محبوبﷺ کی ہجرت کے نقش قدم پر محبتوں کا سفر

محبوب ﷺ کی ہجرت کے نقش قدم پر محبتوں کا سفر

مکہ کے کچھ نوجوانوں نے رسول اللّٰہ ﷺ سے محبت میں ایک ایسی انوکھی مہم جوئی کا فیصلہ کیا کہ آج سے ۱۴۰۰ برس پہلے جب رسول اللہﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم ملا تھا آپ ﷺ کے اس سفر کا علم بہت ہی کم لوگوں کو تھا جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما شامل تھے۔ کفار نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا تاکہ آپ کو شہید کر دیا جائے۔ اس آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی امانتیں واپس کرنے کی ذمہ داری دے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے تھے۔ رسول ﷲﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک جن راستوں سے ہجرت کی تھی، انہوں نے بھی انہی راستوں پر پیدل سفر کرنے والی ایک مہماتی ٹیم بنا کر پچھلے ہفتے کے پیر کے دن روانہ کی اور آج پیر کو دن وہ اپنی منزل یعنی مدینہ منورہ تک پہنچ جائے گی۔

یہ مکہ اور اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی قیادت عبد الحافظ القریقری عمرو درویش، حسن عبد الشکور اور سمیر براقہ کے علاوہ ٹیم میں دیگر مقامی نوجوان بھی شامل ہیں، ہجرت کے راستے پر سفر کرنے والی اس ٹیم نے یہ فیصلہ ۷ دنوں اور 8 راتوں میں ہجرت کے راستے پر چل کر سفر طے کرنا ہے، اس مہم کی سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ اسے پیدل اور کہیں کہیں اسے اونٹوں پر طے کیا گیا ہے، اس میں کہیں بھی پکی سڑک یا راستے نہیں ہیں، یہ بالکل وہی راستہ چنا گیا ہے جس پر رسول ﷲﷺ نے ہجرت کی تھی۔ کیونکہ رسول ﷲﷺ نے مدینہ جانے کے لئے تجارتی قافلوں والے عام راستے کی بجائے ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا تھا۔ رسول ﷲﷺ نے مکہ مکرمہ کو چھوڑتے وقت ابتدا مدینہ کی بجائے اس کی مخالف سمت میں سفر کیا تھا اور آکر غار ثور میں پناہ لی تھی، غار ثور میں قیام کے دوران سیدنا ابوبکر کے بیٹے حضرت عبداللہ ، اور عموما بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہ اور غلام عامر رضی اللہ عنہ خوراک پہنچاتے تھے۔

نوجوانوں کی اس مہماتی سفر کا آغاز گزشتہ ہفتے، پیر کے دن غار حرا سے ہوا تھا، وہاں سے شمال کی طرف یہ قافلہ وادی العویجا پہنچا تھا، پھر بدھ کو فجر کے وقت ثول پہنچے جہاں وادی کو عبور کرتے ہوئے خیمہ ام معبد سے ہوتے ہوئے شمال کی طرف ساحل کا رخ کیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں رسول ﷲﷺ نے سفر ہجرت میں قیام فرمایا تھا۔ یہاں پر ام معبد نامی خاتون کا خیمہ تھا جنہیں رسول ﷲﷺ کا میزبان بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ام معبد کا تعلق عرب کا ایک اہم قبیلے بنو خزاعہ سے تھا اور ام معبد اپنی شعر و شاعری کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھیں۔ رسول ﷲﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے سفر کے دوران جب ان کے خیمے کے پاس پہنچے تو ان کی ایک بکری وہاں موجود تھی۔ آپ ﷺ نے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت مانگی۔ یہ بکری دودھ دینے کے لائق نہ تھی لیکن آپ ﷺکی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اس تھنوں میں کثیر مقدار میں دودھ اتار دیا۔ ام معبد اس معجزے کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے بعد میں آپ کے بارے میں ایک فی البدیہہ نظم کہی۔ بعد میں ام معبد اور ان کے شوہر نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

یہ مہماتی قافلہ وادی ذی دوران کے قریبی علاقے سے بھی گزرا جہاں رسول ﷲﷺ کو سراقہ بن مالک نے پالیا تھا، سراقہ بن مالک (معاذاللہ) آپ ﷺکو قتل کرنے کی نیت سے ہی تلاش میں تھا۔ سراقہ انہیں پہچان گئے تھے لیکن آگے بڑھتے ہوئے ان کے گھوڑوں کے قدم زمین میں دھنس گئے تھے۔ اور اس معجزے کو دیکھ کر سراقہ بن مالک ایمان لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے انہیں کسریٰ کے کنگن پہننے کی بشارت دی تھی جو پندرہ بیس سال بعد اس وقت پوری ہوئی جب خلیفہ دوم عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کسریٰ کے محلات فتح ہوئے، یہیں رسول اللّٰہ ﷺ نے سراقہ کو امان نامہ بھی لکھ کر دیا تھا۔ یہ مہماتی ٹیم قافلہ نبوی ﷺ کے نقش قدم پر وادی سلیا پہنچی، اور وہاں سے وادی قربہ، دفینہ اور دفین سے ہوتی ہوئی الکوثر علاقے پہنچی، گزشتہ کل اتوار کے دن یہ ٹیم وادی العرج پہنچی تھی جہاں مغرب کے قریب رکوبہ پہنچے تھے یہاں رات کو قیام کرنے کے بعد آج پیر کی صبح یہ قافلہ نبی ﷺ کے ہجرت کے راستوں پر چلتے مدینہ منورہ میں مسجد قبا پہنچے ہیں۔

نوٹ : یہ تصاویر اسی مہماتی قافلے کی ہیں، جنہیں عربی مجلوں سے لیا گیا ہے۔

ام معبد کی نظم اور ترجمہ :

قالت أُمِّ مَعْبَدٍ في وصف النبي صلى الله عليه وسلم:رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الوَضَاءَةِ، أَبْلَجَ الوَجْهِ، حَسَنَ الخَلْقِ،لَمْ تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ، وَلَمْ تُزْرِيهِ صُعْلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ، فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ، أَزَجُّ، أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلَاهُ البَهَاءُ،أَجْمَلُ النَّاسِ، وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْسَنُهُ وَأَجْمَلُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ المَنْطِقِ، فَصْلًا لَا نَزْرَ وَلَا هَذَرَ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ يَتَحَدَّرْنَ، رَبْعَةٌ لَا تَشْنَؤُهُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا، لَهُ رُفَقَاءُ يَحُفُّونَ بِهِ،إِنْ قَالَ سَمِعُوا لِقَوْلهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا إِلَى أَمْرِهِ، مَحْفُودٌ مَحْشُودٌ، لَا عَابِسَ، وَلَا مُفَنِّدَ.(الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر خروج رسول اللہ ﷺ ، ۱/240)

ترجمہ:
میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کی نظافت نمایاں، جس کا چہرہ تاباں، اور جس کی ساخت میں تناسب تھا۔ پاکیزہ اور پسندیدہ خو، نہ فربہی کا عیب نہ لاغری کا نقص، نہ پیٹ نکلا ہوا، نہ سر کے بال گرے ہوئے، چہرہ وجیہہ، جسم تنومند، اور قد موزوں تھا۔ آنکھیں سر مگیں ، فراخ اور سیاہ تھیں۔ پتلیاں کالی اور ڈھیلے بہت سفید تھے۔ پلکیں لمبی اور گھنی تھیں۔ ابرو ہلالی، باریک اور پیوستہ ، گردن لمبی اور صراحی دار ، داڑھی گھنی اور گنجان، سر کے بال سیاہ اور گھنگھریالے ، آواز میں کھنک کے ساتھ لطافت، بات کریں تو رخ اور ہاتھ بلند فرمائیں ۔ کلام شیریں اور واضح ، نہ کم سخن اور نہ بسیار گو، گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ دور سے سنو تو بلند آہنگ، قریب سے سنو تو دلفریب ، کلام نہ طویل نہ بے مقصد بلکہ شیریں، جامع اور مختصر، خاموشی اختیار کرے تو پر وقار اور تمکین نظر آئے۔ قد نہ درازی سے بد نما اور نہ اتنا پستہ کہ نگاہ بلند تر پر اٹھے۔ لوگوں میں بیٹھے تو سب سے جاذب ، دور سے نظریں ڈالیں تو بہت با رعب ، دو نرم و نازک شاخوں کے درمیان ایک شاخِ تازہ جو دیکھنے میں خوش منظر ، چاند کے گرد ہالے کی طرح رفیق گرد و پیش ۔ جب کچھ کہے تو سراپا گوش۔ حکم دے تو تعمیل میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔ سب کا مخدوم ، سب کا مطاع ، مزاج میں اعتدال ، تندی اور سختی سے دور۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *