جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کے سابق رئیس دارلافتا مفتی عبداللہ شوکت کو نیب نے دبئی سے گرفتار کرلیا ۔

رپورٹ : اختر شیخ

دینی مدارس و علما کی تاریخ کا سب سے بڑا مالی غبن کا اسکینڈل آج سے چند برس قبل سامنے آیا تھا جب ملک بھر سمیت بیرون ممالک سے علمااور دینی رحجان رکھنے والے ہزاروں افراد لُٹ چکے تھے ۔نیب نے 30مارچ کو دبئی سے انٹر پول کے ذریعے مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی کردار اور فتوی دینے والے مفتی شوکت عبداللہ کو گرفتار کرلیاہے ۔

نیب کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق گرفتار ہونےو الے مفتی عبداللہ شوکت نے مضاربہ کے نام پر شفیق الرحمن نامی شخص کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی تھی ،جس میں انہوں نے عوام سے 7ارب 20کروڑ روپےسرمایہ کاری کے نام پر ہتھیائے تھے ۔نیب کے مطابق پونزی اسکیم کے تحت کراچی میں 12افراد پر مشتمل مجرموں کے گروہ نے یہ دھندہ شروع کیا تھا ،انہوں نے تقریبا 100کے لگ بھگ سادہ لوح افراد کو لوٹا تھا ۔

مفتی عبداللہ شوکت پر نیب کا الزام ہے اس نے مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی ملزم شفیق الرحمن کو مذکورہ جعلی انوسمنٹ کے عین شرعی ہونے کا فتوی صادر کیا تھا ۔ تاہم جامعہ بنوریہ سائٹ کے مطابق مذکورہ مفتی کو انہوں نے اسی بنیاد پر جامعہ سے فارغ بھی کردیا تھا جس کے بعد مفتی عبداللہ شوکت بیرون ملک فرار ہو گیا تھا ۔گرفتاری کے الزام میں مبینہ عبد اللہ شوکت کا الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے انسداد دہشت گردی کے الزام میں ملوث ہونے والے الزامات میں ملوث الزامات مرتب کیے ہیں.

معلوم رہے کہ چندماہ قبل اسلامک مضاربہ کی آڑمیں مبینہ طورپرلاکھوںروپے خردبردکرنیوالے راوالپنڈی کے رہائشی ملزم سیدحسام الدین شاہ ولد سید رفیع الدین شاہ کوقومی احتساب بیوروخیبرپختونخوانے گرفتار کیا تھا ۔متعددشکایات موصول ہونے کے بعد نیب خیبرپختونخوانے ملزم کیخلاف تحقیقات کاآغازکیا تاہم تحقیقات کے دوران انکشاف ہواکہ ملزم سیدحسام الدین شاہ نے دیگرساتھیوں کی ملی بھگت سے مختلف کاروباردکھاکراسلامک مضاربہ میں سرمایہ کاری کے عوض زیادہ منافع دینے پرعوام الناس کوقائل کیا،لیکن حقیقت میں ملزم حسام الدین شاہ کااس قسم کاکوئی کاروبارنہیں تھااورسادہ لوح عوام کی لاکھوں روپے کی محنت کی کمائی خردبردکی۔

مذکورہ کیس کاسماعت احتساب عدالت میں جاری ہے تاہم احتساب عدالت نمبر2کی جج منیرہ عباسی نے قومی احتساب بیوروکو ملزم سیدحسام الدین شاہ کی14روزہ ریمانڈکی اجازت دیدی،قومی احتساب بیوروخیبرپختونخوانے مذکورہ سکینڈل کے متاثرین سے درخواست کی ہے کہ وہ نیب خیبرپختونخوا،PDAکمپلیکس بلاک3،فیز5حیات آباد پشاورمتعلقہ کاغذات وثبوتوں کے ہمراہ درخواست جمع کریں۔

اسی طرح 27ستمبر 2018کو لاہورمضاربہ اسکینڈل کے مرکزی کردار مفتی احسان الحق کو 10 سال قید اور 9 ارب روپے جرمانے کی سزا سنادی گئی تھی ،احتساب عدالت نے مضاربہ اسکینڈل سے جڑے مرکزی ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا، مرکزی ملزم مفتی احسان الحق کو دس سال قید اور نو ارب روپے کا جرمانہ سنا دیا گیا۔

دیگر سات ملزمان کو بھی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں، جرمانے کی عدم ادائیگی پر احتساب عدالت نے ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔مضاربہ اسکینڈل میں ملزمان پر سوا آٹھ ارب (8.23 بلین) روپے فراڈ کا الزام تھا، مفتی احسان الحق نے عوام کو اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر بھاری منافع کا جھانسہ دے کر لوٹا تھا۔

خیال رہے کہ یکم اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے اور بد عنوانی میں ملوث 19 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔2014 میں ابھرنے والے اس کیس میں نیب کو 9,584 متاثرین نے شکایات جمع کرائیں، راولپنڈی بیورو ملزمان سے اب تک 487.1 ملین روپے وصول کر چکی ہے۔مذکورہ گروہ اب تک انویسٹمنٹ کے نام پر شہریوں سے اربوں روپے بٹور چکا ہے۔ خیال رہے کہ یکم اپریل2018کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے اور بدعنوانی میں ملوث19ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *