ایڈمنسٹریٹر کراچی کو گمراہ کرانے والا افسر پکٹرا گیا، عہدے سے فارغ کرنے کا امکان

کراچی: ایڈمنسٹریٹرکراچی کو دھوکہ دہی، فراڈ، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے، غلط رپورٹ دینے، قانونی کی غلط تشریح کرنے والا افسر پکڑا گیا، سابق سینئر ڈائریکٹر جمیل فاروقی کو عہدے سے ہٹانے اور ایک لمبی الزامات پر مشتمل رپورٹ جاری ہونے کی توقع ہے۔

جمیل فاروقی کے ناجائز اختیارات کی کھلی کھل گئی، افسران کی تعیناتی نہ کرنے پرKMCمیں ایک محاز اور فریق بننے والا جمیل فاروقی نے اپنے بچاؤ کے لئے قانونی راستہ کے بجائے ایم کیو ایم سے سیاسی مدد مانگ لی ہے۔

مصدق ذرائع نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی رضوان خان کی تعیناتی پر 50لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کی بھی تصدیق کی ہے، رضوان خان نے رشوت دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سب بکاؤ ہیں۔

جمیل فاروقی نے یہ الزام ایڈمنسٹریٹرکراچی کے اسٹاف افیسر خالد خان پر لگایا ہے کہ رضوان خان کی تقرری پر بھاری نذرانہ وصول کیئے تھے تاہم ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ رضوان خان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈجاوید مصطفی کے ذریعہ رشوت کی بھاری رقم جمیل فاروقی نے وصول کی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ رضوان خان کے جوائنگ سے قبل دفتر پر قبضہ، اور سرکاری ریکارڈ تحویل میں لینے پر ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد نے فوری شوکاز جاری کرنے اور ایک ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات کی تھی جس پر سابق سینئر ڈائریکٹر جمیل فاروقی فریک بن گئے رضوان خان کو نہ کوئی شوکاز جاری کیا نہ ایف آئی آرد رج کرنے دیا گیا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمدنے رضوان خان کو فوری مدد ڈیپارٹمنٹ ٹرانسفر کرنے کی ہدایت کی تو جمیل فاروقی نے ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کو بتایا کہ ایک بڑا پینڈاروبکس کھل جائے گا، چھ سو سے ذائد افسران او ر عملے کومدد ڈیپارٹمنٹ میں سپریم کورٹ کے حکمنامہ پر عملدآمد کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں رضوان خان کو مدد ڈیپارٹمنٹ میں تبادلہ نہ کیا جاسکا اور ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کو مجبور کیا کہ رضوان خان کی جوائنگ منظور کرلیئے وہ رشوت دینے پر تیار ہے۔

دوسری جانب جمیل فاروقی نے اپنے KMCافسران اور ایڈمنسٹریٹر زکراچی کے مابین خلیج پید ا کرنا شروع کی عہدے کے بغیر 84افسران کو بدعنوان قراردیا جس کے نیتجے میں ایڈمنسٹریٹرکراچی نے ان او ایس ڈی افسران کی تعیناتی کی تمام سفارشات رد کردی اس افسران کے ساتھ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد پہلے دو سال کام کرچکے تھے ان افسران نے KMCامیج ریسٹوریشن ایڈوائزری کمیٹی کے نام سے ایک فورم تشکیل دیدیا گیا جن کا مطالبہ تھا کہ KMCملازمین کو بروقت تنخواہ، پنشن کی ادائیگی، عہدے کے منتظر افسران کی فوری تعیناتی، ایس سی یوجے افسران کی تعینات کو روکا جائے اور افسران کی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ شامل تھا لیکن جمیل فاروقی جو KMC افیسرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہے ایڈمنسٹریٹرزکراچی کے ڈرا دھمکا اور خوف ہراس کی فضاء کے ساتھ قانون کی غلط تشریح کرکے افسران اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کے درمیان محاز پیدا کردیا تھا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کو آہستہ آہستہ اندازہ ہونا شروع ہوگیا اور انہوں نے تمام قانونی امور کی تشریح کا ایک بار پھر جائزہ لیا تو جمیل فاروقی کی مفروضات غلط ثابت ہوا۔

واضح رہے کہ سابق میئر کراچی وسیم اختر کے دور سے بااثر افسران بن گئے تھے بیک وقت پانچ عہدے پر براجمان تھے ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بھی ان کو عہدے سے نہیں ہٹایا تین عہدے پر تعیناتی کے بعد جمیل فاروقی وٹرنری اور ہومین رسورس ڈیپارٹمنٹ کے سینئر ڈائریکٹر کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے محکمہ بلدیات میں رپورٹ کی ہدایت کی۔

تاہم ا جمیل فاروقی کے بقول یہ حکمنامہ دو روز بعد ایڈمنسٹریٹر کراچی نے واپس لے لیا اور تمام تحقیقات بھی روک دیا ہے اور عہدے پر تعیناتی سے انکار کردیا ہے۔

مصدق ذرائع کا کہنا تھا کہ جمیل فاروقی نے منگل کی شام بہادرآباد میں واقع ایم کیو ایم کے دفتر میں رابط کمیٹی کے اراکان اور سابق میئر کراچی وسیم اختر سے ملاقات کی ہے اوران کے ایڈمنسٹریٹرکراچی سے تعیناتی کی سفارش کی۔

جمیل فاروقی نے حال ہی میں چڑیا گھر میں سرکاری رہائش اختیار کی ہے اپنے آبادی مکان کو کرایہ پر دیدیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *