دینی عصری جامعات

تعکیمی اداے 25 جنوری کو کھولنے کا فیصلہ

دینی عصری جامعات
تحریر : ڈاکٹر اسحاق عالم

علم خواہ دینی ہو یا دنیوی، بہرحال وہ علم ہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بنائے گئے دینی اور عصری ادارے، بہرصورت ہماری پہچان اور پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ خالص دینی عالمِ دین ہو یا عصری جامعات سے علم کی شمع لے کر نکلنے والا ڈاکٹر، انجنئیر، صحافی یا سیاستدان، ہمیں ان سب کی ضرورت ہے۔
ایک طویل عرصہ تک ان دونوں طرح کے اداروں کے درمیان کافی دوریاں رہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب وہ دوریاں کسی حد تک ختم یا کمزور ہوئی ہیں اور مزید ہو رہی ہیں۔

اس بیچ کچھ ہی عرصہ میں فضا بڑی تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ عصری جامعات والے لوگوں کے دلوں میں دین پڑھنے کا اور دینی جامعات سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں عصری جامعات کی طرف متوجہ ہوکر مزید علم حاصل کرنے کا رجحان بڑھا۔ اس پر بھی اللہ کا شکر گزار ہونا لازمی ہے۔
لیکن ایک بڑی تبدیلی جس کا سارا کریڈٹ دینی مدارس والوں کو جاتا ہے وہ یہ کہ ان حضرات نے اپنے اداروں کا ایک خاص مزاج کافی حد تک تبدیل کیا جس کی وجہ سے عوام میں سے وہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں جو پہلے دور تھے۔ اس تناظر میں شہر کراچی میں دیوبند مکتب فکر کے دو ادارے نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں، جامعہ بیت السلام اور جامعۃ الرشید۔

مفتی عبدالستار صاحب بہت ہی خلوص کے ساتھ “جامعہ بیت السلام” کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں، انہیں اللہ پاک نے ٹیم بھی بڑی اچھی دی ہوئی ہے جو بھرپور طریقے سے ان کا ساتھ دیتی ہے۔ کراچی اور تلہ گنگ میں دو ایک جیسے ادارے قائم کرنا کسی آرٹ سے کم نہیں ہے۔ کراچی والا ادارہ گویا کراچی سے باہر ہے اور دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ واقعۃً جنگل میں منگل بناکر دکھایا ہے، نہایت ہی باصلاحیت اساتذہ اور طلباء ادارہ کی خوبصورتی کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ ان کا اسکولنگ سسٹم، تحفیظ اور درس نظامی کا نظم قابل تقلید اور تحسین ہے۔

مفتی عبدالرحیم صاحب “جامعۃ الرشید” کے روح رواں ہیں، نہایت ہی مستعد اور تخلیقی ذہنیت کے مالک ہیں جس کا اندازہ ان کے ادارہ کو دیکھ کر بخوبی ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے ادارہ کو ایک ماڈل کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کرنا یقیناً کسی کمال سے خالی نہیں ہے۔ جو چاہتے ہیں وہ ہر طرح کی تنقید برداشت کرتے ہوئے بڑی جرات کے ساتھ کر گزرتے ہیں، کافی اصلاحات کرچکے ہیں اور مزید کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ اس وقت “جامعۃ الرشید” سرکاری سطح پر بھی باقاعدہ توجہ حاصل کرچکا ہے۔

ان دونوں اداروں نے اپنے معیار پر سمجھوتا کیے بغیر عصرِ حاضر کے اسلوب کو اپناتے ہوئے اپنے ہاں کافی تبدیلیاں کیں، دینی اور عصری دونوں طرح کی تعلیم کو ایک چھت کے نیچے دوبارہ سے سجا لیا، چنانچہ پھر ان کی طرف لوگ بھی تیزی کے ساتھ متوجہ ہوئے۔ اس دوران جامعۃ الرشید کا “کلیۃ الشریعہ” کافی مقبول ہوا جس میں عصری اداروں سے گریجویشن کرلینے کے بعد طلباء آکر اپنی دینی و علمی پیاس بجھاتے ہیں اور کافی حد تک انہیں اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔

“جامعۃ الشیخ یحی المدنی” حال ہی میں ایک نیا ادارہ نہایت ہی قلیل وقت میں بڑی تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ مولانا محمد یوسف مدنی اس کے روح رواں ہیں۔ اس وقت اس ادارہ میں مختلف کورسز کے ساتھ مختلف تخصصات کا بھی انتظام ہے اور آئندہ سال سے یہاں چار سالہ “کلیۃ الدین” کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے اور عزم رکھتے ہیں کہ اسے پورے ملک میں پھیلادیں تاکہ عصری جامعات اور مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ مستفید ہوسکیں۔

سچ یہ ہے کہ ان اداروں کو دیکھ کر بہت مسرت ہوتی ہے اور دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ دینی اداروں کا اپنے محدود وسائل میں اس طرح کی گراں قدر خدمات پیش کرنا یقیناً قابل ستائش ہے۔ اور پھر عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی میدان میں لوگوں کی ضرورت کے مطابق خدمات پیش کرنے کے سبب اس طرح کے ماڈل اداروں کو “دینی عصری جامعات” کہنا شاید زیادہ مناسب ہوگا۔

دینی اداروں کی جانب سے اتنی واضح تبدیلی غیر معمولی ہے۔ جتنی داد دی جائے کم ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ جامعات مزید ترقی کی راہیں اپنائیں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *