صلیب و آگ کی جنگ

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

خوف کے مارے بچوں، بڑوں اور بوڑھوں کے چہرے فق ہو چکے تھے۔ انہیں سوتے ہوئے بھی گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سُنائی دیتی تھی ۔۔۔
"کیا ہونے والا ہے ؟” میشی نے اپنی بڑی بہن سے پوچھا۔
"تباہی ۔۔۔ تلواریں ٹکرائیں گی اور خون بہایا جائے گا ہر طرف چیخ و پکار اور آگ ہی آگ ہو گی "۔
"کیا کہہ رہی ہو؟ اریج !”
"ہاں !دوسال پہلے بھی یہ ہی ہوا تھا رومیوں نے ہماری پوری بستی جلا ڈالی تھی ، آگ کے بیٹوں کو اپنی تلواروں سے کاٹ ڈالا تھا۔ بہت ظلم کیا تھا بچوں اور عورتوں کسی کو نہیں چھوڑا تھا، ظالموں نے”۔ عرودون نے مقدس آگ کو دیکھ کر تعظیماً نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
"لیکن ابا ! ہم اس آگ کی پوجا کیوں کرتے ہیں جسے ہم خود جلاتے ہیں یہ ہماری خدا کیسے ہو سکتی ہے؟”
"کیسی باتیں کرتی ہے ؟ مقدس آگ جلا کر بھسم کر دے گی”۔ میشی کو اپنے ابا کی بات پر ہنسی آ گئی ۔۔۔
عرودون نے ایک زوردار تھپڑ اپنی بیٹی میشی کو مارتے ہوئے پوچھا: "تم ہنسی کیوں ؟ ”

مزید پڑھیں: 📜 دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ 📜

"ویسے ہی ابا ہنسی آگئی۔” میشی نے روتے ہوئے کہا۔
"یہ بیٹیاں ویسے بھی منحوس ہوتی ہیں”، آگ کے پجاری عرودون نے اپنی دونوں بیٹیوں کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"اے مقدس آگ ! ہمیں رومیوں سے بچا لے۔” عرودون نے اپنے دونوں ہاتھ آگ کے سامنے جوڑتے ہوئے کہا۔
عرودون کی آگ کے سامنے آہ و بکا نے پھر گھر کے ماحول کو وحشت میں تبدیل کر دیا سب ایک مرتبہ پھر رومی فوج کے خوف میں مبتلا ہو چکے تھے کہ آریان گھر میں داخل ہوا اور کہنے لگا۔ "بادشاہ نے فرمان جاری کیا ہے کہ جو بھی نوجوان ہے وہ اس جنگ میں ضرور جائے گا”۔
"لیکن میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے اور فصل بھی پکنے والی ہے میں اکیلے فصل نہیں کاٹ سکوں گا”، عرودون نے کمر سیدھی کرتے ہوئے کہا۔
"ابا ! میں بادشاہ سے بات کرتا ہوں کہ ہم پانچ بھائی ہیں اور چار بھائی اس جنگ میں بادشاہ کے ساتھ ہوں گے ایک بھائی کو ہم آپ کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ جائیں گے”،
"کیا بادشاہ مان جائے گا؟” عرودون نے پوچھا۔
” بات کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے ہم بات کر لیتے ہیں”۔
"اریج! یہ ابا جتنی محبت بھائیوں سے کرتا ہے ہم سے کیوں نہیں کرتا” میشی نے سوال کیا ۔
"معلوم نہیں اور اریج کی آنکھوں سے آنسو نکل کر زمین میں جذب ہوگئے”۔

مزید پڑھیں: توہینِ انبیاء کیس کی مُلزمہ کا شہر سے فرار ہونے کا انکشاف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روم کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"سُنا ہے اس دفعہ قیصر ایران پر حملہ کرنے جا رہاہے”۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟ ” ایریل نے پوچھا۔
"کیوں کیسے ممکن ہےکیا مقصد ؟” جوی نے پوچھا۔
"میں نے سُنا ہے قیصر کے پاس رقم نہیں جنگ لڑنے کے لیے”
"ہاں !تم نے ٹھیک سُنا ہے لیکن کلیسا کے تمام پادریوں نے قیصر کو بھاری سود پر قرضہ دیا ہے یہ جنگ لڑنے کے لیے”۔
"اوہو!!! کاش کہ یہ اچھا ہوتا، اس سے پہلے ہونے والی جنگوں میں ان آگ کے پجاریوں نے بہت ظلم ڈھائے تھے، بہت سارے لوگ اس جنگ میں معذور ہو گئے، گھروں کو لوگوں سمیت آگ لگا دی گئی، بہت سارے لوگ مارے گئے”، ایریل نے بتایا
"ہاں ! میں نے بھی سُنا تھا، لیکن ایریل ! اگر وہ آگ کے پجاری یہاں تک آ گئے تو”۔

مزید پڑھیں: گستاخ انبیاء کی گرفتاری کیخلاف تمام مسالک کے علما کا احتجاج شروع

"ایسی بات بھی منہ سے نہیں نکالو” ایریل نے خوف زدہ ہوتے ہوئے کہا ۔
"قیصر وکسریٰ کی برسوں سے یہ جنگ جاری ہے، کبھی قیصر جیت جاتا ہے اور کبھی کسریٰ، ظلم تو دونوں طرف سے ہی ہوتا ہے نا !” ایریل۔
"ہاں مگر ہم کیا کر سکتے ہیں ؟” ایریل نے کہا۔
"آخر یہ جنگ کب تھمے گی ؟” جوی نے پوچھا۔
"شاید کبھی نہیں ۔۔۔” ایریل نے آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں فادر (پادری) سے پوچھوں گی ۔” جوی نے کہا۔
"پوچھ لینا ان کے پاس بھی اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔” ایریل نے یقین کے ساتھ کہا۔
"میں اس اتوار گرجا گھر جاؤں گی تو فادر سے معلوم کروں گی۔” جوی نے کہا۔
"کر لینا اپنا شوق پورا” ایریل نے سرجھٹکتے ہوئے کہا۔

مزید پڑھیں: انگریزی کی کتاب سے آخری نبی ﷺ کے الفاظ سازش کے تحت ہٹائے گئے : عامر مرتضیٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایران کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔
"عرودون کو پریشانی کا سامنا تھا وہ سوچ رہا تھاکہ کیا بادشاہ اس کے بیٹے کو اس کے پاس رکنے کی اجازت دے دے گا؟ ہاں ! بالکل بادشاہ کو ایک بیٹے کو میرے پاس رکنے کی اجازت دے دینی چاہیے کیوں کہ میرے چار بیٹے تو اس کے ساتھ جنگ لڑنے جا رہے ہیں”، عرودو ن نے سوچا اور سونے کے لیے لیٹ گیا ۔۔۔
بادشاہ کا لشکر جنگ کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ چاروں طرف فوجی ہی فوجی نظر آ رہے تھے۔ آگ کا ایک الاؤ روشن تھا۔ عرودون کا بڑا بیٹا ! بادشاہ کے خیمے میں داخل ہوا اور بادشاہ کو سجدہ کرنے کے بعد بولا ، "بادشاہ سلامت ! آپ کے غلام یہ جنگ لڑنےکے لیے تیار ہیں۔ مقدس آگ ہمیشہ جلتی رہے مجھے آپ سے ایک عرض کرنی تھی”۔
"ہاں بولو !” بادشاہ نے رعونت سے کہا۔
"بادشاہ سلامت ہم پانچ بھائی ہیں، اگر آپ کی اجازت ہو توہم میں سے ایک بھائی والد کی خدمت کے لیے رک جائے”۔
"بادشاہ نے گھور کر عرودون کے بیٹے ابان کو دیکھا اور کھڑے ہوتے ہوئے کہا : "کہاں ہے تمہارا وہ بھائی جسے تم اپنے باپ کی خدمت کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتے ہو؟”
ابان نے اپنے بھائی کو بلانا چاہا تو بادشاہ نے اسے روک دیا ہم خود تمہارے بھائی سے ملیں گے اور خیمے سے باہر نکل آیا۔
باہر نکل کر ابان نے بتایا کہ "یہ میرا چھوٹا بھائی ہے جسے ۔۔۔۔”

مزید پڑھیں: نویں جماعت کی انگریزی سے آخری نبی ﷺ اور صحابہ کے نام غائب

"جسے تم اپنے باپ کی خدمت کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتے ہو اور ادھر ہم سب جنگ میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگ اور خون سے کھیلنے جا رہے ہیں”۔ بادشاہ نے ابان کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
"بادشاہ سلامت آپ کی اجازت ہو گی تو ٹھیک ورنہ یہ بھی جنگ میں ساتھ چلے گا”، ابان نے بادشاہ کا ارادہ بھانپتے ہوئے کہا۔
"نہیں یہ ساتھ نہیں جائے گا” اور تلوار نکال کے ایک ہی وار میں ابان کے بھائی کے دوٹکڑے کر دئیے اور اپنے محافظوں سے کہا "اس کے جسم کے ایک دھڑے کو لشکر کے شروع میں اور دوسرے کو آخر میں رکھ دو”۔۔۔
محافظوں نے ایسا ہی کیا اور پورا لشکر بینڈ بجاتا ہوا گزر گیا ۔
عرودون کے گھر جب یہ خبر پہنچی تو وہ تڑپ کر رہ گیا۔ میشی اور اریج کے آنسو نہیں رک رہے تھے، زبان پر صرف ایک صدا تھی "یہ ظلم کب تھمے گا؟ کیا کوئی نجات دہندہ آئے گا؟ کیا ہمیں ان دکھوں، غموں سے نجات ملے گی؟”

مزید پڑھیں: سینٹ میں نبی کریم ﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبین لکھنے کی قرار داد منظور ہونا خوش آئند ہے : مجلس تحفظ ختم نبوت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوی اتوار کے دن چرچ پہنچی عبادت کے بعد اس نے پادری سے پوچھا: "فادر! یہ جنگیں کب ختم ہوں گی ہمارے کئی نوجوان اس آگ میں جل کر راکھ ہو گئے۔۔ پھر ہم خواتین اور بچے تو اس جنگ میں شریک بھی نہیں ہوتے۔ ان سے لڑتے بھی نہیں ہیں پھر بھی یہ ہم بچوں اور خواتین کو اپنی طاقت دکھاتے ہیں”۔۔
"ہمارے رومی فوجی بھی تو یہ ہی کرتے ہیں”۔ پادری نے سچائی کے ساتھ کہا۔
"فادر ! یہ کتنے ظالم لوگ ہیں ہمیں کب ان سے نجات ملے گی ؟” جوی نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔
"بہت جلد بیٹا! بہت جلد وہ ذات جس کا نام فارقلیط ہے وہ عرب کی سرزمین پر پیدا ہوں گے۔ وہ آخری نبی ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ان کے آنے کے بعد ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے”۔
پادری نبی آخر الزماں ﷺ کے اوصاف بیان کررہا تھا اور جوی اپنی سوچوں میں ظالموں کا عبرت ناک انجام سوچ رہی تھی ۔۔۔
"وہ کب تک تشریف لائیں گے۔” جوی نے امید کے ساتھ پوچھا۔
"بہت جلد جوی ۔۔۔ بہت جلد ۔۔۔ ” پادری نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا۔
پیارے بچو! قیصر و کسریٰ کی ظالمانہ طاقتوں کے خاتمے کا وقت قریب آچکا تھا ۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *