انتہاپسندوں اوردہشت گردوں سے اعلان برات کرتے ہیں ، علماءکرام کا مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد : ملک وبیرون ملک سے آئے ہوئے نامور علماء کرام ،مشائخ عظام ،گدی نشینوں اورمذہبی وسیاسی رہنمائوں نے کہاہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ،انتہاپسندی اوردہشت گردی کی صرف زبانی مذمت کافی نہیں ان انسانیت کش امراض کے اسباب کاکھوج لگانابھی ضروری ہے،تمام مفسدین ،انتہاپسندوں اوردہشت گردوں سے اعلان برات کرتے ہیں ملک کوامن کاگہوارہ بنانے کے لیے ہرسازش کامقابلہ کریں گے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کواستصواب رائے اوراپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق دیاجائے عالمی برداری مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے بھارت پرسیاسی ،سفارتی اوراقتصادی دبائوڈالے، عقیدہ ختم نبوت او ناموس رسالت کے تحفظ ودفاع کے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،صحابہ کرام واہل بیت کی گستاخی کرنے والوں اوران کے سہولت کاروں کوسزادی جائے اوراس حوالے سے مئوثرقانون سازی کی جائے ، حکومت اگرملک میں امن ومفاہمت کوفروغ دیناچاہتی ہے تواسے امن پسندلوگوں کے ساتھ مکالمہ کرے ، وقف املاک ایکٹ کوغیرمشروط طورپرواپس لیاجائے یہ ایکٹ قرآن وسنت کی تعلیمات کے یکسرمنافی ہے.

تفصیلات کے مطابق سجادہ نشین دربارعالیہ نیریاں شریف وچانسلرمحی الدین اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹرپیرمحمدسلطان العارفین الازہری کی دعوت پرسالانہ عظیم الشان سنی کانفرنس بعنوان افضلیت سیدناصدیق اکبر مرکزجمال نقشبندسہالہ اسلام آبادمیں منعقدہوئی جس میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ،جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے مہتمم علامہ پیرسیدحسین الدین شاہ ،علامہ سیدمظفرحسین شاہ ،سابق وزیرمذہبی امورعلامہ حامدسعیدکاظمی ،پیرامین الحسنات ،سابق وزیراعظم آزادکشمیرسردارعتیق احمدخان ،سابق وزیراعلی خیبرپختونخواہ پیرصابرشاہ ،ممبراسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرساجدالرحمن ،مفتی ابراہیم قادری ،مفتی محمدانصرالقادری برطانیہ ،پیرمحمدطیب الرحمن برطانیہ ،مفتی محمداسلم بندیالوی برطانیہ ،سجادہ نشیں دربارعالیہ سلطان حق باہوپیرسلطان فیاض الحسن قادری ،پیرنقیب الرحمن عیدگاہ شریف ،حاحبزادہ میاںولیدشرقپورشریف ،مفتی محمدحسین چشتی آزادکشمیر،جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء قاری زواربہادر،صاحبزادہ حسنین فاروق چورہ شریف ،مفتی محمدرفیق الحسنی ،مفتی نویدالحسن مشہدی بھکی شریف ،آغاابوالحسن مجددی ،مفتی محمدصدیق ہزاروی ،صاحبزدہ غلام بشیرنقشبندی ،صاحبزادہ بدرعالم جان ،مفتی عابدمبارک کراچی ،مولاناحبیب احمدنقشبندی ،صاحبزادہ غلام ربانی ،صاحبزادہ سعیدالرشیدعباسی ،مفتی وسیم رضا،مولاناامتیازصدیقی،قاضی ضیاء الرحمن ،مفتی ضمیراحمدساجد،زمردخان ،قاری علی اکبرنعیمی ،مفتی محمداسلم ضیائی ودیگرنے شرکت وخطاب کیا.

کانفرنس میں مشترکہ طورپراعلامیہ بھی پیش کیاگیااعلامیہ پیش کرتے ہوئے پیرسلطان العارفین نے کہاکہ پاکستان ہی نہیں دنیاکااولین مسئلہ دیرپاامن کاحصول ،روداداری اورملکی معاشی استحکام ہے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ فاشزم،نسل پرستی ،مذہبی عصبیت ،دہشت گردی ،انتہاپسندی اوررنگ ونسل کی بنیادپرنفرت انگیزی ہے آج ہم برملاان تمام مفسدین ،انتہاپسندوں اوردہشت گردوں سے اعلان برات کرتے ہیں ملک کوامن کاگہوارہ بنانے کے لیے ہرسازش کامقابلہ کریں گے بلکہ اس حوالے سے اخلاص اورحسن نیت سے کرداراداکرنے والی قوتوں کاساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت اگرملک میں امن ومفاہمت کوفروغ دیناچاہتی ہے تواسے امن پسندلوگوں کے ساتھ مکالمہ کرناہوگاہمارے ہاں یہ کلچرپروان چڑھ چکاہے کہ جب تک کوئی نظام کے لیے خطرہ نہ بنے نہ اس کی بات سنی جاتی ہے اورنہ اس کوجائزاہمیت دی جاتی ہے اس لیے اب وقت آگیاہے کہ ملک پرامن اورخاموش اکثریت کی لازوال قربانیوں کی قدرکی جائے اورانہیں جائزمقام دیاجائے اوران کی جائزشکایات کافوری ازالہ کیاجائے ،ہم دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کی بے مثال قربانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں اوران کی کامیابی کے لیے دعاگوہیں ،حکومت پاکستان کاپاس کردہ وقف املاک ایکٹ پرشدیدتحفظات ہیں اس ایکٹ کوغیرمشروط طورپرواپس لیاجائے یہ ایکٹ قرآن وسنت کی تعلیمات کے یکسرمنافی ہے علماء نے جوترمیمی بل حکومت کوپیش کیاہے اس کوپارلیمنٹ سے منظورکروایاجائے ۔پیرسلطان العارفین نے کہاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ،انتہاپسندی اوردہشت گردی کی صرف زبانی مذمت کافی نہیں ان انسانیت کش امراض کے اسباب کاکھوج لگانابھی ضروری ہے عالمی سطح پرمسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اوراسلاموفوبیامحض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ثابت شدہ حقیقت ہے کشمیر،فلسطین ،روہنگیاودیگرمقامات پرہونے والے انسانیت سوزمظالم پرعالمی برداری کی مجرمانہ خاموشی اوراس کے سدباب کے لیے مئوثراقدامات نہ کرناحقوق انسانی کے خلاف ایک سنگین جرم ہے،خصوصی طورپرکشمیرکے حوالے سے عالمی برداری اورانسانی حقوق کی تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کواستصواب رائے اوراپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق دیاجائے ایسٹ تیموراورجنوبی سوڈان کی طرح مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اوراس کے لیے عالمی برداری بھارت پرسیاسی ،سفارتی اوراقتصادی دبائوڈالے انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت او ناموس رسالت کے تحفظ ودفاع کے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اس حوالے سے سازش کرنے والی قوتوں کاہرمحاذپرمقابلہ کریں گے ،ناموس رسالت ،امہات المومنین ،اہل بیت اطہار،ناموس صحابہ کرام کی شان میں گستاخی اوران پررکیک حملے ہرگزبرداشت نہیں کریں گے ہم سمجھتے ہیں کہ صحابہ کرام کی جماعت پرحملہ درحقیقت اسلام اورپیغمبراسلام پرحملہ ہے اہل سنت وجماعت میںافضلیت سیدناصدیق اکبرمتفقہ ومسلمہ ہے اس حوالے سے تفردات اورتاویلات نہ کی جائیں اورعوام میں مباحثوں ومجادلوں کامیدان نہ بنایاجائے ،گزشتہ سال حکومتی پابندیوں کے باوجودمیڈیااوربعض مجلسوں میں سرعام سیدناصدیق اکبراوردیگرصحابہ کرام کی گستاخیاں کی گئیں اوربعض گستاخوں کوراتوں رات ملک سے فرارکرواکرملک کاامن تہہ وبالاکرنے اورفرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کی سازش کی گئی

ہم مطالبہ کرتے ہیں ان فسادات کے سہولت کاروں کوبے نقاب کیاجائے اورانہیں سزادی جائے ،اپنے مذہبی نظریات کومسلط کرنے کے لیے طاقت کااستعمال ،اخلاق واقدارسے گری ہوئی انتہائی ناشائستہ زبان وبیان ،تہمت سازی ،افتراپردازی ،کردارکشی ،عدم برداشت کاتیزی سے پروان چڑھتاکلچر،ملک وملت اورپرامن دینی فضاء کے لیے تباہ کن ثابت ہوگااس لیے ضروری ہے کہ ملکی سطح پرکام کرنے والی تنظیمیں ،جماعتیں اورافرادمل کرعصرحاضرکے نظریاتی اورفکری چیلنجوں سے آگہی پیداکرنے اوران سے نمٹنے کے لیے دلیل اوراستدلال کے فن آشناکرنے کے لیے علماء وخطباء اورآئمہ کرام کی خصوصی تربیتی نشستوں کااہتمام کیاجائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *