وادی سندھ کا وشال شہر ’’دھامراہ جو دڑو‘‘

تحریر : آصف رضا موریو

قدیم تہذیبوں کے نمائندہ شہر اور سندھہ کے عظیم دارالسلطنت مہیں جو دڑو سے تقریبن پندرھہ سولہ کلو میٹر دور واقع اس کا قریبی، پڑوسی اور ہم عصر شہر "دھامراہ جو دڑو” بھی دریائے سندھ کی تہذیب کی ایک اہم کڑی اور نمائندہ مقام ہے جو سندھہ کے ضلع لاڑکانو کی تحصیل ڈوکری کے چھوٹے سے جنوبی شہر باڈھہ سے بوتھرو تھرڑی محبت جانے والی کچی اور مرمریلی سڑک پر مزید چھہ سات کلو میٹر دور جنوب میں آگے جا کر مغرب میں میہڑ شہر جانے والے کچے اور ادھڑے ہوئے راستے پر (جو کبھی شاہی راستہ کہلاتا تھا) کاندھڑا گائوں کے نزدیک اور دھامراہا گاؤں سے شمالن متصل کئی ایکڑ پر چھوٹے بڑے ٹیلوں کی صورت میں ہماری قومی ناخواندگی، جہالت اور تہذیب سے بیگانگی اوڑھے ہوئے سکرات کے عالم میں بکھرے پڑے ہیں ۔

ہمارے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کی تعداد میں سندھو ماتھر کے ان زندھہ آثاروں کی حالت یتیم خانے میں پلنے والے بچوں سے بھی بدتر دیکھی جاسکتی ہے جن کا نہ کوئی پرسال حال ہے نہ کوئی وارثی کرنے والا سوائے ان تباھہ شہروں کے آثاروں کے جو کمائو پوتوں کے طرح سرکار اور ادارے کو حرام حلال کماکے دے رہے ہوتے ہیں یا جن پر رحم کھاکر بین الاقوامی ادارے حرام کے نوالے ان کے حلق میں پھینکتے رہتے ہیں جیساکہ "مہیں جو دڑو”۔ باقی بشمول جھوکر جو دڑو، چنہو جو دڑو، دھامراھا جو دڑو جیسے ہزاروں نایاب تہذیبوں کے گہوارے شہر ولہی جو دڑو کی طرح تباھہ ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ اب چاول، گیہوں اور سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں اور اس بات سے بی نیاز کہ ان کے جتے ہوئے بیوں کا ہل زمین کا نہیں بلکہ ان کی تہذیب کا سینہ چھلنی کررہا ہوتا ہے۔ مگر اپنے شاندار تہذیبی، سائنسی اور سماجی ورثوں سے بی نیاز ہماری جاہل قوم ماضی کی شاندار روایات کی یادوں کا آفیم منہہ میں ڈالے ڈھونگی برہمچاریوں، شاعروں اور گھٹنے ٹوٹے صوفیوں کے پیچھےگونگے ریوڑوں کی طرح چلے جا رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :انٹر بورڈ کراچی کے نام پر آن لائن فراڈ کا انکشاف

یہی کچھہ کئی سال سے باڈھہ کے مغربی حصے میں واقع آدھاٹ جو ڈڑو کے ساتھہ ہوتا رہا کہ "اسی شہر کے باشندوں نے آہستہ آہستہ اس کے آثاروں پر گھر بنانے شروع کئے اور وہاں کی قیمتی مٹی اٹھا اٹھا کر اپنے صحنوں، مکانوں اور دوکانوں میں بھرتے رہے اور آج صرف آڈاٹ کا نام رہہ گیا ہے اور تھوڑا زمینی حصہ باقی رہہ گیا ہے ۔

دھامراھا جو دڑو کے آثاروں کو منظرِ پر لانے کا سہرہ بھی سندھی تاریخ کے محسن این جے مجمدر کے سر ہے جس نے اس مقام کا نام ان ٹیلوں سے جنوب قریب میں واقع دھامراھا گائوں کی نسبت سے رکھا تھا جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب “Exploration in Sindh” ” میں بھی کیا ہے۔ 1928ع مسٹر ڈکسٹ نے بھی کچھہ دن یہاں کیمپ لگائی تھی مگر اس دور میں چوں کہ دنیا بھر کی دلچسپی مہیں جو دڑو کی طرف مائل تھی اس لئے دیگر تمام آثاروں پر زیادہ دھیان نہیں دیا گیا۔

ماہرینِ اثریات دھامراھا جو دڑو کے قریبن ایک کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ان ٹیلوں کو "بدھہ کے دور” کی باقیات سے گردانتے ہیں مگر بیشتر ماہروں کا یہ بھی خیال ہے کہ "یہ شہر مہیں جو دڑو کا ہم عصر ہے” کیوں کہ یہاں سے بیشمار مہیں جو دڑو کی نمائندہ اشیا ہاتھہ آئی ہیں۔ اس تباھہ شدھہ شہر کے آثاروں میں سینکڑوں چھوٹے اور درمیانےٹیلوں کی نشانیاں ہیں جو انتہائی شمال مغرب میں سب سے زیادہ ہیں جبکہ یہاں بڑے ٹیلوں کی تعداد چار ہیں جو شمال مغرب میں دھامراھا گاؤں تک پھیلے ہوئے ہیں ۔

مذید پڑھیں :وزیر تونائی کا اپنا شہر توانائی کیلئے چیخ اٹھا

ان تمام ٹیلوں کی منصوبہ بندی سرکیولر اور اشکال مخروطی ہیں۔ بڑے ٹیلے کے مشرقی طرف اینٹوں کے بھٹوں کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں جو سندھی تہذیب کے کسی مہذب شہر کے وجود کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں گھومنے والوں کہ اکثر پکی مٹی کے بنے ہوئے کھلونے ، کانسی سے سکے ، پکی اینٹیں ، پکی مٹی کے مختلف ٹکڑے ، چھوٹی بڑی صراحیاں ، مختلف مجسمے مجسمے ، پائپوں کے ٹکڑے، وغیرہ ملے ہیں۔ دس پندرھہ سال پہلے جانے پر چھوٹے، بڑے اور بہت بڑے برتن بھی زمین میں ادھہ گڑے پڑے ملتے تھے جنہیں ہماری لاوارثی کے سبب چوطرف موجود دیہات کے مکین کھیل کھیل میں توڑتے ہوئے لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے ورزشین آزماتے ہوئے ملتے تھے۔ اکثراوقات یہاں سے سونے، پیتل اور چاندی کی مختلف اشیاء بھی ملا کرتی ہیں خاص طور پر برسات ہونے کے بعد اس لئے ابرِ کرم کے بعد مختلف دیہاتوں سے یہاں لوگ چیزیں ڈھونڈھتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے اس شہر کے آثاروں کو چاروں طرف سے انسانوں نے چیونٹیوں کی طرح گھیر کر سینکڑوں گھر بنالئے ہیں جو اب معروف دیہات بن چکے ہیں جیسے شمالی ٹیلے پر جلبانی قوم نے آٹھہ دس بڑے بڑے بنالئے ہیں اور دیگر جنوبی ٹیلوں کے ایک بڑے حصے پر بھی جلبانیوں اور بروہیوں نے سینکڑوں گھر، باڑے اور بیٹھکیں بنالی ہیں۔ تین دن پہلے بھی 20 مارچ 2021ع کو جب میں وہاں گھومنے گیا تو اس حصے میں تین چار گھر زیرِ تعمیر تھے۔ مجھے وہاں کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک لڑکے نے بتایا کہ "نہ صرف ان گھروں کو بنانے کیلئے بلکہ ان گھروں میں بھرنے کیلئے بھی مٹی ان ٹیلوں سے اٹھائی جاتی ہے”۔ یہاں تک نزدیکی زمینوں والے بھی اپنی زمین کی سطح بڑہانے اور کھڈے وغیرہ بھرنے کیلئے ٹریکٹروں پر ان آثاروں کی مٹی اٹھاکر ڈمپ کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان آثاروں پر جگہ جگہ مٹی اٹھانے کے آثار ملتے ہیں اور کئی جگہوں پر اسی سبب اب بڑے بڑے گڑہے بن چکے ہیں ۔

دھامراھا جو دڑو پر بنے ہوئے سینکڑوں لوگوں سے اپنی تہذیب کو تباہ کرنے سے متعلق بات کرو تو مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ سندھی قوم تو اپنی تہذیب سے پیٹھہ کئے ہوئے ہے مگر اب آثارِقدیمہ والوں نے بھی اس شہر کی وارثی سے ہاتھہ اٹھالئے ہیں کیوں کہ بڑے افسروں جیسے کہ ڈی جی ، سیکریٹری اور وزیروں مشیروں کہ ان معصوم ٹیلوں کی نہ اہمیت کا احساس ہے نہ قیمت کا جن کے اندر اب بھی سندھو ماتھرکے آثار اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ اپنی طرف سے چھوٹے چھوٹے افسر و کلرکان لوگوں کو ہٹانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں مگر ان سے کچھہ نہیں ہوسکتا اور اب یہ عالم ہے کہ ہر روز ان آثاروں پر کوئی نہ کوئی نیا گھر بنتا ہے جو سندھو ماتھر کا ایک اور نشان تباھہ کر دیتا ہے۔

مذید پڑھیں :کراچی کے مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ

دھامراھا جو دڑو کے آثاروں کو روینیو رکارڈ میں "پرانہ بڈ” کہاجاتا ہے جس کی ایراضی کا ایک بڑا حصہ ان آثاروں کے شمال مغرب میں بسنے والےکھوکھر قوم کے لوگوں نے روینیو میں دے دلاکر اس "پرانے بڈ” کی زمین اپنے نام کروالی ہے اور اب اس میں فصلیں کاشت کر رہے ہیں باوجود اس کے کہ اس غیرقانونی حرکت اور جرم کے خلاف نہ صرف گائوں کے کچھہ لوگوں نے بلکہ آرکیالوجی والوں نے بھی کورٹ میں قبضہ داروں اور روینیو ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داروں کے خلاف دس پندرھہ سالوں سے کچہری میں معاملا ڈالاہوا ہے۔ روینیو کے بالا افسران نےکی کورٹ میں بھی یہ کیس آئے دن جاتا رہتا ہے مگر وہ بھی اپنے پٹواریوں اور حواریوں کے خلاف کچھہ نہیں کرتے اور اکثر مختیارکار و افسران کہتے ہیں کہ "یہ تو پرانہ بڈ ہے آثارِ قدیمہ کی تو زمین نہیں ہے”۔

مہیں جو دڑو کے کیوریٹر نے بھی تہذیب کے ان دشمن مافیائوں کے خلاف کورٹ میں کیس لگایا ہوا ہے مگر اب تو عدالتوں میں منصف بھی اندھے بہرے بیٹھے ہیں اور یہاں بھی پیسہ کے ساتھہ بہت بڑا مہنگا وکیل ہوتو کبھی کبھی حقدار کو حق مل بھی جاتا ہے ورنہ اب "انگریز کا قانون تو ہے نہیں” جو بڑے بڑے کو کھاتے میں نہیں لاتے تھے۔ کیس چلتا رہتا ہے گھر بنتے رہتے ہیں اور سنی دیول کی دامنی والی وہی شکایت "تاریخ پہ تاریخ” ڈلتی رہتی ہے۔ اور اس قسم کے قومی، تہذیبی، تاریخی اور تمدنی جرائم میں آنکھیں بند کئے ہوئے ڈھگوں جیسے منصف اور اربابِ اختیار ان مجرموں کا ساتھہ دیتے ہوئے (جنہیں پھانسی پہ چڑہایا جانا چاہیے )قوم کو باور کراتے رہتے ہیں کہ یہاں "انصاف سے قاتل بڑا ہے” قانون یا حق نہیں ۔

کچھہ سال پہلے یہاں صرف ایک راستہ ہوا کرتا تھا مگر اب دیہاتیوں نے اپنی اپنی سہولتوں کے انوسار چھوٹے بڑے راستے بنالئے ہیں جن میں سے ایک بڑا راستہ تو دو بڑے ٹیلوں کے درمیاں سے بھی بنا لیا ہے۔ مردے پر سو درے کے مصداق دھامراھا جو دڑو کے بڑے ٹیلے کے ساتھہ ہی واپڈا والوں نے ہاءِ ایکسٹینشن کا ایک تھنبہ لگا لیا ہے جس کی وائرنگ کے نیچے سے گزرتے ہوئے گاڑیاں سنسناجاتی ہیں، موٹرسائیکل شاک لگاتی ہے تو پیدل گھومنے والوں کو بھی اپنے وجود میں بھنبھنائٹ محسوس ہوتی ہے تو کئی دہائیوں سے اس قسم کی خطرناک تنصیبات سے ان ادھہ مرے آثاروں پر کیا بیتتی ہوگی یہ تو وہی جانتے ہیں یا وہ جو احساس، علم یا دردر رکھتے ہیں۔

لاوارثی کی پوشاک اوڑھے سندھو ماتھر کے یہ عظیم و قدیم شہر کے اونچے ٹیلے صدیوں سے آج تک سر اٹھائے اپنی قوم کی ایسی غیور نسل کیلئے جھانک رہے ہیں جو مٹی کا نقاب اٹھاکر ان کی سنہری تاریخ کو دنیا کے سامنے اجاگر کر سکے مگر اب ہمارے تشخص کا یہ عظیم سرمایہ ہماری ہی لاپرواہی اور مجرمانہ حرکتوں کے سبب اپنے وجود کی آخری جنگ بھی ہارتے ہوئے نظر آتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *