اعتماد کا ووٹ، اسٹبلشمنٹ کا ٹوپی ڈرامہ ثابت ہوگیا،علماء و مشائخ

کراچی۔( )عمران خان نے اعتماد کا ووٹ اسٹبلشمنٹ کی پشت پناہی سے حاصل کیا، جس سے ٹوپی ڈرامہ ثابت ہوگیا۔ اگر سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ختم نہ ہوا تو پھر ملک میں حقیقی جمہوریت کا کبھی پروان نہیں چڑھ سکتی

ان خیالات کا اظہار ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر پاس کی گئی قرارداد میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سفیر امن پیرصاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی۔

اجلاس میں مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین، پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین نوری، پروفسیر ڈاکٹر مہربان نقشبندی،پروفیسر ڈاکٹر سعید،،سید مسرور ہاشمی، مفتی فیض الہادی، علامہ سید محسن کاظمی،محمد شاہ بخاری، دربار حقانی کے خلیفہ مجتبیٰ حسنین، شجاعت احمد صدیقی، احمد مہران گورایا ایڈوکیٹ، پروفیسر سعید ڈاکٹر محمود عالم آسی اور دیگر شریک تھے۔

مزید پڑھیں: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست بھی حکومت جیت گئی، مرزا آفریدی منتخب

قرارداد میں کہا گیا کہ ممبران کو ایک خط کے ذریعے باقاعدہ ہراساں کیا گیا کہ اگر وہ اسمبلی نہ آئے تو ان کو نااہل قرار دلایا جائے گا خط کے ذریعے باغی ممبران کو بلیک میل کرکے اور ایجنسیوں سے ہرا ساں کراکراعتماد کا ووٹ لیکر غیرجمہوری وزیراعظم اپنی تقریر میں تمام اخلاقی قدریں ہی بھلا دیتے ہیں۔

تکبر میں آکر اپوزیشن اور آئینی ادارے الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دے کر اپنے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کیس میں اپنے لیے نرم گوشہ چاہتے ہیں ایک وزیراعظم کی جانب سے آئینی ادارے کو بے جا تنقید کا نشانہ بنانا اور دھمکیاں دینا سراسر غیر آئینی غیر قانونی اقدام اور حلف سے انحرافی ہے جس کی علماء مشائخ سخت مذمت کرتے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد نقشبندی نے مریم اورنگزیب کے ساتھ پی ٹی آئی کارکنان کی بدتمیزی اور ہلر بازی اور ن لیگ کے رہنما احسن اقبال شاہد خاقان عباسی اور دیگر سے ہاتھ پائی کرنے اور جوتا مارنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی کا سربراہ خلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو اس کے کارکنان سے کچھ بعید نہیں

مزید پڑھیں: “اعتماد کا ووٹ اور شاہی نجومی”

انہوں نے کہا کہ اداروں کو چاہیے کہ وہ خود کو سیاست میں ملوث کرنے کے بجائے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں نہ کہ جعلی مینڈیٹ کے حاملوں کے پشت پناہی کریں ایسا نہ ہو کہ ایک مرتبہ پھر سانحہ مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرائی جائے حکومتی منفی اقدامات کے باعث ملک کے 22 کروڑ عوام جو مہنگائی بے روزگاری اقربا پروری بدعنوانی اور بدامنی کی چکی میں پسے ہوئے ہیں کیا وہ نظر نہیں آتے اداروں کو چاہیے کہ وہ ملک اور قوم کے مفاد میں غیر جانبدار رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور 22 کروڑ عوام کے حقوق کا تحفظ بھی کریں۔لہذا آئینی اختیارات سے تجاوز نہ کریں اور غیر جانبدار رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ 14 مارچ کو موجودہ ملکی سیاسی داخلی اور خارجی حالات کے کے حوالے سے ملک بھر کے علماء مشائخ کا اجلاس منعقد ہوگا۔جس میں پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے علماء مشائخ متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *