مولانا عبدالغفور حیدری کون ہیں؟

مولانا عبدالغفور

مولانا عبدالغفورحیدری 1957کو بلوچستان کے شہر قلات میں پیدا ہوئے۔

مولانا عبدالغفورحیدری نے وفاق المدارس العربیہ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔

مولانا عبدالغفورحیدری 1974 کو تحریک ختم نبوت اور 1977 میں تحریک نظام مصطفیٰ میں پیش پیش رہے۔

تحریک ختم نبوت، اور تحریک نظام مصطفیٰ میں سرگرم ہونے کے باعث دو بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ۔

مولانا عبدالغفورحیدری 1983 کو ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری جنرل بنے ۔

14اگست 1983 بحالی جمہوریت تحریک میں تیسری بار گرفتار ہوئے ۔

تیسری گرفتاری کے باعث سبی جیل میں دس کوڑے اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ۔

مولانا عبدالغفورحیدری نے 1984 میں قلات میں جامعہ شاہ ولی قلات کی بنیاد رکھی ۔

1990 کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے اور صوبائی وزیر کی حثیت سے خدمات سر انجام دی ۔

1992 میں عام انتخابات میں وزیر اعلی بلوچستان کے انتخابات لڑے مگر ایک ووٹ سے ہار گئے ۔

1993 کے ہونے والے عام انتخابات میں قلات سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

1994 میں بے نظیر کے دور حکومت میں اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا۔

1995 میں مولانا عبدالغفورحیدری جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔

مولانا عبدالغفورحیدری اس منصب پر پانچ مرتبہ منتخب ہوئے اور تاحال فائز ہے ۔

2001 میں امریکی حکومت کی افغانستان میں جارحیت کے خلاف تحریک میں چوتھی بار گرفتار ہوئے اور پانچ ماہ جیل میں قید رہے ۔

مولانا عبدالغفورحیدری 2009 میں پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے۔

مولانا عبدالغفورحیدری 2011 میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔

2013 کے انتخابات کے بعد مولانا عبدالغفورحیدری وزیر مملکت برائے پوسٹل بنائے گئے۔

مولانا عبدالغفورحیدری 2015 میں دوسری بار سینیٹر منتخب ہوئے جس کے بعد وہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنے اور خدمات سرانجام دیں۔

2017 میں امریکی حکام نے مولانا عبدالغفورحیدری کو پارلیمانی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزہ نہیں دیا۔

2017 میں مستونگ کے علاقے میں مولانا عبدالغفورحیدری پر خودکش حملہ ہوا۔

خود کش حملے کے دوران مولانا عبدالغفورحیدری زخمی ہوئے جبکہ 30 سے زائد پارٹی کارکنان شہید ہوئے۔

خودکش حملہ کے دوران مولانا عبدالغفورحیدری کے ڈرائیور سٹاف آفیسر سمیت ایک قریبی دوست بھی شہید ہوئے۔

مولانا عبدالغفورحیدری 2021 کے انتخابات میں تیسری بار ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *