ترکی کے بیرقدار کی کہانی❤

وہ ایک 26 سالہ نوجوان تھا، جو ترک یونیورسٹی میں Electrical Engineering میں ماسٹر کرکے امریکا کی University of Pennsylvania میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے ایک چھوٹا سا ڈرون طیارہ بنایا۔

یہ ترکی میں کار ساز کمپنی کے مالک کا بیٹا تھا۔ اس نوجوان نے ترک حکام کو بھی اپنا یہ ننھا طیارہ دکھایا، جو کھلونا ہتھیار اٹھا کر اس کے ہاتھ سے اڑا اور ہدف پر فائر کرکے واپس اس کے ہاتھ میں آکر لینڈ کیا۔ نوجوان نے ترک حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر اسے کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ حالانکہ اس وقت ترکی کو ڈرون طیاروں کی سخت ضرورت تھی۔

اسرائیل سے پانچ سالہ طویل مذاکرات کے بعد بھی ڈرون کا حصول ممکن نہ ہوسکا۔ امریکا نے بھی ہری جھنڈی دکھا دی۔ اس دوران مایہ ناز امریکی ادارے Massachusetts Institute میں اس نوجوان نے ڈرون ٹیکنالوجی پر ایک Scientific research پیش کی اور عالمی توجہ حاصل کی۔ مگر اس نے امریکا میں ہر قسم کی مراعات کو ٹھکرایا اور اپنے وطن کی خدمت کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے خلائی سائنسدان “ڈاکٹر یار جان عبد الصمد” کی کہانی

2007 میں وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ترکی واپس آگیا اور ڈرون طیارے بنانے پر جت گیا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس کی کمپنی نے 19 لڑاکا ڈرون طیارے بنا کر ترک فوج کے حوالے کردیئے۔ پھر تو اس کی دھوم مچ گئی۔

صدر اردگان نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سمیہ اردگان کی شادی اس نوجوان سے کرادی۔ اس نوجوان کا نام سلجوق بیرقدار ہے۔ اسی کے نام سے ترکی کے ڈرون طیاروں کا نام رکھا گیا ہے۔ جو شام کے بعد ارمینیا کی جنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔

اب سعودی عرب بھی یمن جنگ میں آخری آپشن کے طور پر یہی طیارے خرید رہا ہے۔ جن کا شمار دنیا کے جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں میں ہونے لگا ہے۔ (الجزیرہ)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *