اردو بطور قومی زبان سرکاری سطح پہ کیسے نافذ ہو؟

پس منظر و دستوری حیثیت
🥀قومی زبان اردو کے نفاذ کا فیصلہ 25 فروری 1948کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا اور قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی /
🥀 1956کے دستور میں اردو کو بطور قومی و سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم دیا گیا۔
🥀1962 کے دستور میں بھی قومی زبان اردو ہی قرار پائی ۔
🥀1973کے دستور میں اردو کو قومی اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ تمام دفتری اور تدریسی مواد قومی زبان میں منتقل کیا جائے
🥀 یہ مدت 14اگست 1988 کو ختم ہوگئی لیکن نوکر شاہی اور حکمرانوں نے نفاذ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی-
🥀2002میں عدالت میں نفاذ اردو کے لیے مقدمہ کیاگیا۔ جس کا فیصلہ تیرہ سال بعد 8 ستمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے دیتے ہوئے دستور کے مطابق نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔
🥀 سپریم کورٹ نے قومی زبان کے نفاذ کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے فوری نفاذ کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: وزیر سیاحت GBراجہ ناصر کا دورہِ کراچی، جامعہ اردو مرکز تحقیق سے تعاون کی یقین دہانی

🥀 سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، چیف جسٹس ظہیر جمالی اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ انگریزی زبان کو انصاف کی فراہمی میں بنیادی رکاوٹ قرار دے چکے ہیں۔
🥀مئی 2019 میں سینٹ نے نفاذ اردو کی متفقہ قرارداد بھی پاس کی ہے
📌48 سال گزرنے کے باوجود نفاذ اردو پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
📌سپریم کورٹ کے فیصلے کو ساڑھے 6 سال کے قریب گزرنے کے باوجود حکومت نفاذ اردو پر آمادہ نہیں اور دستور شکنی اور تو ہین عدالت پوری دلیری سے کی جارہی ہے

مزید پڑھیں: پاکستان کا پہلا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’اردو فلکس‘لانچ کردیا گیا

نفاذ اردو سے کیا مراد ہے؟
سوال یہ ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے تو پھر نفاذ سے کیا مراد ہے؟

📌نفاذ سے مراد یہ ہے پاکستان کے تمام وفاقی، صوبائی، سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں دفتری کاروائی سوفیصد انگریزی کی بجائے قومی زبان میں کی جائے۔
📌پہلی جماعت سے اعلی ترین سطح تک تعلیم بشمول طب (میڈیکل)، انجنیئرنگ، دیگر سائنسی، انتظامی اور سماجی علوم کی تعلیم اردو میں دی جائے۔
📌 عدالتیں اور عسکری ادارے بھی اپنا نظام اردو میں منتقل کریں
📌 تمام کاروباری اور سماجی ادارے پاکستان میں قومی زبان اختیار کریں۔
📌 انگریزی کا دفتری اور تدریسی استعمال جرم قرار دیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے تاہم انگریزی کو بطور زبان پڑھنے اور پڑھانے کی عام اجازت ہو۔

مزید پڑھیں: جامعہ اردو : شرجیل نوید کی P.hD کا زبانی امتحان جمعرات کو ہو گا

نفاذ اردو کیسے ممکن ہے؟

✅ دستوری اور تاریخی حقائق کے باوجود مقتدر قوتیں پاکستان میں قومی زبان کو نافذ کرنے کی بجائے استعماری زبان انگریزی نافذ کیے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ دستور شکنی کی پرواہ ہے، نہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا پاس ہے اور نہ عوامی امنگوں کا خون کرنے میں کوئی شرم حیاء آتی ہے۔

علاج
ایک سوچ تو یہ ہوسکتی ہے کہ مقتدر قوتوں کی ہٹ دھرمی، قانون شکنی اور توہین عدالت پر خاموش رہا جائے اور انگریزی کا طوقِ غلامی بخوشی قبول کر لیا جائے۔

غیرت اور آزادی کا راستہ
🌷 دوسرا راستہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم غلامانہ تصورات کو قبول کرنے سے انکار کردے اور اپنے بنیادی انسانی حق کے لیے جدوجہد کا راستہ اختیار کرے تاکہ پاکستان سے جہالت،غربت، پسماندگی کا خاتمہ کرکے ملک کوترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں:جامعہ اردو اراکینِ سینیٹ ڈاکٹر عرفان – ڈاکٹر طاہر علی کا IBA طلبہ کے رویئے پر اظہارِِ افسوس

نفاذ کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جائیں؟

1⃣ رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا موثر استعمال کیا جائے۔
2⃣ سیمینار، مذاکرے، مباحثے، مکالمے، واک اور ملک گیر چاکنگ، پینا فلیکس و بینرز آویزاں کرنے کا اہتمام ہو۔ عوام کو قومی زبان کی اہمیت اور غیر ملکی زبان کے تسلط کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اتنا منظم کرلیا جائے کہ عوامی رائے کو نظر انداز کرنا ناممکن ہوجائے۔
3⃣عوامی رائے کو دستخطی مہم کے ذریعے دستاویزی شکل دے کر عملی ثبوت کے۔ طور پر پیش کیا جائے۔
4⃣پانچوں عدالت اعلٰی میں دستور کی شق 251 کے نفاذ، توہین عدالت، استقرار بنیادی انسانی حقوق جیسے سینکڑوں مقدمات بیک وقت دائر کیے جائیں۔
منقول

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *