چشم بد دور

تحریر : علی ہلال


حسد ،تنگ دستی، تنگ نظری ،بد نیتی اور غیر یقینی صورتحال سے انسانی دل ودماغ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
خدارا یار کچھ عقل سے کام لیجیے ۔ ہم نے زبان سے کتےباندھے ہوئے ہیں جو ہر معاملے پر اختلاف کریں گے۔ اچھی گاڑی لینا ہر انسان کا حق ہے ۔ اپنے شوق اور اپنی بساط کے مطابق لینے میں نہ توکوئی حرج ہے اور نا ہی کوئی مضائقہ ۔

مولانا طارق جمیل کی گاڑی کا یار دوستوں نے بڑا واویلا مچایا ہوا ہے ہماری رائے پوچھنے کی بھلا ضرورت کیا ہے ۔ جتنی انسان کی شخصیت ہوگی اس کے مطابق گاڑی رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مولانا نہ کوئی وزیر ہیں نہ مشیر ہیں کہ ہم ان پر کرپشن کا شک کرے۔وہ کاروباری انسان ہیں اور ایک کھاتے پیتے گھرانے کے چشم وچراغ ہیں ۔

وہ بلا مبالغہ اس صدی کے بڑے خطیب ہیں ۔ وہ انسانوں کا نانگاپربت اور خطیبوں کا کوہ ہمالیہ ہے ۔ ایک دنیا ان کی معتقد ہے ۔ ان کے ساتھ ایسی ہی گاڑی سجتی ہے ۔

ہمیں مولانا سے ان کے بعض سیاسی معاملات پر شکوہ ضرور ہے مگر یہ مطلب نہیں کہ انہیں ڈی گیارہ میں سفر کرنے کا مشورہ دیاجائے ۔ دوسرے کے لقمہ پر نظر رکھنا کم ظرفی کی نشانی ہے ۔

دنیا محنت اور قسمت کی دین ہے ہر کسی کو محنت کرکے آگے بڑھنے اور دنیاوی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے ۔ اللہ سب کے نصیب اور مالی حالات اچھے کرے اور مولانا سے چشم بد دور ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *