جے یو آئی (ف) کا این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان

کراچی: جمعیت علماء اسلام (ف) نے کراچی کے حلقہ 249 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے ممکنہ امیدواروں کے نام انتخابی بورڈ کو پیش کر دیے گئے۔ 

جمعیت علماءاسلام ضلع غربی کراچی نے این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے ممکنہ امیدواروں کے نام صوبائی انتخابی بورڈکوروانہ کردیئے جبکہ ضلعی مجلس شوریٰ کی سفارشات بھی توثیق کیلئے ارسال کردی ہیں۔

مجلس شوریٰ کا اہم ترین اجلاس جامعہ تعلیم القرآن سیکٹر 8 بلدیہ ٹائون میں مولانا محمد طالوت کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی امیر و سابق صوبائی پارلیمانی لیڈر مولانا عمر صادق نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سیکریٹری مولانا فخرالدین رازی نے انجام دیے۔

اجلاس میں مولانا سمیع الحق سواتی، ڈاکٹر عطا الرحمن خان، حافظ محمدنعیم، مفتی فیض الحق، مفتی خالد محسود، مولانا عبداللہ بلوچ، حافظ حبیب الرحمن خاطر، مولانا سراج اختر، شریف گبول، مولانا تاج محمدانور، مفتی خلیل اللہ، قاری سعید مہمند، مولانا نثار احمد نثار، مولانا حبیب الرزاق، عبدالوحید خان سواتی، مولانا سعید الرحمن، مولانا عطاءاللہ، محمدشاہ، ابرار، ناصرسمیت بیشتر ارکان شریک ہوئے۔

اجلاس میں این اے 249 کے ضمنی انتخابات میں جے یو آئی کی شرکت اور نمائندگان کے انتخاب کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔

اجلاس میں اراکین شوریٰ نے طویل غور و خوص کے بعد تجویز دی کہ جے یو آئی حلقہ میں ایک مضبوط پوزیشن رکھتی ہے، ماضی میں اس حلقے سے قومی و صوبائی نشستوں پر جے یو آئی نے کامیابی بھی حاصل کی ہے اور ہر یونین کمیٹی کی سطح پر جے یو آئی کی تنظیمیں فعال ہیں، اس لیے این اے 249 کے ضمنی انتخابات میں جے یو آئی کو بھرپور حصہ لینا چاہیے۔

مولانا عمر صادق نے کہا کہ جے یو آئی ضلع غربی کی سفارشات کی روشنی میں صوبائی انتخابی بورڈ کی منظوری کے بعد جے یو آئی این اے 249 سے با ضابطہ الیکشن لڑنے اور امیدوار کا اعلان کرے گی۔

جنرل سیکریٹری مولانا فخرالدین رازی کے مطابق جے یو آئی ضلع غربی کی مجلس شوریٰ نے این اے 249 کیلئے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ راشد خالد محمود سومرو، سابق صوبائی پارلیمانی لیڈر مولانا عمر صادق اور علاقے سے سابق رکن سندھ اسمبلی حافظ محمد نعیم اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *