کیا عورت واقعی کمزور ہے؟

تحریر: گمنام


وہ ذات جسے عورت کہتے ہیں، اپنے کلیدی اعضاء کے معاملے میں مرد سے یکسر مختلف ہے۔ جبکہ مشترک اعضاء و جوارح میں یکسانیت کے باوجود وہ بنیادی فرق کی حامل ہے۔ جو اعضاء اس کے مرد سے یکسر مختلف ہیں ان کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں، ہم سب ان سے واقف ہیں۔ لیکن جو اعضاء مشترک ہوکر بھی مختلف ہیں ان میں بال سے لے کر ناخن تک، جلد سے لے کر ہڈیوں تک، اور سر سے لے کر پاؤں تک ایک واضح فرق موجود ہے۔ مرد کے جذبات ہی نہیں ساخت میں بھی کرختگی ہے۔ جبکہ عورت کے جذبات اور اعضاء دونوں عبارت ہی نزاکت سے ہیں۔ سو اس مکمل روحانی و جسمانی اختلاف کے ہوتے یہ بات کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ صلاحیت و قدرت کے معاملے میں ان دونوں کا معیار ایک ہی ہوسکتا ہے ؟ ایسا سوچنا بھی پرلے درجے کی حماقت ہوگی۔ چنانچہ لازم ہے کے طاقت اور کمزوری کو بھی اسی بنیادی معیار پر رکھ کر پرکھا جائے اور پھر طے کیا جائے کہ کیا عورت واقعی کمزور ہی ہے ؟یا یہ کوئی بہت ہی بڑا مغالطہ ہے؟

سو پہلا سوال تو یہی ہے کہ عورت اگر مرد کی طرح ایک من وزن کاندھوں پر لاد کر نہیں چل سکتی تو اس میں عورت کو کسی نقصان کا سامنا ہے یا وہ فائدے میں ہے ؟ اگر تو اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو پھر تو یہ کمزوری ہے لیکن اگر وہ فائدے میں ہے تو اسے کمزوری کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی مانا جاسکتا ہے۔ اس با ب میں اس کے فائدے اور نقصان کو ہم دو حوالوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بوجھ اٹھانے کے غم سے آزاد ہے۔ یہ کام اس کے ایک اشارے پر کوئی بھی مرد اس کے لئے کرنے کو تیار ملے گا۔ حتی کہ میری اور آپ کی گاڑی کا ٹائر بدلنے کو تو شاید ہی کوئی رکے مگر اس کی گاڑی کا ٹائر بدلنے کو قطار لگ جائے گی۔ سو اس لحاظ سے وہ نقصان نہیں، فائدے میں ہے۔ لیکن فرض کیجئے، اگر وہ ایک من وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی تو کیا اس صورت میں بھی اسے فائدہ ہی ہوتا ؟ میرے خیال میں تو وہ سخت نقصان کا سامنا کرتی۔ مجھے آپ کا نہیں معلوم، لیکن اگر میں کسی خاتون کو ایک من کی بوری اکاندھوں پر اٹھائے دیکھ لوں تو اس سے رومانس کا شوق کبھی بھی نہ فرماؤں۔ وہ رومانس کے لئے منت سماجت بھی کرے تو صاف کہدوں "چل گل خان کہیں کی !” ہم تو رومانس اسی سے کریں جو پانی کی بوتل بھی اٹھا لے تو "اف اللہ کتنی بھاری ہے” پکار اٹھے۔

مرد کی ساری اکڑ اس کے بھاری ہاتھ اور "زور” کے دم پر ہے نا ؟ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے مقابل یہی زور اور بھاری ہاتھ اس کی طاقت بھی ہے ؟ اس سوال کا جواب یوں مل جاتا ہے کہ مرد جب یہی بھاری ہاتھ اور اور زور استعمال کرتے ہوئے کسی خاتون کو ایک تھپڑ جڑ دے تو اس کا جوابی حملہ ہاتھ نہیں اپنی پسند کے ہتھیار سے آتا ہے۔ دو ، آنسو کے صرف دو قطروں سے وہ اسی مرد کو دو منٹ میں کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہے۔ قصور وار عورت ہی کیوں نہ ہو مگر آنسوؤں کے دو قطروں سے مرد کی جنس سے بھی سارے اتحادی عورت کے ہی کیمپ میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ سو آپ ہی طے کیجئے "طاقت” مرد کے زور میں زیادہ ہے یہ خاتون کے آنسو ؤںمیں ؟ شاعر اس کے اشک سے متعلق جو بھی کہے، مگر میں تو اسے اس کے سب سے تباہ کن کیمیاوی ہتھیار کے طور پر ہی دیکھتا ہوں، اور ہتھیار بھی وہ جس کا مرد کے پاس کوئی توڑ نہیں۔ مرد کی وہ طاقت کس کام کی جو شدید دھوپ میں بھی اسے بل جمع کرانے کے لئے بینک کے باہر قطار میں کھڑا کرا دیتی ہے ؟ اس سے عورت کی وہ طاقت بہتر نہیں جو اسے اس عذاب سے نجات دلائے رکھتی ہے ؟ مرد کی وہ طاقت کس کام کی کہ مجلس میں کوئی خاتون داخل ہوجائے تو اسے کھڑا ہونا پڑ جاتا ہے۔ اس سے عورت کی وہ طاقت فائدے کی نہیں جو اسے جنس مخالف کو پروٹوکول دینے سے آزاد رکھتی ہے ؟ مرد کی اس طاقت کا اچار ڈالنا ہے جس کا نتیجہ منے کو چار گھنٹے تک گود میں لئے بازاروں میں گشت کرنا ہوتا ہے ؟ اس سے عورت کی وہ طاقت کام کی نہیں جو کہتی ہے

"ایک ہاتھ سے منا، اوردوسرے سے شاپر اٹھاؤ شاباش !”

اگر اس سب کے باوجود بھی کوئی مرد خود کو طاقتور سمجھتا ہے تو اس پر ہنسا ہی جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس طاقت نے ہی تو اسے صنف نازک کی مزدوری پر مامور کر رکھا ہے۔ وہ ہر ذمہ داری سے آزاد، اور یہ ہر ذمہ داری تلے دبا ہوا۔ اس کمبخت کو تو خود خدا نے بھی یہ کہہ رکھا ہے کہ چل مزدوری پر لگ، کما کر لا ، خود بھی کھا اور جو گھر بیٹھی ہے اسے بھی کھلا۔ تیری کمائی صرف تیری نہیں، سب کی ہے۔ اور عورت کی پہلی ہی عیاشی خدا کی طرف سے بھی یہ ہے کہ تمہیں دھوپ میں سڑنے کی ضرورت نہیں، دھوپ میں سڑنے کی ذمہ داری ہم نے تمہارے پھنے خان پر ڈال رکھی ہے۔ اس کا باپ بھی اس ذمہ داری کو نبھائے گا۔ نہیں نبھاتا تو عدالت جاؤ اور اس کے کس بل نکالدو۔ لیکن پھر بھی اگر عورت جاب کرلے، پیسہ کما لے تو شریعت فورا اسے ایک اور "استثنی” پکڑا دیتی ہے۔ وہ عورت سے کہتی ہے، تیری کمائی بس تیری ہی ہے۔ اتیرا دل نہ کرے تو دھیلہ بھی اپنے پھنے خان یا اولاد پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ عیش کر اپنے پیسوں سے، تیری کمائی بس تیری ہی ہے۔ سو ان حالات میں میرا تو ایک ہی سوال ہے

اے خدائی خوارانِ مرداں ! کون کمبخت کہتا ہے کہ طاقت کا مرکز ہم مردہیں ؟ کیسے مان لوں کہ فائدے میں ہم ہیں ؟ ہم تو وہ بدنصیب ہیں کہ بوجھ تلے مرے بھی جا رہے ہیں اور کوئی "مرد مارچ” بھی نہیں کرسکتے۔ ہمیں تو خدا اور سماج دونوں نے مل کر ۓٹھوکا ہے۔ اور کوئی کاندھا ہی نہیں جس پر سر رکھ کر پوچھ سکیں کہ یہ ظلم و عدوان تا بکے ؟ کب تک مرد یوں ہی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے پستا رہے گا ؟ اور کب تک ہر چھمک چھلو صرف نخرے ہی اٹھواتی رہے گی ؟ آپ کی خبر نہیں، مجھے تو خدا کی طرف سے یہی جواب ملتا ہے کہ صبح قیامت تک !

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *