جہات : استاد کی رحلت

جہات : استاد کی رحلت
تحریر : عنایت شمسی

ہر انسان ایک متعین عمر اور مقررہ وقت اور مدت لے کر دنیا میں آتا ہے اور وقت مکمل، عمر پوری ہوتے ہی موت سے ہم کنار ہو کر اگلی منزل کی طرف روانہ ہوجاتا ہے۔ موت سے کسی کو مفر نہیں، ہر ذی روح اور جاندار کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ سال گزشتہ بر صغیر پاک و ہند میں بے شمار جبال علم کی زندگیوں کا آفتاب غروب ہوا اور علم کی دنیا کا شفق ان کی جدائی کے غم میں مسلسل ڈوبا رہا۔ رواں سال بھی اب تک موجودین کو کئی اہم دینی و علمی شخصیات کی موت کا دکھ سہنا پڑا ہے اور اب ایک اور علمی شخصیت، صحافت کے بزرگ استاد پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ صاحب بھی رہروانِ آخرت کے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں۔

پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ صاحب سر تا پا صحافت تھے، صحافت ہی ان کی اول آخر پہچان اور شناخت تھی۔ متین صاحب ان رجال کار میں سے تھے، جو اپنی عملی زندگی کا ایک واضح رخ متعین کرتے ہیں اور پھر پوری زندگی اسی خاص سمت اپنا سفر جاری رکھتے اور اسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا عرق نچوڑتے ہیں۔ متین صاحب نے سوچ سمجھ کر اپنی عملی زندگی کیلئے صحافت کے شعبے کو منتخب کیا اور عمر عزیز کا بڑا حصہ اس شعبے میں متنوع خدمات کی انجام دہی میں صرف کیا۔ انہوں نے بڑے نا مساعد حالات میں محنت، شوق اور لگن سے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور پھر صحافت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، اس وقت تک صحافت کے میدان میں خدمات انجام دیتے رہے جب تک جسم و جاں کی توانائی نے ساتھ دیا۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں اس وقت قدم رکھا، جب یہ میدان، میدان کار زار تھا۔ سرمائے کی کشش نہیں تھی، نظریے اور جذبے کو ہر مفاد پر ترجیح حاصل تھی اور لوگ نظریاتی بنیاد پر ہی اس کوچے کا رخ کرتے تھے۔ یہ کردار کے امتحان کا دور تھا، وہی اس میدان میں جم پاتا تھا جو کردار کا پختہ اور کھرا ہوتا۔ یہ وہ وقت تھا جب نامور اور با صلاحیت صحافیوں کی ایک کھیپ اس میدان میں اپنا کلہ گاڑے ہوئے تھی۔ یہ ابو الکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان، عبد الماجد دریابادی، غلام رسول مہر، عبد المجید سالک، شورش کاشمیری، ماہر القادری جیسے اساتذہ اور ان کے رفقا و شاگردوں کی صحافت کے عروج کا عہد تھا۔ جہاں کردار اور نظریے کی سچائی کو اہمیت تو تھی ہی فنی مہارت کا بھی اپنا ایک مقام تھا، نظریہ اور کردار میں خام شخص چل پاتا تھا اور نہ ہی فن پر مکمل دستگاہ کے بغیر یہاں کسی کی دال گلتی تھی۔ متین صاحب نے اس ماحول میں صحافت کی راہ چنی اور مردانِ کار سے اعلیٰ صلاحیتوں کی داد، تحسین و سند پائی۔

پروفیسر متین صاحب طویل عرصہ روزنامہ جسارت میں عملی صحافت سے منسلک رہے، جسارت کو صحافت کی نرسری کہا جاتا ہے۔ متین صاحب کے فن کوجسارت میں خوب جلا ملی، یہاں انہوں نے استاد صحافیوں اور اہل قلم سے عملی استفادہ کیا اور یہاں تک طاق ہوگئے کہ شہید صلاح الدین جیسے منجھے ہوئے صاحب قلم کی موجودی میں جسارت کا اداریہ آپ کے سپرد ہوا۔ بتاتے تھے اداریہ نویسی کا آغاز کیا تو ایک نو آموز کی طرح ”مشقِ سخن” کے کولہو میں جُتنا پڑا۔ سینئر اداریہ نویس بتلا دیتے اس موضوع پر لکھ لائیں۔ کافی محنت سے لکھ کر پیش کر دیتا تو موصوف (اللہ بخشے، اب تو مرحوم ہو چکے ہوں گے، نام یاد نہیں رہا) پہلی بار تو پڑھنا ہی گوارا نہ کرتے۔ اچٹتی سی نگاہ ڈال کر کہتے: متین صاحب دھار نہیں ہے… اور کاغذ پھاڑ کر کہہ دیتے دوبارہ لکھ کر لائیں۔ دوبارہ لکھ کر دکھا دیتا تو ایک نظر ڈال، ہنکارا بھر کر پھر وہی جھاڑ ہوتی کہ متین صاحب دھار نہیں ہے… فرمایا کرتے یوں تیسری چوتھی کوشش میں اداریہ پاس ہوجاتا۔ ریاضت کے اس ”فوجی” ماحول نے ہی جسارت کو صحافت کی نرسری بنادیا تھا ، جہاں سے لا تعداد نو آموز کندن بن کر نکلے اور نام بنا گئے۔

جسارت کا مزاج اور تربیتی ماحول متین صاحب کو ایسا بھایا کہ انہوں نے کسی اور صحافتی ادارے کا مستقل رخ کرنا گوارا نہ کیا۔ شہید صلاح الدین کی سرپرستی میں انہوں نے فن میں اس قدر درک و کمال حاصل کیا کہ صلاح الدین صاحب جیسے استاد صحافی اور ماہر اہل قلم ان پر بھرپور اعتماد کرنے لگے۔ انہی کے ایما پر کچھ عرصہ اردو نیوز جدہ سے بھی وابستہ رہے۔ بعد ازاں صلاح الدین صاحب نے تکبیر نکالا تو انہوں نے متین صاحب کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ تکبیر کے اداریے بڑے جاندار، معرکہ آرا، نپے تلے اور رجحان ساز ہوا کرتے تھے۔ بیشتر اداریہ متین صاحب ہی لکھتے تھے، مگر نام صلاح الدین صاحب کا ہی معروف تھا۔ متین صاحب نے ایک بار بتایا نواز شریف کے پہلے دور میں کسی تقریب میں صلاح الدین صاحب کا وزیر اعظم سے آمنا سامنا ہوگیا۔ وزیر اعظم نے صلاح الدین صاحب کی تحریر اور بالخصوص تکبیر کے اداریوں کی بڑی تحسین کی تو صلاح الدین صاحب نے انہیں بتایا تکبیر کا اداریہ تو ہمارے ٹیم ممبر متین الرحمن مرتضیٰ صاحب لکھتے ہیں، میں تو بلا وجہ ”بد نام” ہوں… یہ ان کا بڑا پن تھا، تاہم وزیر اعظم نے یہ سنا تو انہیں بڑی حیرت ہوئی اور انہوں نے متین صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ یوں متین صاحب کو نواز شریف کے پہلے دور میں ان کے تقریر نویس کا اعزاز حاصل ہوا۔

متین صاحب نے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے اور صحافت میں عملی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ صحافت کی تدریس بھی کی۔ وہ جامعہ کراچی میں صحافت کے استاد مقرر ہوئے اور شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ ہزاروں نوجوانوں نے آپ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے صحافت اور ابلاغ عامہ کے فن پر درسی اور معلوماتی مواد بھی تحریر کیا، جس سے ابلاغ عامہ کے طلبہ آج بھی استفادہ کر تے ہیں۔ متین صاحب کے تعلیم اور بعد ازاں پیشہ ورانہ زندگی کے اوائل میں نظریاتی کش مکش عروج پر تھی۔ کمیونزم کے نظریات بالخصوص نوجوانوں کے ذہنوں میں مذہب بیزاری کا زہر انڈیل رہے تھے۔ ایک طوفان تھا جو ہر تعلیم یافتہ نوجوان کے دل و دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ متین صاحب بھی اس لہر میں بہہ گئے اور کچھ عرصہ کمیونزم سے متاثر ہو کر ایشیا کے سرخ ہونے کی آرزو پالا کیے۔ بتاتے تھے کمیونزم کے ملحدانہ نظریے سے نکلنے میں مولانا مودودی کی تحریروں نے ان کی بڑی مدد کی، چنانچہ جماعت اسلامی سے عملی تعلق نہ ہونے کے باوجود وہ مولانا مودودی کو اپنا محسن مانتے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد وہ جامعہ الرشید کی مردم شناس نگاہوں میں آگئے اور استاد گرامی حضرت مولانا مفتی ابولبابہ شاہ منصور کے ساتھ جامعہ الرشید میں شعبہ صحافت کے قیام اور اسے پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔روزنامہ اسلام کا جب آغاز ہوا تو اس کے نو آموز لکھاریوں کی صحافتی تربیت آپ ہی نے کی۔اسلام کی موجودہ ٹیم کے بیشتر سینئر ارکان متین صاحب کے فیض یافتہ ہیں۔ وہ طویل عرصہ جامعہ الرشید میں فضلا کی جماعت کو صحافت کی تدریس کے ساتھ ساتھ روزنامہ اسلام میں ”بر سبیل دلیل” کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ اعذار اور عوارض کے ہاتھوں ضعف کا شکار ہو کر خانہ نشین نہ ہوگئے۔ طویل عرصہ لکھنے پڑھنے سے دوری کے بعد وہ منگل کی رات اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پاگئے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *