حکومت معاملہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، آئی بی اے ہیڈماسٹرز سراپا احتجاج

 رپورٹ (اختر شیخ): محکمہ تعلیم سندھ صوبے بھر کے آئی بی اے ہیڈماسٹرز کے احتجاج میں کردار ادا نہ کرسکا ، ہیڈ ماسٹرز کے احتجاج میں پولیس کا واٹر کینن ،آنسو گیس کے شیلنگ اور لاٹھیوں سے اساتذہ زخمی ہو گئے متعدد کو حراست میں لیکر بعد ازاں رہا کردیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر اورڈپٹی سیکرٹری تعلیم کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مظاہرین رات گئے تک دھرنا دیئے رہے۔

اتوار کی صبح 10بجے سندھ بھر کے پرائمری اسکولوں کےآئی بی اے ہیڈماسٹرز/ہیڈمسٹریس کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہونا شروع ہوئے ،سندھ بھر ہزروں پرائمری اسکولوں میں ڈھائی برس سے ہیڈ ماسٹرکے فرائض انجام دینے والے اساتذہ مستقل کرنے کےلئے احتجاج کرنے آئے تھے۔

 

اساتذہ  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انہیں جب تک ریگولرائز نہ کیا گیا تب تک احتجاج جاری رہے گا۔

 

احتجاجی مظاہرین نے پریس کلب پر جمع ہونے کے بعد جب وزیر اعلی ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا تو اس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی جانب سے ہیڈماسٹرز کوروکنے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس اور اساتذہ کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔

 

جس پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کی گئی اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا، لاٹھی چارج ہوئی جس کے نتیجہ میں متعدد خواتین اساتذہ زخمی بھی ہو گئیں جس کے بعد پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا جس کے بعد احتجاج کے دوران ایک درجن سے زائد اساتذہ کو حراست میں بھی لے لیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا تھا۔

 

احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کرنے کے لئے بعدازاں ڈپٹی کمشنر صلاح الدین مظاہرے میں آئے، اس کے بعد ڈپٹی سیکرٹری تعلیم عبدالحفیظ بھی مذاکرات کرنے آئے جو اساتذہ نمائندوں کو لیکر ڈی سی آفس گئے جہاں پر مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے کیوں کہ اساتذہ کا کہنا تھا کہ انہیں ریگولرائز کے جب تک لیٹر نہیں دیے جائیں گے تب تک وہ احتجاج موخر نہیں کریں گے۔

 

سیکرٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز بتاتے ہیں کہ آئی اے ہیڈ ماسٹر کو تقرر دو سالہ کنٹریکٹ پر کیا گیا تھا جس کے بعد ان کو مذید حکومت نے ایک سال کے لئے کنٹریکٹ کیا اور اب ہم ان کو مذید کنٹریکٹ نہیں کریں گے۔

 

پبلک سروس کم یشن کے ذریعے اگر یہ کامیاب ہو گئے تو آگے نوکری جاری رکھیں نہیں تو گھر چلے جائیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *