ایک کروڑ روپے واپس!

تحریر ضیاء چترالی

کراچی کی ایک بڑی دینی درسگاہ میں ہمارے 2 دوست دفتر محاسب میں کام کرتے ہیں۔ ایک مفتی ہیں اور دوسرے ہماری طرح عام مولوی۔ دفتر محاسب میں لوگ اپنے عطیات، صدقات وغیرہ جمع کراتے ہیں۔

آج کسی کام سے اس دانشگاہ جانا ہوا تو پہلے اسی دفتر میں بیٹھے دوست مفتی صاحب پر نظر پڑ گئی۔ والد صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اس لئے انہوں نے زبردستی چائے کیلئے بٹھا لیا۔ اس دوران ایک صاحب کا فون آیا، جسے مفتی صاحب بڑے پیارے انداز میں شرعی مسئلہ اور اپنی مجبوری بتانے لگے۔ پھر بتایا کہ یہ صاحب کل پیسے لے کر آگئے تھے۔ وہ بھی پورے ایک کروڑ روپے سکہ رائج الوقت۔ (10000000) لیکن ان کے گلے میں بینک کا کارڈ تھا۔ اس لئے ہم نے پوچھا کہ یہ پیسے سود کے تو نہیں؟ اس نے فوراً اعتراف کر لیا کہ جی یہ سود کی رقم ہے۔ ہم نے کہا کہ سود کی رقم ہم نہیں لے سکتے۔

مزید پڑھیں: غیر سودی بینک کاری

وہ صاحب پہلے منت سماجت کرنے لگے۔ پھر غصہ ہو گئے۔ جھگڑے کی سی صورت بنی تو بات مدرسے کے مہتمم صاحب تک پہنچ گئی، جو کہ دنیائے اسلام کی مشہور علمی شخصیت ہیں۔ مہتمم صاحب نے انہیں سمجھا کر واپس بھیج دیا کہ ہم سودی رقم دینی علم حاصل کرنے والے طلبہ پر کیسے خرچ کر سکتے ہیں؟ آج وہ صاحب پھر منت سماجت کر رہے تھے کہ آپ یہ رقم قبول کرلیں۔

یہ ہے اخلاص و للٰہیت کی بنیاد پر چلنے والے دینی مدارس کی کامیابی و ترقی کا راز۔ جن کے منتظمین کو خالص اللہ جل شانہ کی شانِ رزاقیت پر کامل توکل ہے۔ اس لئے حرام و مشتبہ مال قبول نہیں کرتے۔ اس کے باوجود رب کریم کروڑوں کا ماہانہ خرچ اپنے غیبی خزانے سے احسن طریقے سے پورا فرماتے ہیں۔ الحمد للہ۔ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر میں علوم نبوت کے اس گلشن سے یہ امید لے کر نکلا کہ جب تک اخلاص کے یہ پیکر زندہ ہیں، دینی مدارس پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ ان شاء الله عزوجل❤❤

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *