ڈپٹی کمشنر کورنگی نے 50ایکڑ سے زائد ملیر ندی میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت دے دی .رپورٹ

رپورٹ: اختر شیخ

سندھ حکومت نے واٹرکمیشن تحلیل ہونے کے بعد سپریم کورٹ اور واٹرکمیشن کے احکامات کی خلاف ورزیاں شروع کردی ہیں ،ملیر ندی میں 50 ایکڑ سے زائد اراضی پر بچت بازار لگانے کی اجازت دیدی ،ڈپٹی کمشنر کورنگی نے بھی حتمی منظوری دیتے ہوئے ندی اراضی میں ہرطرح کی کمرشل سرگرمیوں کےلیے این اوسی جاری کردیا،کمرشل سرگرمی کے نتیجے میں ندی کے بہاؤ میں رکاوٹ جبکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کےباعث حادثات بھی رونما ہوسکتے ہیں۔

16 فروری 2018 کو سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والے واٹرکمیشن نے کورنگی ملیر ندی میں ہر قسم کی کمرشل سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام تجاوزات فوری طورپر ختم کرنے کا حکم دیاتھااور مذکورہ مقام پر لگنے والے غیر قانونی بچت بازار کی اجازت بھی منسوخ کردی تھی جس کے بعد ڈی سی کورنگی نے کمیشن کے روبرو پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا تھاکہ مستقبل میں کبھی بھی اس طرح کا اقدام نہیں کیا جائے گا۔

جس کے بعد اب ایماندار ڈپٹی کمشنر قرۃالعین کے ٹرانسفر کے بعد نئی ڈپٹی کمشنر کورنگی شادیہ عبداللہ جعفر نے ملیر ندی میں 50 ایکڑ سے زائد اراضی پر بچت بازار لگانے کی اجازت دے دی ہے ،ڈپٹی کمشنر کورنگی شادیہ جعفر نے حتمی منظوری دیتے ہوئے ندی اراضی میں ہرطرح کی کمرشل سرگرمیوں کےلیے این اوسی جاری کردیا ہے ۔

ضلع کورنگی میں ایک ڈپٹی کمشنر قرۃ العین نے 72سے زائد بچت بازار بند کئے تھے جن میں سے متعدد بچت بازارو ں کے مالکان نے اپنی بچاؤ کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا ، جبکہ ضلع میں صرف چند ایک قانونی بازار وں کو سابقہ ڈپٹی کمشنر قرۃ العین میمن نے اجازت دی تھی جبکہ اس کے علاوہ تمام بچت بازاروں کے این او سی منسوخ کردیئے گئے تھے جس کے بعد نئی ڈپٹی کمشنر شادیہ جعفر نے آتے ہی عدالتی احکامات کے برعکس ضلع کورنگی کے بچت بازاروں کے مالکان سے میٹنگ کی جنہیں کہا گیا کہ وہ عدالت سے درخواست واپس لیں اور انہیں ‘‘سسٹم ’’ میں آنے کے بعد این او سی جاری کیا جائے گا ۔

شادیہ عبداللہ جعفر

جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر شادیہ جعفر نے اپنے شوہر جعفر عباسی کے کہنے پر ایک بچت بازار کو این او سی جار ی بھی کردی تھی ، جس کے لئے متعلقہ پولیس کا این او سی اور بیورو آف سپلائی کی اجازت بھی وصول نہیں کی تھی جس کے بعد مذکورہ غیر قانونی این او سی کا معاملہ میڈیا نمائندوں تک پہنچنے کے بعد رات ہی رات این او سی کی دستاویزات اے ڈی سی ٹو کے ذریعے غائب کرادی گئی تھی ۔

کورنگی میں تمام غیر قانونی کام بند کرنے والی ڈپٹی کمشنر قرۃ العین میمن کے جانے کے بعد ضلع بھر میں غیر قانونی کام کرنے والے مافیاز ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں اور بیٹرز کی جانب سے ریتی بجری کا کام کرنے والوں کے علاوہ بچت بازاروں کے مالکان میں موجودہ ڈی سی کے حوالے سے پیغام دیا جارہا ہے کہ نئی ڈی سی نے کام کھول دیا ہے اور پیسے لاؤ اور کام کراؤ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ریتی بجری کا کام کرنے والوں جن میں خان بابا ،ولی الرحمن ،خورشید ، نیازی ریتی والا اور رضوان شامل ہیں ان کو اجازت دے دی گئی ہے جنہوں نے کورنگی گرلز کالج ڈھائی نمبر پر ریتی بجری کا کام شروع کردیا ہے ،جو مبینہ طو رپر5لاکھ روپے ماہانہ ڈی سی آفس دیں گے ،معلوم رہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اپنے ساتھ ہی اے سی کورنگی زاہد جونیجو کو بھی تبادلہ کراکے لائی ہیں ۔

لانڈھی سب ڈویژن کی اسسٹنٹ کمشنر سارہ جاوید کے دفتر کے سامنے بھی ریتی بجری کا کام جاری ہے جہاں سے راشد آرائیں نامی بیٹر ہفتہ واری وصول کرتا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ڈی سی آفس میں این اوسی فارسیل 120 گزکے 5 لاکھ روپے ،موٹیشن ریٹ1لاکھ،کنٹورنمنٹ کی ویری فکیشن کے ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپےریٹ وصول کئے جارہے ہیں۔

کورنگی کے مختیارکارمحمدخان بھٹی کی جانب سے ضلع میں موجودہ ریٹ کی آواز پھیلائی جارہی ہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ڈپٹی کمشنر اس سے قبل ضلغ غربی میں تعینات رہ چکی ہیں اور وہاں بھی ان کی خرد برد اور رشوت ستانی کے قصے عام تھے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *