شرح سود میں اضافہ،مہنگائی ساڑھے 4 سال کی بلند ترین سطح پر،ساڑھے8 ماہ میں 3300 ارب روپے قرض لیاگیا، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید اضافہ کر دیا ،بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے یکم اپریل 2019ء سے پالیسی ریٹ کو 50بی پی ایس بڑھا کر 10.75فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جون 2014کے بعد امسال جنوری فروری میں مہنگائی کی شرح بلند ترین رہی تاہم زر مبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری آئی ہے جس نے کاروباری اعتماد میں اضافہ کیا ہے.

مطلق لحاظ سے یکم جولائی سے 15 مارچ مالی سال 19ء کے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 3.3ٹریلین روپے قرض لیا اور جدولی بینکوں کے 2.2 ٹریلین روپے کے قرضے (نقد بنیاد پر)واپس کیے،مالیاتی خسارے کا خاصا حصہ بینک سے قرض لیکر پورا کیا گیا، سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو زری پالیسی کی ترسیل میں پیچیدگیاں آئینگی، تجارتی خسارے میں کمی کیلئے برآمدی شعبوں میں اصلاحات درکار ہیں،

دوسری جانب دو طرفہ تعلقات پر مبنی رقوم کی آمد سے جاری کھاتے کے خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ،زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی، مالی منڈیوں میں غیریقینی کیفیت کو کم کیا،کاروباری اعتماد میں بہتری آئی۔بینک اعلامیے کے مطابق جنوری 2019ء میں منعقدہ گزشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے معاشی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے اثرات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔

خاص طور پر 2019ء کے پہلے دو ماہ کے دوران جاری کھاتے کے خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے ہمراہ دو طرفہ تعلقات پر مبنی رقوم کی آمد نے اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی۔ بیرونی محاذ پر اس پیش رفت نے مالی منڈیوں میں استحکام کو بہتر بنایا، غیریقینی کیفیت کو کم کیا اور کاروباری اعتماد میں بہتری پیدا کی جس کی عکاسی مختلف سرویز سے ہوتی ہےتاہم جاری کھاتے کا خسارہ کم ہونے کے باوجود ابھی تک بلند ہے، مالیاتی یکجائی (consolidation) توقع سے کم رفتار سے واقع ہورہی ہے اور قوزی (core)مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔

جولائی تا فروری مالی سال 19ء میں اوسط عمومی مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) 6.5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ پچھلے برس کی اسی مدت میں 3.8 فیصد تھی۔ اس دوران سال بسال مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت میں خاصا اضافہ ہوا جو جنوری 2019ء میں7.2 فیصد اور فروری 2019ء میں 8.2 فیصد تک جاپہنچی جو جون 2014ء سے اب تک مہنگائی میں بلند ترین سال بسال اضافہ ہے۔

عمومی مہنگائی پر دباؤ کی وضاحت بجلی اور گیس کی مقررہ قیمتوں میں ردّوبدل، تلف پذیر (perishable)غذائی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور شرح مبادلہ میں کمی کے مسلسل ظاہر ہوتے ہوئے اثرات سے ہوتی ہے۔ قوزی مہنگائی میں اضافے کا 13 ماہ کا رجحان جاری رہا جو فروری 2019ء میں 8.8 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک سال قبل 5.2 فیصد تھی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *