قربانیاں ان کی یاد رہیں گی

قربانیاں ان کی یاد رہیں گی
تحریر : توقیر الحسن سیماب

میری زندگی کے کچھ دن ایسے ہیں جن کے بارے میں مجھے رب تعالیٰ سے قوی امید ہے کہ وہ مجھے ان کے بدلے بخش دے گا ان میں سے ایک دن آ ج کا یادگار ترین دن ہے کہ ایسی سعادت مجھے پہلی بار نصیب ہوئی رات کو حافظ عبد الوحید جدون کا فون آ یا پوچھا کہ کل کی کیا مصروفیت ہے جواب میں حسب روایت دنیاوی بکھیڑے گن گن کر ان کے گوش گزار کیے دوسری طرف جدون صاحب بڑے تحمل سے میری باتیں سنتے رہے جب میں نے اپنی بات ختم کی تو فرمانے لگے ایک سعادت کا کام کرنا ہے قرعہ آپ کے نام نکلا ہے میں نے جلدی سے پوچھا جلدی بتاءیں کیا کام ہے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولے آ پ کو علم ہے کہ ہمارے ہری پور میں ایک ایسی فیملی ہے کہ جن کے سربراہ ناموسِ صحابہ پر قربان ہو گئے ہیں جی ہاں عظمت صحابہ کی خاطر شہید کیے گئے ہیں آپ نے ان کی بیوہ اور یتیم بچوں کو لے کر خان پور ڈیم آ نا ہے میں نے فورا ہاں کر دی کیوں کہ روپیہ پیسہ تو پھر بھی مل جاتا ہے لیکن ایسی سعادت بار بار نہیں ملتی ۔۔۔خوشی کے مارے رات بھر نیند نہیں آئی صبح جب نکلنے لگا تو اہلیہ بھی تیار ہو گئیں کہ ایسی سعادت مندی نہ جانے پھر کب نصیب ہو قاید اہل سنت والجماعت علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب کی آمد کی اطلاع تھی جلدی جلدی خان پور پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ پنڈی اسلام آباد کے شہدا کی فیملیاں اپنے بچوں کے ساتھ تشریف لائی ہوئی ہیں ۔۔

اچھا آ ج شہدا ڈے ہے ۔۔۔بیواہ اور یتیم توبہت دیکھے لیکن ایسے بیوہ اور یتیم نہیں دیکھے کہ جن پر آسمان کے فرشتے بھی رشک کریں جن کے شوہر اور باپ ناموسِ صحابہ پر قربان ہو گئے بلاشبہ کائنات کے عظیم ترین خاندان یہاں جمع تھے جلدی سے ہوٹل کے اندر گیا تو حیران رہ گیا سامنے جانشین اعظم طارق مولانا معاویہ اعظم ایم پی اے ۔مولانا مسعود الرحمن عثمانی۔مولانا رب نواز حنفی۔ مفتی تنویر عالم مولانا عبد الرحمن معاویہ تشریف فرما تھے تھوڑی دیر بعد قاید اہل سنت والجماعت علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب بھی تشریف لے آئے ان کے پیچھے مولانا عبد الوحید جدون مولانا بابر ربانی بشیر معاویہ اور وسام فاروقی بھی آن پہنچے

یہ شہداء کے پاکیزہ خون کی برکت تھی کہ اتنی عظیم ہستیاں جنھیں دیکھنے کو آ نکھیں ترستی تھیں آ ج ایک ساتھ ایک جگہ مل گئیں۔ مفتی عمر مولانا رمضان ملک عبد الحمید مہمانوں کی خدمت میں پیش پیش تھے تھوڑی دیر بعد میدان میں اترے شہداء کے بچوں کے ساتھ کرکٹ میچ شروع ہوا علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب نےشاید آفریدی کی طرح چھکے چوکوں کی بوچھاڑ کر دی جب کہ مولانا معاویہ اعظم میانداد کے انداز میں کھیلتے رہے پھر کشتی کی سیر کروائی گئی پانی میں بھی شہداء کے بچوں نے بھائی عبداللہ کی قیادت میں واہ صحابہ واہ کے نعرے بلند کیے تو یقین ہو چلا کہ بچوں کی تربیت میں شہداء کی بیواؤں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ان کے حوصلے ہمالیہ کی طرح بلند ہیں اتنے ۔میں معروف نعت خواں عبد الشکور برادران قاری صفی اللہ بٹ بھی تشریف لے آئے قاید اہل سنت والجماعت علامہ اورنگزیب فاروقی نے مختصر بیان کیا خدا کی قسم خود بھی روتے رہے اور سب کو خوب رلایا۔۔۔۔۔جاری ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *