مرکزِ مصطفے ﷺ

تحریر: اسمٰعیل بدایونی

سفر جاری تھا اور ہم طویل مسافت طے کرکے پیرزادہ رضا ثاقب مصطفائی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے مرکزِ مصطفےٰ ﷺ پر پہنچ چکے تھے ۔۔۔دوپہر کا کھانا حضرت کے ساتھ ہی تناول کیا ۔۔۔عشاء تک حضرت کے ساتھ رہے اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی ۔

مرکزِ مصطفےٰ ﷺ کی عالیشان عمارت ،اس ادارے کا نظم ، ان کے احباب کی کوشش ولگن دیکھ کر دل سے دعا نکلی اے اللہ ! اس مرکزِ مصطفےٰ ﷺ کو اپنے محبوب ﷺ کی تجلیات سے مزید روشنی عطا فرما اور عالم ِ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز بنا ۔

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام ساقی

اس میخانہ محبت کا ساقی تو اپنی جگہ ۔۔۔اس میخانہ محبت کے درو دیوار سے بھی انسیت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔جس فرد سے ملاقات ہوئی ، جس طالب علم سے ملا ، جس خادم کو دیکھا سراپا محبت پایا۔۔۔ہر شخص یوں ملتا تھا جیسے ہم اسی کے مہمان ہیں ۔

مزید پڑھیں: مدارس کے فضلاء کیلئے سی ایس ایس (CSS) کا موقع

اس مرکزِ مصطفے ﷺ کی عمارت سے متعلق ایک خاص بات آپ کو بتاؤں اس کی بنیادوں میں 786 اینٹیں رکھی گئیں اور ہر اینٹ پر ایک بار قرآن پڑھا گیا اس کی عمارت میں اسمائے الہی کی نسبت سے 99 ستون اور خلفائے راشدین کی نسبت سے چار فلو ر ہیں ۔ طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد قال اللہ وقال رسول کی صدائیں بلند کرتی دکھائی دیتی ہے ۔۔۔

وہ کسی نے کہا تھا نا!” تم مجھے اچھی مائیں دے دو میں تمہیں اچھی قوم دے دوں گا ”

ایک اچھی قوم بنانے کے لیے مستقبل کی ماؤں کی تربیت نا گزیر ہے اور مرکزِ مصطفےٰ ﷺ میں اس وقت کم و بیش 700 طالبات زیر تعلیم ہیں جس کا تمام نظام حضرت کی اہلیہ خود دیکھتی ہیں ۔۔۔طالبات کا ایک شاندار ہاسٹل ہے ۔ آج خانقاہوں کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا تھا اسلام کا خانقاہی نظام اپنی علمی و اخلاقی تباہی کے بعد بدترین اور وحشت ناک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے ۔۔۔مادیت کے اژدھے نے بہت کچھ نگل لیا آج کانوجوان پریشان ہے جائے تو کہاں جائے ؟

جن پھولوں کے کردار کی خوشبو سے عالَم کو مہکنا تھا وہ خزاں کا شکار ہو گئے ۔۔۔ ضرورت تھی کسی سنوارنے والے کی ۔۔۔ گلشن تصوف کی سجاوٹ میں باغباں کا کردار کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ۔اس ملاقات نے مجھ پر بہت گہرا اثر چھوڑا ۔۔۔پیروں کو میں نے دیکھا ہے بلکہ” متاثرین” میں بھی رہا ہوں ، پیر صاحب سے ملاقات ہی مشکل ترین کام اور پھر ہو بھی جائے تو اپنے برابر تو کجا سامنے کرسی پر ان کے سامنے کوئی بیٹھے یہ بھی انہیں گوارا نہیں۔۔۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس کا امتحانی نظام قابل تقلید کیسے

پیر زادہ رضا ثاقب مصطفائی صاحب عاجزی و انکساری اور محبت کا پیکر، گوجرانوالہ کے چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھ کر وہ اندھیروں کو شکست دینے کے لیے ہر وقت مصروفِ عمل ہیں انہوں نے نوجوان نسل کے خانقاہوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کو اپنے کردار سے پاش پاش کر دیا ہے، وہ محبت دی ، وہ کام کیے ہیں کہ نوجوانوں کو میں ان کا گرویدہ دیکھتا ہوں ۔۔۔دن بدن اس چراغِ محبت کی لو بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔اندھیروں کی شکست کا وقت قریب آ پہنچا ہے ۔۔۔

آبلہ پا کوئی اسی دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا۔

دورہ حدیث کے طلباء سے گفتگو ہوئی اور ان کے انداز گفتگو ، فکر کے رخ کو دیکھ کر بھی بہت خوشی ہو ئی ۔۔۔ کہنے اور لکھنے کو بہت کچھ ،اتنا ہی کہوں گا مرکزِ مصطفےٰ ﷺ کی صورت میں امید کی کرن پھوٹ رہی ہے ۔۔۔بازو بن جائیں اس تحریک کے ۔۔۔بلکہ ہر اس تحریک کے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے عملی میدان میں جدو جہد کررہی ہے ۔۔۔ساتھ دیجیے ہر اس فرد ، تنظیم ، خانقاہ اور اداروں کا جو اندھیروں کو دور کرنے کے لیے آندھیوں میں چراغ جلا رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں: اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان علوم دینیہ کی حفاظت و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پرعزم

اس سفر اورملاقات کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ* سنہری فہم القرآن* (ہماری نئی کتاب ایک آیت ایک کہانی )کا آغاز ہم حضرت کو تحفۃ پیش کرکے ہی کریں ۔۔۔حضرت نے کمال شفقت فرمائی کام کو پسند کیا اور نصیحت کی اس کام کو تسلسل سے جاری رکھیں۔۔۔ مرکز مصطفےٰ ﷺمیرا جانا محض جانا اور ملاقات نہ تھا بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری تربیت کا سامان تھا ۔

ہمیں علامہ حفیظ اللہ صاحب نے بتایا کہ حضرت نے سنہری صحاح ستہ کے حوالے سے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ یہ کتب یہاں رہنی چاہیے ختم نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔ختم ہوں تو مزید منگوائی جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے ان کی عمر میں،ان کے عمل میں ان کے وقت میں خوب خوب برکت عطا فرمائے اور ہمیں ان کا بازو بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

دوسرے دن ہم حضرت سے اجازت لے کر گوجرنوالہ سے لاہور کے لیے روانہ ہو ئے ۔۔۔حضرت نے تحائف کے ساتھ ہمیں رخصت کیا ۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *