چرواہے اور امر جلیل کا خدا!!

چرواہا

تحریر: ساحر بلوچ


حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی. وہ اپنے خدا کے ساتھ محوِ گفتگو تھا۔وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہو تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیری خدمت کروں، تجھے کھانے پینے کے لیے کچھ پیش کروں، اگر تو بیمار ہو تو تیری تیمار داری کروں، اگر مجھے تیری رہائش کا علم ہو تو میں صبح شام تمہارے لیے کھانے پینے کا سامان لاؤں. میں اپنی تمام بکریاں تیری ذات پہ قربان کروں.

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چرواہے سے دریافت کیا کہ تم کس سے باتیں کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوں جس نے ہمیں پیدا کیا اور زمین اور آسمان تخلیق فرمائے. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شرک بک رہے ہو . اپنا منہ بند رکھو. تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ شنہشاہوں کا شنہشاہ ہے . وہ ایسی خدمت سے بے نیاز ہے.

چرواہا یہ سن کر از حد نا دم ہوا . اس نے اپنے کپڑے پھاڑے اور جنگل کی جانب بھا گ نکلا.

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور شکوہ کیا کہ تم نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کر دیا ہے. تجھے دنیا میں اس لیے بھیجا گیا تھا کہ تم ہمارے بندوں کو ہمارے ساتھ ملاؤ، لیکن تم نے ہمارے بندوں کو ہم سے جدا کرنے کا وطیرہ اپنا لیا ہے.

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کی ناراضی محسوس کی، تب وہ اس چراوہے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر چرواہے سے کہا کہ تمہیں اجازت ہے تم جس طرح چاہو اللہ سے مخاطب ہو اور جس طرح چاہو اسی طرح اسے یاد کرو ۔

کسی نے خوب لکھا ہے کہ ’’امر جلیل صاحب کا افسانہ بھی ایک ایسے خدا کی داستان ہے جس سے وہ بے تکلف ہے وہ اندر ہی اندر بے شمار مکالمے کرتا رہتا ہے۔ اس سے لڑتا بھی ہے اور ناراض بھی ہوتا ہے۔ اس کو اپنی انا بھی دکھاتا ہے اور اس پر یقین بھی رکھتاہے‘‘۔

آپ امر جلیل کے الفاظ سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن اس کے تعلق کی گہرائی کو محسوس کریں۔ امر جلیل پہلے نہیں ہیں جس پر گستاخی کا الزام لگا ہے نہ رفیق افغان جیسے متعصب جنونی آخری ہیں جو اس معاملے پر آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدا کو اس بات کی حاجت نہیں کہ آپ اس کی ناموس پر پہرہ دیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بیماری پھیل چکی ہے۔ پہلے ناموس رسالت تھا اب معاملہ خدا تک جا پہنچا ہے۔ آئیے اسی خدا سے سب کےلیے ہدایت مانگیں۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *