مہرباں مہربانیاں کرتے

کلام : وجیہ ثانی

مہرباں مہربانیاں کرتے
جو نہ ایذا رسانیاں کرتے

وہ بچھڑتے ہوئے بتاتا تو
ساتھ اس کے نشانیاں کرتے

اپنے بدخواہ ساتھ لےکےچلے
ورنہ ریشہ دوانیاں کرتے

تم نے اس کو مرا بتایا کیوں؟
جھوٹ گھڑتے کہانیاں کرتے

اس کو دیکھا تو آگئے آنسو
سرخوشی سے روانیاں کرتے

ہم سدھرنے کی کرتے کوشش کچھ
تم بھی کم بد گمانیاں کرتے

عشق دیوی تو ہم سے روٹھ گئی
نذر کس کو جوانیاں کرتے؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *