چائنیز کلچر، معیشت اور جیک ما

چینی ثقافت اور جیک ما

تحریر: رعایت اللہ فاروقی


علی بابا گروپ کا مشہور زمانہ سربراہ جیک ما کچھ عرصے سے منظر عام پر نہیں ہے۔ اس کے منظر عام سے ہٹنے کا سبب اس کی وہ تقریر بنی جو اس نے پچھلے سال 24 اکتوبر کو بیجنگ میں کی۔ اس تقریر میں اس نے چائنیز ریگولیٹرز اور قومی بینک کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ تقریر اس نے "اینٹ گروپ” نامی اپنے آن لائن مالیاتی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کی تھی۔ ردعمل میں چائنیز حکومت نے اس کے اینٹ گروپ کو دی گئی بہت سی خصوصی رعایتیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔ ظاہر ہے اس کے نتیجے میں اس گروپ میں ہونے والی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوئی۔ مگر چائنیز ان چیزوں کی پروا نہیں کرتے۔ ان کے ہاں کسی کا قد کاٹھ نہیں بلکہ معاشرتی اصول مقدم ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں جیک ما منظر سے مکمل طور پر غائب ہوا تو مغربی میڈیا نے اس حوالے سے اپنا روایتی پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ کسی نے کہا اسے حکومت نے قتل کردیا ہے تو کسی نے کہا کہ اسے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ کیونکہ چائنیز حکومت آزادی اظہار کی دشمن ہے، اور وہ کسی کو تنقید کی اجازت نہیں دیتی۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جیک ما نے اس تقریر کی صورت چائنیز اخلاقیات کی بنیاد پر حملہ کیا تھا۔ یعنی مسئلہ کسی سیاسی تنقید کا نہیں بلکہ چائنیز کلچر سے بغاوت کا تھا۔ اور اپنے کلچر کے حوالے سے چائنیز پانچ ہزار سال سے بے حد حساس چلے آرہے ہیں۔ چائنیز اخلاقیات کی بنیاد "ڈیڈیاؤ” پر ہے۔ اس کا سادہ ترجمہ "عاجزی” ہے۔ چائنیز تکبر اور شو بازی کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ اسے وہ ایک سنگین اخلاقی جرم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حتی کہ تنقید کو بھی وہ اظہار تکبر ہی سمجھتے۔ اور اس معاملے میں وہ اتنے سخت ہیں کہ اگر کوئی آپ کی تعریف کردے تو جواب میں وہ ہماری طرح یہ جملہ کہنا بھی تکبر سمجھتے ہیں کہ

"بس جی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے عطاء کیا ہے”

ان کے کلچر میں تعریف کا جواب کچھ یوں ہوتا ہے

"بہت شکریہ، لیکن مجھ میں بہت کمی ہے۔ مجھے ابھی بہتری کے لئے بہت کچھ کرنا ہوگا”

یعنی آپ کو اس خوبی کی اپنے اندر موجودگی کی نفی کرنی ہوتی ہے جو تعریف کرنے والے نے آپ کی جانب منسوب کی ہے۔ چائنیز اس انتساب کو قبول نہیں کرتے۔ عاجزی کا یہ چلن "چائنیز لائف سٹائل” کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کے چپڑاسی سے لے کر صدر تک سب میں آپ کو عاجزی ہی نظر آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دھمکی آمیز زبان بھی استعمال نہیں کرتے۔ اور ان کا صدر بھی قدم قدم پر سر خم کرتا نظر آتا ہے۔ اسی کلچر کے سبب وہاں تنقید بھی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ وہ آپ کی بات میں کمی کوتاہی دیکھیں گے تو تنقید کرنے کے بجائے یوں کہیں گے

"میرے خیال میں اس میں فلاں فلاں نقصان کا اندیشہ ہے۔ آپ اگر یوں یوں کر لیں تو نقصان سے بچا جا سکتا ہے”

یعنی وہاں تنقید نہیں "تجویز اور خیر خواہی” کا کلچر ہے۔ عاجزی کے اسی کلچر کا نتیجہ ہے کہ چائنیز شہری کو "ارب پتی” بننے کی اجازت ہی نہیں بلکہ یہ دنیا میں اراب پتی بننے کی رفتار کے لحاظ سے پہلے نمبر کا ملک ہے۔ لیکن کسی بھی ارب پتی کو شو مارنے یا اپنی آسائیشوں کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں۔ وہ کہتے ہیں، ایسی حرکتوں سے معاشرے کی مڈل کلاس اور اس سے نیچے کے طبقے پر منفی اثر پڑتا ہے۔

ایک اہم چیز یہ کہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اس ملک نے "کیپٹل ازم” قبول کر رکھا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ چائنا نے کیپٹل ازم نہیں بلکہ فری مارکیٹ اکانومی کو "مشرف بسوشل ازم” کرکے اپنا معاشی نظام بنایا ہے۔ چنانچہ ان کے معاشی و اقتصادی نظام میں اس بات کا بہت خیال رکھا گیا ہے کہ ورکنگ کلاس کی ترقی بھی یقینی رہے۔ کیپٹل ازم کا سب سے بڑا انسانی جرم یہ ہے کہ اس میں امیر کے امیر تر بننے اور غریب کے غریب تر رہنے کی سکیم رکھی گئی ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف چائنیز سسٹم میں ہر بزنس کی کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے کہ اس کا مالک تنہا ہی ترقی تو نہیں کر رہا ؟ کیا کمپنی کی ترقی کے ساتھ اسی رفتار سے اس کے ملازمین بھی ترقی کر رہے ہیں ؟ ان کی خوشحالی میں بھی اضافہ ہورہا ہے یا نہیں ؟ وہ ایسے کارباری ادارے کو بند کر دیتے ہیں جس کا مالک تو دن بدن امیر تر ہو رہا ہو مگر ملازمین کے مالی حالات بہتر نہ ہو رہے ہوں۔

اس اصول کے پیچھے بیسویں صدی کے عظیم چائنیز مفکر ڈینگ ژیاؤ پنگ کا فلسفہ حیات کھڑا ہے۔ چائنیز ورکنگ کلاس کی ترقی کو یقینی بنانے والا یہ آئیڈیا اسی کی تخلیق ہے۔ اور یہ وہی ڈینگ ژیاؤ پنگ ہے جس کے ایک عجیب و غریب فلسفے نے 1997ء میں حقیقت بن کر پورے مغرب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ قصہ اس کا کچھ یوں ہے کہ جب ہانگ کانگ کی برطانیہ سے چین کو منتقلی کا وقت قریب آیا تو ہر طرف پیشنگوئی یہ کی جا رہی تھی کہ ہانگ کانگ چین کے ساتھ نہیں رہے گا۔ یہ جلد آزادی کی تحریک شروع کردے گا۔ کیونکہ برطانیہ کے زیر تسلط سو سال میں ہانگ کانگ مغربی طرز حیات میں ڈھل چکا ہے۔ یہ کمیونزم میں رہ ہی نہیں پائے گا۔ لیکن جب وقت آیا تو ڈینگ ژیاؤ پنگ نے عمرانیات کو "ایک ملک دو نظام” جیسا حیران کن فلسفہ دے کر سب کے غباروں سے ہوا نکال دی۔ اس تصور میں ہانگ کانگ کو پچاس سال میں بتدریج چائنیز سسٹم کا حصہ بنانے کا روڈ میپ ہے۔

جیک ما کی تقریر میں پہلی خوفناک غلطی یہ تھی کہ اس نے تنقید اور جارحانہ لب و لہجہ اختیار کرکے چائنیز کلچر سے بغاوت کردی تھی۔ جسے پورے چین میں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ اور چین میں ہر طرف یہ بات کی گئی کہ جیک نے ہمارے کلچر پر حملے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ جیک کی تقریر میں دوسری مہلک غلطی یہ تھی کہ اس نے اس تقریر میں مغرب کے جن آئیڈیاز کی تعریف کی تھی وہ کیپٹل ازم کے آئیڈیاز ہیں۔ یعنی یہ ڈینگ ژیاؤ پنگ کے اس معاشی نظام پر حملہ تھا جس میں چائنیز ورکنگ کلاس کی ترقی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ چائنا میں کیپٹل زم کی تعریف کرنا کعبے میں بت پرستی کی تجویز دینے جیسی حرکت ہے۔ مگر جیک ما نہ تو گرفتار ہے اور نہ ہی نظر بند۔ اس کے بزنس اب بھی اسی کے ہیں۔ اینٹ گروپ کو ریگولرائز کیا جا رہا ہے۔ جبکہ جیک ما تنہائی کے مراقبے سے گزر کر خود کو "ڈیڈیاؤ” والی حالت میں واپس ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آجاتا ہے، چائنیز کی گردن میں بھی تاریخی ترقی کے نتیجے میں سریا آجاتا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہاں کی حکومت گردنوں سے سریہ نکالنے میں کوئی رعایت نہیں برتتی۔ گردن جیک ما کی ہی کیوں نہ ہو اس میں سریا الاؤڈ نہیں !

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *