دہشتگردی کی زبانی مذمت کافی نہیں، اس کے اسباب کی کھوج بھی ضروری ہے، علماء

اسلام آباد: ملک و بیرون ملک سے آئے ہزاروں علماء کرام، مشائخ عظام، مذہبی وسیاسی رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، انتہاپسندی اور دہشتگردی کی صرف زبانی مذمت کافی نہیں، ان انسانیت کش امراض کے اسباب کا کھوج لگانا بھی ضروری ہے۔

ملک وبیرون ملک سے آئے ہوئے نامور علماء کرام ،مشائخ عظام ،گدی نشینوں اورمذہبی وسیاسی رہنمائوں نے کہا ہے کہ وہ تمام مفسدین ،انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے اعلان برات کرتے ہیں ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے عالمی برداری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر سیاسی، سفارتی اور اقتصادی دباؤ ڈالے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالتﷺ  کے تحفظ ودفاع کے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، صحابہ کرام و اہل بیت کی گستاخی کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو سزادی جائے اور اس حوالے سے مئوثرقانون سازی کی جائے۔

علما کا کہنا تھا کہ حکومت اگر ملک میں امن و مفاہمت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ یہ امن پسند لوگوں کے ساتھ مکالمہ کرے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وقف املاک ایکٹ کوغیرمشروط طورپرواپس لیاجائے یہ ایکٹ قرآن وسنت کی تعلیمات کے یکسرمنافی ہے۔

خیال رہے کہ سجادہ نشین دربارعالیہ نیریاں شریف و چانسلر محی الدین اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر پیر محمد سلطان العارفین الازہری کی دعوت پر سالانہ عظیم الشان سنی کانفرنس بعنوان ’افضلیت سیدنا صدیق اکبر‘ مرکز جمال نقشبند سہالہ اسلام آباد میں منعقدہوئی جس میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن، سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ نے بھی شرکت کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *