ضبط ہونے والی قیمتی شراب کسٹم وئیر ہاوس سے کہاں جاتی ہے ؟

رپورٹ:اختر شیخ

اکثر آپ نے دیکھا یا سنا ہو گا کہ کسٹم حکام نے بیرون ملک سے امپورٹڈ شراب کی کھیپ پکڑ لی ،اس کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ یہ شراب کہاں جاتی ہے ،اسے کیا کیا جاتا ہے ؟۔

 

ان سوالوں کے جواب  کراچی میں   شیر شاہ پولیس کے پاس ہیں ،اس حوالے سے  کراچی کے ضلع غربی کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس شوکت علی کھٹیاں  بتاتے ہیں کہ ہمارے پولیس جوانوں نے ایک راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ پکڑی گئی شراب کہاں جاتی ہے ۔شیرشاہ پولیس نے شراب چوری میں ملوث کسٹم ملازم سمیت دو ملزمان گرفتار کئے ہیں،گرفتار کسٹم ملازم نے  دوران تفتیش حیران کرنے والے انکشافات کئے ہیں کہ کسٹم وئیرہاوس کے 7 ملازم کئی سال تک شراب چوری کرتے رہے ہیں ۔

 

یہ چوری کی گئی شراب  ماہانہ لاکھوں روپے  میں فروخت کی جاتی  ہے ، چوری کے بعد اس شراب  کی سپلائی کے لئے  یونس کو عارضی  طور پر ایک رکشہ دیا جاتا تھا،جس پر وہ سپلائی کرتا تھا ،یونس اس وقت شیر شاہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہے جس کا ساتھی ی خالد  بھی گرفتار ہوا ہے ۔ یونس کسٹم وئیر ہاوس میں بطور چوکیدار ملازمت کرتا ہے۔

ملزمان کے قبضے سے امپورٹڈ برآمد کی گئی شراب

 

 شوکت علی کھٹیان کے مطابق یونس اور خالد کو شراب کی 83 غیرملکی برانڈ کی قیمتی بوتلوں کے ساتھ گرفتار کی گیا ہے ۔یونس کے علاوہ کسٹم کے 7دیگر ملازمین بھی شراب چوری میں ملوث ہیں۔یونس کے ہمراہ گرفتار ملزم خالد ڈیفنس کلفٹن میں شراب کا بروکر ہے۔ملزم خالد شراب کو  کسٹم کے سرکاری  فلیٹ میں اپنے ساتھ   بھی رکھتا تھا۔

 

کسٹم کے دیگر شراب فروخت کرنےو الے ملازمین میں  مومن خان، شیرولی،غلام، حبیب، سہیل اور فیصل شامل ہیں ۔یونس نے پولیس کو ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ دو سال سے زائد عرصے سے یہ کام کر رہے ہیں  تاہم اسے یاد نہیں آج تک کتنی تعداد میں انہوں نے شراب فروخت کی ہے ۔ادھر شیر شاہ پولیس گرفتار ملزمان کے دیگر 6 ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *