ضلع کورنگی کا اسسٹنٹ کمشنر غلام عباس میمن جونیئر ملازمین کے ذریعے غیر قانونی دھندے چلانے لگا

رپورٹ (اختر شیخ ): ضلع کورنگی میں ان دنوں غیر قانونی دھندہ کرنے والوں کا راج ہے جن کی سرپرستی اسسٹنٹ کمشنر غلام عباس میمن کررہا ہے ۔غلام عباس میمن کے پاس اس سے قبل ADCٹو کا چارج بھی تھا جو واپس لے لیا گیا ہے۔

 

اسسٹنٹ کمشنر اپنے ڈپٹی کمشنر شہیر یار میمن کا نام استعمال کرکے علاقے میں زائد نرخوں پر دودھ فروشوں ،پلاسٹک جلانے والی فیکٹریوں ، ریتی بجری کا غیر قانونی کا کاروبار کرنےو الوں کی سرپرستی کررہا ہے ۔

 

الرٹ نیوز کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر غلام عباس میمن کورنگی کے علاقوں میں قیمتوں کی جانچ کے لئے چھاپے مار کر دکانداروں سے بھاری رقم وصول کرکے دفتر میں کم پیسے ظاہر کرتے ہیں ۔کورنگی ڈھائی نمبر،کوسٹ گارڈ چورنگی پر ریتی بجری کا کھلا دھندہ چلایا جارہا ہے جن سے ایک ایک لاکھ روپیہ لیا گیا ہے ۔

 

 

ریتی بجری کا کام کرنےوالوں میں نیو انصاف بلال اینڈ مسعود کمپنی کے بلال مسعود ،راجا کنسٹریکشن میٹریل کمپنی کے راجا شبیر اینڈ راجا بابر ،گرلز کالج کے باہر راجا محمد خورشید ، شرافت علی ،اختر خان اور اے سی لانڈھی کے دفترکے گل ولی خان ریتی بجری کا غیر قانونی کام کرتے ہیں جو ماہانہ اے سی کورنگی کو بھتہ دیتےہیں ۔

 

ان ریتی بجری والوں کے خلاف سابق ڈپٹی کمشنر قرۃ العین اور شادیہ جعفر نے چھاپہ مارا تھا جس میں شکایت سامنے آئی تھی کہ اسسٹنٹ کمشنر کورنگی غلام عباس میمن نے ایک لاکھ روپے لیکر خورشد راجا کو ریتی بجری لگانے کی اجازت دی ہے جس پر ارشدوارث کے ذریعے انکوائری کی گئی جس میں ثابت ہوا کہ غلام عباس میمن نے پیسے لئے ہیں جو واپس کرائے گئے ۔

 

اسسٹنٹ کمشنر کورنگی غلام عباس میمن ان دنوں دودھ فروشوں پر چھاپے مار کر انہیں پکڑ کر دفترلاتے ہیں جہاں ان سے جوڑ توڑ کیا جاتا ہے اور زائد رقم لیکر کم رقم کا چالان کمشنر آفس میں پرائس کنٹرول روم میں جمع کرایا جاتا ہے ۔زائد نرخوں پر دودھ بیچنے والوں سے 50ہزار روپے لیکر 5ہزار روپے جرمانے کی مد میں ظاہر کئے جارہے ہیں ۔

 

 

ڈپٹی کشمنر کورنگی کے دفتر میں دو ملازم خلاف ضابطہ طور پر غلام عباس میمن کی سرپرستی کی وجہ سے کام کررہے ہیں جن میں اکاؤنٹنٹ ارباب شاہ اور کلرک حامد شامل ہیں ۔

 

ان میں کلرک حامدکی اصل پوسٹگ بطور کے پی او (کی پنچ آپریٹر )مختیار کار سول لائن کے پاس ہے جبکہ یہ کورنگی کے مختیار کار کے دفتر میں کام کررہا ہے ۔

 

دوسرے نمبر پر اربا ب شاہ ہے جس کو رشوت کے الزامات ثابت ہونے پر سابق ڈپٹی کمشنر شادیہ جعفرنے ارشد وارث کو حکم دیا تھا کہ اس کا لیٹر جاری کرکے اس کو کمشنر آفس میں رپورٹ کرنے کا کہا جائے جس کے بعد ارباب شاہ کو کمشنر آفس بھیج دیا گیا جہاں اس کی مذید انکوائری کی جانی تھی جس کے خلاف کارروائی کرنے بجائے اس کو ڈپٹی کشمنر شہر یا رمیمن نے دوبارہ ڈپٹی کمشنر آفس تعینات کروا دیا۔

 

الرٹ نیوز کو معلوم ہوا کہ ارباب شاہ کرپٹ ڈپٹی کمشنر میر پور خاص مہدی شاہ سے سفارش کراکے کورنگی ڈی سی آفس میں اکاؤنٹنٹ کے طورپر تعینات ہوا ہے۔ارباب شاہ کی اصل پوسٹ اسسٹنٹ کی ہے جبکہ وہ اکاؤنٹنٹ کی ذمہ انجام دے رہا ہے ۔

 

جسے اکاؤنٹس کے بارے میں سوائے پیسے لوٹنے کے کچھ معلوم نہیں ہے ۔ارباب شاہ نے کورنگی نمبر4 میں مین روڈ پر سرکاری زمین پر بلڈنگ تعمیر کرانے کے لئے 20لاکھ روپے رشوت لی ہے جس میں سے 10لاکھ خود جبکہ 10لاکھ اوپر افسران میں بانٹ دیئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *