نہاں نہیں ہوں، عیاں نہیں ہوں، کہاں نہیں ہوں؟

کلام : وجیہ ثانیؔ

نہاں نہیں ہوں؟ عیاں نہیں ہوں؟ کہاں نہیں ہوں؟
یہاں نہیں ہوں؟ وہاں نہیں ہوں ؟ کہاں نہیں ہوں؟

میں چھا چکا ہوں تمھارے ہوش و حواس پر بھی
یقیں نہیں ہوں؟ گماں نہیں ہوں؟ کہاں نہیں ہوں؟

مجھے چھپانے ۔۔۔ مجھے بتانے سے کیا ملے گا
خفی نہیں ہوں؟ بیاں نہیں ہوں؟ کہاں نہیں ہوں؟

تو مان لینا کہ وہم تھا میں سراب تھا میں
اگر رگوں میں رواں نہیں ہوں؟ کہاں نہیں ہوں؟؟

یہ جان لینا کہ جھوٹ، دھوکہ، فریب تھا میں
اگر بہ نوکِ سناں نہیں ہوں۔ کہاں نہیں ہوں؟

ابھی تو فکر و خیال میں گم سوال ہوں میں
نہیں،نہیں ہوں یا ہاں، نہیں ہوں! کہاں نہیں ہوں؟

“نہیں” پہ بولی بلا کی حاضر جواب لڑکی
حسیں نہیں ہوں؟جواں نہیں ہوں؟کہاں نہیں ہوں؟

کہاں پہ ڈھونڈیں؟ کہاں ملو گے؟ کہاں ہو ثانیؔ ؟؟؟
وہیں ملوں گا۔۔ جہاں نہیں ہوں! کہاں نہیں ہوں؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *