مشرف کے مدارس پلان کو تحریک انصاف نے آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھا لیا

مشرف کے مدارس پلان کو تحریک انصاف نے آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھا لیا ،19برس بعد پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈوفاقی وزارت تعلیم کو منتقل کردیا گیا ۔مدرسہ ایجوکیشن بورڈ،وزارت مذہبی امور کی عدم دلچسپی کے باعث اہم کردار ادا نہ کر سکا۔

 الرٹ نیوز کی جانب سے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی کار کردگی رپورٹ کا ایک جائزہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی کا تشکیل کردہ اورپرویزمشرف کے دور میں اگست 2001 میں قائم کیا جانے والاقومی ادارہ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ19سال بعد وزارت مذہبی اُمور سے وفاقی وزارت تعلیم و فنی امورکو منتقل کر دیا گیا ہے۔بورڈ چیئر مین کے منصب پر2001ء سے2019ء کے دورانیے میں2014ء کو صرف ایک ہی چیئر مین کا باضابطہ تقرر ہوسکا تھا ،جب کہ دیگر لوگ چیئر مین کے منصب پر فائز ہونے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ رہے یا پھروزارت ہی کے کسی سینئر افسر کو اضافی چارج دیاگیا۔

دستاویزی  ثبوت کے مطابق اگست2001ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان 2 سال،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ڈائیریکٹر جنرل دعوہ اکیڈمی ڈاکٹر خالد علوی مرحوم8 ماہ، وزارت مذہبی امور کے سیکریٹری وکیل احمد خان4 سال اضافی چارج اور ریٹائرڈ منٹ کے بعد مستقل ت3 سال کے لیے اعلیٰ سفارش کی بنیاد پر چیئر مین بورڈ لگادیے گئے تھے ۔وکیل احمد خان کے بعد ریاض احمد رانجھا جوکہ ایک حساس ادارے کے سویلن ریٹائرڈ افسر تھے کو بھی سفارش کی بنیاد پرعرصہ 3سال کے لیے مقرر کیا گیاتھا۔

گزشتہ حکومت کے وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ابتداء کے دو چیئرمین کے بعد کی کا کردگی کا احساس کرتے ہوئے پہلی مرتبہ اشتہار،انٹریوں اورسلیکشن کمیٹی کے پراسس کے بعد باضابطہ اہلیت و قابلیت کی بنیاد پرڈاکٹرمحمد عامر طاسین کی تقرری اگست 2014میں عرصہ 3 سال کے لیے عمل میں آئی۔

واضح رہے کہ2001ء سے2013ء تک کراچی، سکھر اور اسلام آباد میں صرف 3ن ماڈل مدارس رہے اور تینوں ماڈل مدارس اور بورڈ میں کل تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کی تعداد125 سے130 رہی ،جس میں کم و بیش صرف 40 ملازمین گریڈ4سے 17 تک مستقل اورباقی عارضی ملازمت کر رہے ہیں۔ جنہیں ہر چھ ماہ کے بعد ایک دن وقفہ سے نئے سرے سے تقرری کی جاتی ہے۔وزارت مذہبی امور کی عدم دلچسپی کے باعث 2004 سے لے کر 2014 ء تک موجود چیئر مین مدرسہ بورڈ کا اجلاس نہ بلا سکے اور مفت کی تنخواہ لیتے رہے۔

 یہ واضح رہے کہ پاکستان مدرسہ بورڈ کی اکثریت ایسے ملازمین کی ہے جو گزشتہ 14سال سے مستقل نہ ہوسکے جس کے باعث کئی ملازمین نے2013ء میں سکھر اور اسلام آباد کے ملازمین نے اپنی عارضی تقرری کو مقامی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ملازمین کے حق میں سکھر ہائی کورٹ کے مثبت فیصلے کے باوجود بھی وزارت نے عمل در آمد نہیں کیا اور حیلے بہانے تراشتی رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وزارت مذہبی امور دلچسپی لیتی اور چیئر مین حضرات2004 سے 2014 ء تک بورڈ کا اجلاس منعقد کرتے رہتے تو بورڈ ملازمین کے نہ صرف مسائل حل ہوتے بلکہ مزید بنیادی مقاصد پر کام ہوتارہتا مگر ایسا نہ ہو سکااور مدرسہ بورڈ کو اہمیت نہیں دی گئی۔

 اسلام آباد اور کراچی ما ڈل مدارس میں گریڈ 16 اور17 کے سینئر استاد کو انچارج جبکہ سکھر مدرسہ میں گریڈ 19 کے ڈیپوٹیشن کے ایک استاد کو رکھا گیا ہے۔گزشتہ دو سال سے وزارت مذہبی امور کی جانب سے زکوۃ بجٹ ختم کرنے کے باعث تینوں ماڈل مدارس میں رہائشی بچوں کا داخلہ شدید متاثر ہوا ہے۔ کراچی اور سکھر میں رہائشی طلبہ ختم کردیے گئے جب کہ اسلام آباد میں رہائشی طالبات سے ماہانہ فیس وصول کی جا رہی ہے۔مدرسہ بورڈ کا اجلاس سال میں کم از کم دو اجلاس بلائے جانے کا قانون موجود ہے مگر مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے 19 سال میں تقریبا ً 14۱،اجلاس منعقد ہوئے2010اور، 2018ء میں وزارت مذہبی امورکی نگرانی میں دو جعلی اجلاس بھی منعقد کیے گئے تھے۔

2010ء میں قاعدے کے مطابق اراکین کی تعداد مکمل نہ ہونے کے باوجود اس کے کچھ فیصلے خاموشی  سے وزارت نے منظور کیئے اور اسی طرح2018ء میں بھی جوائنٹ سیکریٹری کی نگرانی میں جعلی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اراکین کی تعداد مکمل نہ ہونے کے سبب موجود اراکین نے سخت اعتراضات اٹھائے،جس کے بعد وزارت کو اس اجلاس کو منسوخ کرنا پڑا۔

وزارت کے ایک معتبر زرائع کے مطابق اگست2014ء میں باضابطہ مقرر ہونے والے ڈاکٹر عامر طاسین نے 11سال تک غیر فعال بورڈ کو متحرک کیا اور بورڈ کے ت3جلاس بلانے اور دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی  اور ریکارڈ کے مطابق اُن کی بہترین کاردگی پر27 جولائی 2018 ء کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے ان کی 3 سالہ کارکردگی کو بھی سراہا۔ مدرسہ بورڈکے سینئرملازم نے اپنا نام راز میں رکھنے کے بعد بتایا کہ سابق چیئر مین ڈاکٹر عامر طاسین نے پہلے ہی ماہ سے اس ادارے کو ٹھیک کرنے کی کوشش شروع کردی تھی اور انہوں نے جب گیارہ سال بعد بورڈ اجلاس منعقد کرنے کی کوشش میں ممبران سے رابطے کی کوشش کی سب سے پہلے اس وقت وزارت کے سینئر افسران نے مخالفت کی لیکن دوسری جانب انہیں سابق وزیر صاحب کی سپورٹ حاصل رہی اور وہ تین اجلاس بلانے میں کامیاب رہے مگراس وقت کے سیکریٹری مذہبی امور سہیل عامرنے تینوں اجلاس کے ہر ایجنڈے پر بھر پور اعتراضات اٹھائے بورڈاجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور اور وزیر مملکت بھی شریک ہوتے رہے اور انہوں نے چیئر مین ڈاکٹر عامر طاسین کا تیار کردہ  12 نکاتی ایجنڈا پیش کرنے اور گی11سال بعد منعقد ہونے والے اجلاس کو سراہا۔

الرٹ نیوز نے تینوں اجلاس کی روئیداد رپورٹ اورتمام تر ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ تین منعقد کردہ اجلاس کے ایجنڈا آئٹمز کے مطابق عارضی ملازمین مستقلی، مستقل ملازمین کی اپ گریڈیشن اور ترقی، ملازمت قوانین بنانے کی اجازت،نئے ماڈل مدارس کھولنے کی تجویز، تینوں ماڈل مدارس کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے لیے تربیتی کورسزکا انعقاد، طلبہ کے لیے کمپیوٹر کورسز اور فنی امور میں مہارت کورسز کی اجازت، سالانہ بجٹ میں اضافہ، اسلامی ممالک سے مالی و تعلیمی امور کے معاہدات کی منظوری، پنجاب محکمہ اوقاف کی جگہوں پر ماڈل مدارس کا قیام اور معاہدہ، بورڈ آرڈیننس کے مطابق پاکستان کے پرائیویٹ دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اور تعلیمی امور میں بہتری کے لیے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا نام تبدیل کرکے پاکستان اسلامک ایجوکیشن کمیشن جیسی تجاویز بھی پیش کی تھی۔

 وزارت مذہبی امور کی بیورو کریسی پر فائز اعلیٰ افسران کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث مجموعی طور پر اہم معاملات کی منظوری میں حیلہ بہانے اوررکاوٹ، اور اجلاس روئیداد میں غیر قانونی تبدیلی کے باعث بھی ڈاکٹر عامر طاسین کو کام نہ کرنے دیا گیا۔زرائع کا کہنا ہے کہ جولائی2018ء کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین نے ڈاکٹر عامر طاسین کی دو سال دس ماہ کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی گزشتہ چیئر مینوں کے مقابلے میں کارکردگی کو سراہا مگر اجلاس میں موجود وزیر صاحب اور بیوروکریٹس کو شاید یہ بات اچھی نہ لگی اور عرصہ3 سال مکمل ہونے پراُن کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی گئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزیر مذہبی امور اور سیکریٹری سے اس بابت سخت اعتراض کیا تھا کہ آخر 11 سال تک بورڈ اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا ؟ا وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ وہ چیئر مین کو پابند کرے۔؟اور اسلام آباد ماڈل دینی مدرسہ میں خاتون پرنسپل کے خلاف کرپشن کی خبروں کے باعث مکمل تحقیقات کو سامنے لانے کا حکم دیا اور اسے فوری معطل کرنے کا بھی حکم صادر کیا مگر وزارت نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کی اس سیکریٹری کے حکم پراس خاتون پرنسپل کو وفاقی تعلیمی ادارے میں واپس بھیج دیا۔

وزارت کے زرائع کے مطابق ڈاکٹر عامر طاسین نے گزشتہ حکومت میں بھی قومی سطح پر دینی مدارس میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے وزارت مذہبی امور،وزارت تعلیم کی قائم کردہ کمیٹیاں، سابق مشیر قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کے ساتھ قومی پالیسی میں شریک رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو وزارت مذہبی اُمور کے بجائے وزارت تعلیم  و فنی امورسے منسلک کیا جانا چاہیئے  تاکہ تمام وفاقات کے دیرینہ مطالبہ پر بہتر انداز سے کام کیا جاسکے۔مگر سابقہ حکومت کے وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اس بات پر آمادہ نہ تھے اور وہ نہ صرف سمری وزیر اعظم کو بھیجنے میں رکاوٹ بنے رہے بلکہ سخت ناراضگی کا اظہار کرتے رہے۔

ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اُسی سابقہ تجویز کے پیش نظر پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو وزارت مذہبی اُمور سے وزارت تعلیم و فنی امور کو منتقل کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان سے منظوری حاصل کرلی ہے اور جلد ہی پاکستان کے تمام دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے عمل در آمد شروع کیا جائے گا۔مگر گزشتہ 5ماہ میں یہ کام اس لیے نہ ہوسکا کہ پہلے بجٹ کا مسئلہ درپیش تھا اور اس کے بعد وزارت مذہبی امور حج آپریش میں مصروف ہے۔

امید کی جارہی ہے وزارت مذہبی امور کے افسران جیسے ہی حج آپریشن سے واپس لوٹیں گے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ مکمل طور پر وزارت تعلیم کے حوالے کرد یا جائے گاتاکہ اس معاملے میں پیش رفت کو بڑھایا جا سکے۔  واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ قبل وفاقی وزارت تعلیم و فنی امور نے پاکستان کے معروف پانچ وفاقات ذمہ دار علمائے کرام سے مشاورتی میٹنگ کی جس کے مطابق حکومت اور وفاقات کے درمیان کچھ اہم مور پر اب تک اہم اور مثبت پیش رفت ہوچکی ہے۔

اب تک کی پیش رفت مطابق وزارت تعلیم میں ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد منتقل شدہ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی لائے گی مدارس رجسٹریشن کے لیے  وزارت ہی کے ماتحت باقاعدہ ڈائیریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ وفاقی سطح پر ایک ڈائیریکٹر جنرل اور ہر صوبے کے ایجوکیشن شعبہ میں بھی صوبائی سطح پرمدارس رجسٹریشن کے لیے ڈائیریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا۔

 وزارت تعلیم کے ایک اہم افسر نے نام نہ بتانے پر اشارہ دیا ہے کہ حکومت کو ایک ایسے شخص کی ضرورت ہو سکتی ہے جوکہ دینی مدارس کے مثبت جذبہ رکھنے کے ساتھ ان کے تعلیمی و انتظامی نظام کو جانتا ہو اورکسی حکومتی ادارے کا بھی تجربہ رکھتا ہو۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بھی  نیشنل ایکشن پلان  کے مطابق وہ پر عزم ہیں کہ وزارت تعلیم و فنی امور جلد ہی دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جانے کا عمل تیز کرے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *