسی ہنگاموں سے ایک گونہ حفاظت و خلاصی بھی مل گئی ہے۔

انقرہ دار الحکومت نیا ضرور ہے، مگر یہ شہر نیا نہیں ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ ہے، ہماری تاریخ کی جتنی بھی کتابیں ہیں، ان سب میں جہاں جہاں انگورہ کا ذکر آتا ہے، اس سے مراد جدید انقرہ ہی ہے۔ انگورہ رومی دور میں رومی سلطنت کا مشرقی دروازہ کہلاتا تھا، اس کے مشرق میں اسلامی سلطنت واقع تھی۔ اس حیثیت میں یہ مغربی سمت میں یہ ایک دور دراز سرحدی مقام سمجھا جاتا تھا۔یہی وہ سرحدی شہر ہے، جہاں سے گزرتے ہوئے ایک مسلمان خاتون کو رومی سپاہیوں نے قید کیا تو اس نے رومیوں کی قید سے عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو پکارتے ہوئے ”وا معتصماہ….“ (ہائے معتصم!) کہا تھا اور قید میں اس کی آواز قریب سے گزرتے ہوئے کسی مسلمان کے کان میں پڑی اور پھر کانوں کان یہ پکار اور فریاد سفر کرتی ہوئی خلیفہ محتشم معتصم باللہ کے دربار عالی میں پہنچی تو وہ تڑپ اٹھے اور فوری طور پر اسلام کی بیٹی کی رہائی کیلئے لشکر روانہ کر دیا۔ اس لشکر نے اس قیدی خاتون کو رہائی دلائی اور ظالم رومی سپاہیوں کو اس تجاوز پر سزا دی۔ یہ ہے انگورہ یعنی انقرہ کی تاریخی عظمت و تعارف۔ انگورہ کی طرح انگورہ کی بکریاں بھی تاریخی شہرت رکھتی ہیں۔

مزید پڑھیں: دیارِِ خلافت کا سفرِ شوق: پہلی قسط

سلطان سلیمان خلافت عثمانیہ کے عظیم اور نہایت اولوالعزم بادشاہ گزرے ہیں، ان کی عظمت شان کی بنا پر تاریخ انہیں سلطان عالیشان اور سلیمان قانونی کے نام سے آج بھی یاد رکھتی ہے۔ ان کے دور میں اہل اسلام کی عظمت اور برتری کا یہ عالم تھا کہ یورپ کے تمام شاہی خاندان اپنا وارث سلطان عالیشان کی منظوری سے مقرر کرتے تھے، جس طرح آج یہ مقام یورپ اور پھر امریکا کو حاصل ہے، آہ

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

بات ہو رہی تھی سلطان عالیشان کی۔ ان کی ہیبت، عظمت اور شان و شوکت اور برتری کا یہ عالم تھا کہ جس زمین پر سلطان سلیمان کے گھوڑے کے قدم پڑ جاتے تھے وہ اس کی ملکیت ہو جاتا تھا۔ سلطان عالیشان کی یاد انگورہ کی بکریوں سے آئی۔ کہتے ہیں کہ ضعیف العمری میں سلطان سلیمان نے ایک دن اپنے وزیراعظم سے پوچھا کہ ہمارے بعد کیا باقی رہ جائے گا؟ وزیراعظم نے عرض کیا یہ بات سلطان ہی جانتا ہے۔ یہ سن کر اس عظیم المرتبت بادشاہ نے جواب دیا ”پاشا ہمارے بعد انگورہ کی بکریاں اور مولانا روم کے درویش باقی رہ جائیں گے۔“ اللہ اکبر، رہے نام اللہ کا۔ یہ دو چیزیں آج بھی ترکی کی شناخت ہیں، مگر تاریخ سے سلطان عالیشان کا کردار بھی محو نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: دیارِِ خلافت کا سفرِ شوق : تیسری قسط

انقرہ وہ شہر ہے، جس کو مرکز بنا کر اتاترک مصطفی کمال پاشا نے بلقانیوں سے جنگ جیتی تھی۔ ”جنگ انقرہ“ پہلی جنگ عالمگیر کا ایک اہم معرکہ ہے، اس معرکے میں سرخروئی مصطفی کمال کی کمان میں ترک قوم کے حصے میں آئی۔ بعد میں مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں نے انقرہ کو جدید ترکی کا دار الحکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *