بارش تھی، ہم تھے اور گھنی ہو رہی تھی شام​

تحریر : احسان کہاٹی

بارش تھی، ہم تھے اور گھنی ہو رہی تھی شام​
تم نے لیا تھا کانپتے ہونٹوں سے میرا نام​

میں نے کہا تھا، آؤ یونہی بھیگتے چلیں​
اِن راستوں میں دیر تلک گھومتے رہیں​

میری کمر میں ہاتھ یہ پھولوں سا ڈال کر​
کاندھے پہ میرے رکھے رہو یونہی اپنا سر​

ہاتھوں کو میں کبھی،کبھی بالوں کو چوم لوں​
دیکھو میری طرف تو میں آنکھوں کو چوم لوں​

پانی کے یہ جو پھول ہیں رُخ پر کھلے ہوئے​
اِن میں دھنک کے رنگ ہیں سارے گھلے ہوئے​

ہونٹ سے اِن کو چُنتے رہیں خوش دِلی کے ساتھ​
تارے ہمیں تلاش کریں، چاندنی کے ساتھ​

یونہی کسی درخت کے نیچے کھڑے رہیں​
بارش کے دیر بعد بھی لپٹے کھڑے رہیں​

تم نے کہا تھا “آؤ چلیں، رات آ گئی​
دل جس سے ڈر رہا تھا، وہی بات آ گئی​

بیتے سمے کی یاد ہی رستوں میں رہ نہ جائے​
یہ دل کہیں وصال کی بارش میں بہہ نہ جائے​

کچھ دیر ایک چُپ سی رہی درمیاں میں​
گرہیں سی جیسے پڑنے لگی ہوں زباں میں​

یک دم گِرا تھا پھول کوئی شاخسار سے​
دیکھا تھا تم نے میری طرف اضطرار سے​

بارش میں بھیگتے ہوئے جھونکے ہوا کے تھے​
وہ چند بے گمان سے لمحے، بلا کے تھے​

نشہ سا ایک چاروں طرف پھیلتا گیا​
پھر اس کے بعد میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *