مفتی طارق مسعود کی قے اور وکلاء یزیدی ناصبی بھنگی!

تحریر: سلیم مظہری

( مقام صفدر یکجا دس اقساط )

مفتی طارق مسعود صاحب کا ایک کلپ گردش کر رہا ہے جس وہ کسی غیر مقلد عالم سے دوران گفتگو یہ کہہ رہے ہیں کہ "مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ میرے لئے قابل احترام ہیں لیکن وہ محقق مفتی اور دیوبندیت کے لیے معیار نہیں”

مفتی طارق مسعود صاحب کی خود دیوبندی علمی حلقوں میں کیا حیثیت ہے وہ کسی بھی جاننے والے سے مخفی نہیں لیکن وہ خود جس ہستی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرما رہے ہیں وہ جناب مفتی طارق مسعود صاحب کی اپنے اکابر علماء دیوبند سے شدید لاعلمی کا نتیجہ ہے، حسب معمول یزیدی ناصبی بھنگی مفتی طارق مسعود صاحب کی "قے” کو اپنے منہ پر مل اور چاٹنے میں مصروف ہو چکے ہیں😂🤣😂

نوٹ! مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ سے متعلق یہ کہنا کہ وہ مفتی نہیں اس پر یاد آیا ہم نے تو آج کے نوخیز فضلاء کو یہ بکواس کرتے بھی سنا ہے کہ امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مولانا یوسف لدھیانوی شہید کوئی مفتی نہیں تھے، یاللعجب ….. ان لمبی زبانیں والوں سے جب خود میں نے دوچار سوالات کرے تو ان کی ساری علمیت جھاگ کی طرح بیٹھتے دیکھی ہے اور یہ ان اکابر کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہیں جن کے علمی رسوخ کے بڑے بڑے اکابر علماء دیوبند قائل رہے ہیں، ذیل میں ہم دس اکابر علماء دیوبند کی آراء دے رہے ہیں جو مفتی طارق مسعود صاحب کی بات کے بے وزن ہونے کے لیے کافی ہے،

مزید پڑھیں: قربانیاں ان کی یاد رہیں گی

قارئین محترم! مناظر اسلام وکیل احناف فخر دیوبند مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کی شخصیت یوں تو علمی و عوامی حلقوں میں جانی پہچانی ہے، اکابر علماء دیوبند اعتماد کے بعد کسی ناصبی یزیدی کے عو عو کرنے سے عنداللہ "مقام صفدر” تو گھٹ نہیں سکتا، لیکن چونکہ سوشل میڈیا پر بیٹھے کچھ مالشی خارشی یزیدی ناصبیوں نے اپنا وظیفہ حیات رافضیوں خارجیوں رضا خانیوں و غیرمقلدین کی طرح فقط اکابر اہل سنت والجماعت و علماء دیوبند پر الزام تراشی بنا رکھا ہے، اس لیے دس اکابر علماء دیوبند کی آراء نیچے دی جا رہی ہیں تاکہ ناواقف ان ناصبیوں کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہو، طریقہ واردات ان ناصبیوں کا وہی رافضیوں و دیگر گمراہ فرقوں والا ہے عبارات کو اپنے من گھڑت معنی پہنانا۔

مقام_صفدر قسط 1
علمائے دیوبند کے سچے جانشین! مخدوم العلماء حضرت خواجہ خان محمد رحمہ اللہ مقام صفدر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
"بلاشبہ وہ اکابر علمائے دیوبند کے صحیح ترجمان اور سچے جانشین تھے”

مقام صفدر قسط 2
اللہ کے خاص بندے! شیخ الکل حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ مقام صفدر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
.
"حقیقت یہ ھے کہ مولانا محمد امین صفدر صاحب مرحوم کا وجود فتنوں اور باطل نظریات کے ھمارے اس دور میں بڑی نعمت تھا. اس پر فتن دور میں سلف صالحین کے صحیح مسلک اھل سنت والجماعت کے صحیح عقائد کی حفاظت باطل نظریات اور من گھڑت افکار کی نشان دھی اور انکا تعاقب کرنے کی خاص توفیق اللہ جل شانہ نے اپنے بعض خاص بندوں کو عطا فرمائی مولانا مرحوم ان ھی باتوفیق رجال علم میں سے تھے”

مزید پڑھیں: جرمِ حق گوئی میں مقبوضہ کشمیر میں 30 سال میں 19 صحافی قتل

مقام صفدر قسط 3
اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی! بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم اور صدر وفاق المدارس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب فرماتے ہیں،.
"بلاشبہ حضرت مولانا محمد امین صفدر مرحوم اپنے دور کے عظیم انسان تھے اللہ تعالی نے انھیں خداداد حافظہ اور قابل رشک حسن بیان کی سعادت سے سرفراز فرمایا تھا…ھم نے مولانا کو قریب سے دیکھا اور خوب دیکھا کہ وہ ھر موضوع پر کامل دسترس رکھتے تھے…وہ مشکل سے مشکل مسئلے کو اس خوبصورتی اور سلاست سے بیان فرماتے کہ ایک معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی اسے باسھولت ذھن نشین کرلیتا.چناچہ ھمارا مشاھدہ ھے کہ انکی صحبت و ھم نشینی نے ایسے بھت سے حضرات کو مناظر بنا دیا ھے جو چنداں عالم و فاضل نہ تھے. الغرض مولانا کے کمالات اور خداداد صلاحیتوں کو دیکھنے پر بے اختیار جی میں آتا ھے کہ بلاشبہ آپ آیت من آیات اللہ یعنی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے”

مقام صفدر قسط 4
فقہ حنفی کے مایہ ناز ترجمان اور محسن ملت اسلامیہ! حضرت والا عارف باللہ شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ فرماتے ہیں،.
مولانا محمد امین صفدر مرحوم فرقہ باطلہ کے خلاف عظیم مناظر تھے… مولانا کا امت مسلمہ پر یہ احسان ہے کہ، جہاں بھی مسلک حقہ کے خلاف آواز اٹھتی تو اس کا جواب دیتے، اس طرح وہ ہم سب کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرتے رہے، ان کی وفات پر جو حادثہ امت مسلمہ کو پہنچا ہے وہ کسی بھی غم سے کم نہیں اور اس کی وجہ سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے، خدا تعالی اس خلا کو پر کر دے، ان جیسی شخصیات دنیا میں بہت کم آتی ہیں اور ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، وہ نامور مناظر اور فقہ حنفی کے مایہ ناز ترجمان تھے، ان کا اصلاحی تعلق حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ سے تھا، حضرت لاہوری رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد انہوں نے وکیل صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب سے اصلاحی تعلق قائم کیا… اللہ تعالی امت مسلمہ کو مولانا کا نعم البدل عطا فرمائیں _ آمین ثم آمین یا رب العالمین

مقام صفدر قسط 5
میدان مناظرہ کے امام اور مجتہد! شیخ الحدیث مولانا مفتی زرولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ عجیب و غریب کیفیات کے حامل اور مقتدر صلاحیتوں کے مالک اور بغیر شک و شبہ میدان مناظرہ کے امام اور مجتہد تھے…مولانا جملہ میدان میں احقاق حق اور ابطال باطل کا فرض منصبی بڑی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ادا فرماتے تھے مگر، فتنہ آخر زماں غیر مقلدیت کے خلاف اللہ احکم الحاکمین نے ان کو جو قوت گویائی شوکت برھان اور جلالت و ہیبت شان نصیب فرمائی تھی، وہ جہاں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کرامات کے مظہر تھے، وہاں اسلام کی عزت رفتہ کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کے سربکف مجاہد مناظر تھے، ان کے مناظرے عجیب و غریب تھے، رجال اور اسانید پر کلام کرتے ہوئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور علی ابن مدینی رحمہ اللہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی… مولانا مرحوم اس موضوع میں، آیت من آیات اللہ یعنی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے، بلکہ اپنے دور کے میدان مناظرہ کے ایک خاص طرز کے مجتہد تھے، جس کا اعتراف اس میدان کے شناوروں نے بار بار کیا ہے _

مزید پڑھیں: پاکستان کے 22 ہزار 380 افسران بیرون ممالک کی شہریت رکھتے ہیں .

مقام صفدر قسط 6
اہل اسلام کے لئے اللہ تعالٰی کی نعمت عظمی! امام اہل سنت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، .
مناظر اسلام حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ اہل سنت و الجماعت بلکہ اہل اسلام کے لئے اللہ تعالٰی کی نعمت عظمی تھے کیونکہ، انہوں نے صرف سنت کی حفاظت کے لئے اہل بدعت سے ہی ٹکر نہیں لی بلکہ تمام ادیان باطلہ کے حملوں سے دین اسلام کو بچانے کے لئے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کو صرف کیا ااور اسی حفاظت دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا، ان کی مقابل پر گرفت ایسی تھی کہ اس کو بھاگنے کا موقع نہیں ملتا تھا، ااور علمی گہرائی اور گہرائی کا کسبی ہونے سے زائد اللہ تعالٰی نے وھبی وافر حصہ عطا فرمایا تھا، میں نے اکثر اختلافی مسائل پر علماء کے لئے علمی دلائل کتب کی شکل میں اکٹھے کئے مگر، انہوں نے ان دلائل کو عوامی ذہنوں کے مطابق اس طرح آسان کر دیا جیسے، داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا موم ہو جاتا تھا، مشکل سے مشکل مسائل میں عوام کی ایسی ذہن سازی کی کہ وہ صرف یہ نہیں کہ خود مطمئن ہو گئے بلکہ، دوسروں کو بھی مطمئن کرنے کی صلاحیت ان میں پیدا ہو گئی، سچ یہ ہے کہ، انہوں نے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ اس صورت میں ادا کیا کہ، ماضی میں اس کی مثال کہیں خال خال ملے گی اور زمانہ حال ان کی نظیر سے خالی ہے،اور مستقبل درجہ اسباب میں تاریک نظر آتا ہے صرف، لا تیا سوا من روح اللہ .
ترجمہ : سورہ یوسف 87
اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، کی ایک ڈھارس باقی ہے، حقیقت یہ ہے کہ، مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کے انتقال پر ایسا صدمہ ہوا کہ، اپنے قریب ترین اقرباء اور اعزہ کی موت پر اتنا صدمہ کبھی نہ ہوا _

مقام صفدر قسط 7
یہ کتابی نہیں غیبی عطائیں ہیں! امیر ختم نبوت حکیم العصر استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں.
مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ مذاہب باطلہ کی تردید اور احقاق حق کے امام تھے، اللہ تعالٰی نے ان سے بے مثال کام لیا ہے، ان کے طرز مناظرہ اور استدلال اور قرآن و حدیث کے الفاظ سے نکات کا نکالنا علماء و مدرسین کو بھی حیرت میں ڈال دیتا تھا.
مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ کے حوالے سے ہی مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی صاحب فرماتے ہیں کہ،
ہم کراچی میں تھے مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کا بنوری ٹاؤن میں درس ہو رہا تھا، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب بھی باہر کھڑے سن رہے تھے، مجھے فرمانے لگے، فضل الرحمن کتابیں تو ہم نے بھی پڑھی ہیں لیکن یہ انوکھے استدلالات اور عجیب و غریب استنباطات تو اوپر سے نازل ہو رہے ہیں، یہ کتابی چیزیں نہیں یہ تو غیبی عطائیں ہیں اور، ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء

مزید پڑھیں: مرکزِ مصطفے ﷺ

مقام صفدر قسط 8
علماء حق اور مذہب حنفی اور قافلہ بزرگواران دیوبند کے ترجمان! حضرت مولانا محمد حسن جان شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
.مناظر اسلام اور ترجمان اہل حق حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کے سانحہ ارتحال کی خبر سن کر نہایت غمگین اور آبدیدہ ہوا اور بجز، انا للہ و انا الیہ راجعون اور انا للہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل عندہ باجل مسمی، پڑھنے کے علاوہ زبان پر سکتہ طاری ہوا، موصوف اور مرحوم کی وفات سے عالم اسلام میں اور خصوصاً علماء حق کی صفوں میں بڑا خلا پیدا ہوا، جس کا پر ہو جانا بڑا مشکل ہو گا، موصوف اپنی خداداد قابلیت اور استعداد کی بناء پر فرقہ باطلہ کے لئے شمشیر برہنہ اور حاضر جوان، مناظر لاثانی اور ہر میدان کے شہسوار رہے، علماء حق اور مذہب حنفی اور قافلہ بزرگواران دیوبند کے ترجمان اور نگہبان رہے، اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے موصوف کو اپنے جوار رحمت میں مقام قرب و منزلت سے سرفراز رکھے،
آمین

مقام صفدر قسط 9
حیدری شہید کی دعا اے خداوند قدوس! اہل حق کو پھر کوئی محمد امین عطا فرما جو ہر باطل کے لیئے صفدر ہو! شہید اھل سنت علامہ علیشیرحیدری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کن الفاظ سے اس عِظیم ھستی کو خراج تحسین پیش کروں، وہ مرد قلندر کہ بظاھر ایک معمولی اور درویش انسان نظر آتا ہو، لیکن اپنے دور کے جبال علم بھی اس سے اقتباس اور اکتساب کرتے نظر آئے، جن کا نام سن کر ھر باطل گھبرا جاتا تھا اور اھل حق کے ہر دشمن کو جن کا سامنا ” سکرۃ الموت ” نظر آتا، جس نے کئی مسائل میں احناف کو زبان عطا کی، جس کے دلائل کا سامنا باطل کے کسی نمائندہ سے نہ ھو سکا اتنے بڑے مناظر اور متکلم ھونے کے باوجود متانت اور سنجیدگی کا یہ عالم کہ جیسے غصہ غیظ وغضب سے بالکل آشنائی ہی نہیں ہو، اور غصہ دلانے میں مخالف کا ہر حربہ ناکام رہا، بلکہ خود مقابل کو پھیکا ھو کر خفت وذلت ” اعتراف شکست ” کرنا پڑا،
.
مزید پڑھیں: چرواہے اور امر جلیل کا خدا!!

شہید اھل سنت مزید آگے فرماتے ہیں،
بندہ تو بس اتنا جانتا ہے جب بھی بندہ کو کوٰئی علمی اشکال پیش آیا، یا معاندین اور مخالفین نے تنگ کیا تو یا تو مرشدی وسیدی حضرت مولانا عبدالکریم قریشی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری دینی پڑی یا پھر، حضرت مولانا محمد امین صفدر صاحب رحمہ اللہ سے ملاقات کرنی پڑی اور الحمدللہ ان دونوں بزرگوں کی موجودگی میں کبھی پریشانی کا منہ دیکھنا نہیں پڑا اور تقریبا ھر الجھن قابل حل نظرآتی تھی، اب ان کے بعد اگرچہ یقین ہے، کہ اللہ تعالی اپنے دین کا خود محافظ ہے اور خود ہی انتظام فرمائے گا اور اللہ پاک نے اھل حق کو بھت بڑے جبال علم وعمل عطا فرمائے ہیں لیکن بندہ ذاتی طور پر بہت پریشان رہتا ہے اور ہر وقت دعاگو ہے کہ، اے خداوند قدوس! اپنی خصوصی رحمت سے پھر کوئی صاحب امانت پیدا فرما اور اہل حق کو پھر کوئی محمد امین عطا فرما جو ہر باطل کے لیئے صفدر ہو،
حضرت مولانا منیر احمد کہروڑپکا والے فرماتے ہیں،
حیدری شہید رحمہ اللہ جنازہ والے دن غم سے نڈھال تھے، وہ کچھ کہنا چاھتے تھے لیکن غم کی وجہ سے بول نہ سکتے تھے بالاخر لڑکھڑاتی زبان سے صرف اتنا کہ سکے کہ میں سوچتا ہوں اب اگر کوئی مسئلہ الجھ گیا تو میں کس کے پاس جاؤں گا ؟
.
حضرت مولانا منیر احمد صاحب کہروڑپکا والے مزید فرماتے ہیں،
مولانا ضیاءالرحمنفاروقی_شہید رحمہ اللہ کی تالیف…” تاریخی دستاویز ” کے جواب میں رافضیوں نے تحقیقی دستاویز لکھی تو سپاہ کے سرپرست اعلی مناظر اسلام محقق العصر حضرت حیدری صاحب یہ کتاب لے کر حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ھوئے اور عرض کی حضرت اس کا مطالعہ کر کے اس پر نشانات لگا دیں اور ان کی خیانتوں اور دھوکہ بازیوں کی نشاندہی فرما دیں، مولانا حیدری صاحب نے تحقیقی دستاویز کی بعض عبارات کے سلسلے میں اسی وقت رھنمائی بھی لی، اور یہ تو بارہا دیکھنے میں آیا جب رافضیوں کی کتابوں کے بارے میں حکومت سے مذکرات اور ملاقات ہو رہی تھی تو حیدری صاحب مذکرات سے پہلے حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ سے رھنمائی حاصل کرتے اور گفتگو کے لیئے اہم نکات حضرت سے لے کر انکی بنیاد گفتگو کرتے، شاید اسی لیئے وفات والے دن حیدری صاحب حضرت کی وفات کے صدمے میں نڈھال اور بے حال تھے

مزید پڑھیں: چشم بد دور

مقام صفدر قسط 10
مسلمانوں کے وکیل صفائی! اور باطل پرستوں کے لئے صاعقہ آسمانی مولانا مفتی محمد عاشق الہی بلند شہری رحمہ اللہ علمائے دیوبند کی خدمات دینیہ کا مختصر تعارف کرانے کے بعد اپنے مضمون میں فرماتے ہیں،
.
مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کو بھی اللہ تعالٰی نے منتخب فرمایا، انہوں نے غیر مسلموں سے بھی مناظرے کئیے اور ان کو نیچا دکھلایا، اور وہ فرقے جو مدعیان اسلام تھے لیکن، حدود اسلامی کو پار کر چکے تھے ان سے بھی مناظرے کئیے اور سب کو مغلوب کر دیا، موصوف مسلک اعتدال، مسلک امام الائمہ کے معاملے میں نہایت متصلب واقع ہوئے تھے جبکہ دور حاضر کے دوسرے تمام باطل پرستوں کے مقابلے میں وہ کسی صاعقہ آسمانی سے کم نہ تھے ، جہاں کہیں باطل پرستوں نے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ پر شب خون مارنے کی کوشش کی اور مولانا کو اس کی اطلاع ہو گئی، تو وہاں ازخود پہنچ کر مسلمانوں کے وکیل صفائی کا کردار ادا کرتے _
.
نوٹ! تمام حوالہ جات #اشاعت_خاص ماہنامہ الخیر ملتان 2001 اگست سے لیے گئے ہیں _

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *