چیئرمین انٹر بورڈ نے اپنے ہمنوا آڈٹ افسر زاہد لاکھو کو پھر بچا لیا .

رپورٹ : اختر شیخ

انٹر بورڈمیں سکروٹنی کے نام پر پاس کرنے کا دھندہ کرنے والے 5افسران کو بچا کر اسکول ٹیچر کو سزاسنا دی گئی ، چیئرمین نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر ادھوراعمل کرتے ہوئے آڈٹ افسر زاہدعلی لاکھو کے دوست کے بیٹے کودوبارہ فیل قراد دے دیا ،بحریہ ٹاؤن کالج کے پروفیسر سید ارشد عباس زیدی کو 10سال کے لئے نااہل قرار دیا گیاہے ،85ہزار روپے دیکر 7نمبر اضافی دیئے گئے تھے ۔

انٹر بورڈمیں خلاف قانون بھرتی ہونے والےآڈٹ افسر زاہدعلی لاکھوکے دوست کے بیٹے کو سابق کنٹرولر کے دور میں غیر قانونی طریقہ کار کے ذریعے پاس کیا گیا تھا، جس کی نشاندہی ذرائع ابلاغ میں تین ہفتے قبل کی گئی تھی جس کے بعد متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے دو رکنی انکوائری کمیٹی بابر شاہ اور نسیم حیدر پر مشتمل قائم کی گئی تھی .

جنہوں نے سفارشات چیئرمین کو پیش کی ہیں جس میں لکھا گیا ہے کہ انٹر بورڈ میں سکروٹنی کے نام پر پاس کرنے کا مکروہ دھندہ کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق زاہد علی لاکھو کے دوست ظفر بلوچ کے بیٹے میر عالیان بلوچ نے سال 2018کے سالانہ امتحان میں رول نمبر 76938کے ذریعےسائنس جنرل کے امتحانات میں حصہ لیا تھا.

مذکورہ طالبعلم نے اردو کے پیپر کے علاوہ بمشکل 33سے 40نمبر لیکر پاس کئے جبکہ اردو میں 26نمبر حاصل کئے جس کی وجہ سے فیل ہو گیا جس کے بعد اسکروٹنی جمع کرائی گئی اور یوں انٹر بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری اسلم چوہان نے اپنے دوست بحریہ کالج کے استاد سید ارشد عباس زیدی کو غیر قانونی طور پر اردو کا ہیڈ مقرر کرکے 4نمبر دلوائے ،جس کے بعد 3نمبر گریس مارک کے دیکر 33نمبروں سے پاس کردیا تھا ۔

یوں مجموعی طور پر 528نمبر لیکر عالیان کوڈی گریڈ میں پاس کیا گیا ۔ مذکورہ غیر قانونی دھندے کے ذریعے پاس ہونے والی طالبعلم کے اس کیس پر 26فروری کو انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی ۔جس کی فائنڈنگ پر اب بحریہ کالج ایم ٹی خان روڈ کے پروفیسر سید ارشد عباس زیدی کو انٹر بورڈ اردو کے پرچے چیک کرنے کے لئے 10سال کے لئے نااہل قراردیا گیا ہے ۔

جبکہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ سینئر کلرک اور زاہد لاکھوکا رشتہ دار وقارحسین عباسی ،سپرٹینڈنٹ سیکشن نعیم احمد ،ڈپٹی سیکرٹری اسلم چوہان ،سائنس جنرل سیکشن کے انچارج اعجاز حسین ،ڈپٹی کنٹرولر سائنس گروپ ہادی حسن اور سابق کنٹرولر عظیم احمد شامل ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کو بچا لیا گیاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سابق کنٹرولر محمد جعفر مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ رکوانے کے لئے سابق کنٹرولر عظیم احمد کے ہمراہ بورڈ آئے تھے تاہم رپورٹ سامنے آگئی جس کے بعد ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *