قصہ ایک سبزی فروش کا

تحریر : رعایت اللہ فاروقی


اس عہد کے مولوی کا سب سے سنگین جرم یہ ہے کہ یہ اپنے مفادات کا کھیل کھیلتے ہوئے بھی مذہب کا بے رحمانہ استعمال کرتا ہے۔ مثلا کسی کو ملازمت پر رکھتا ہے تو اس سے کہتا ہے

“بھئی تنخواہ تو ہمارے پاس ہوتی نہیں۔ وظیفہ ہوتا ہے۔ اور وہ بھی کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں بھی ہوتا”

اس بکواس کے ذریعے وہ غریب کا حق مارنے کے لئے مذہب کا استعمال یوں کرتا ہے کہ جب کل حق مارے گا تو ساتھ ہی کہدے گا

“ہم نے تو آپ کا تقرر کرتے وقت ہی بتا دیا تھا، لھذا ہم عنداللہ بری ہیں”

حالانکہ عنداللہ اس کا باپ بھی بری نہیں ہوسکتا۔ اگر قرآن اس کے سینے میں اترا ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ علمائے یہود کا سب سے بڑا جرم اسی طرح کے “حیلے” تھے جو کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے گنوائے ہوئے ہیں۔ آپ مدارس کے اساتذہ سے پوچھ لیجئے، ان میں سے کئی اساتذہ کے “وظیفے” اس وقت بھی لٹکے ہوں گے مگر مہتمم صاحب کے بیٹے کا آئی فون ہر چھ ماہ بعد پوری پابندی سے بدل رہا ہوگا۔ ایسا ہی ایک بڑا ڈرامہ اپنی جوانی میں ہم نے بھی قریب سے نہ صرف دیکھا بلکہ”بجایا” بھی۔

ہوا کچھ یوں کہ چوں چوں کا مربہ “حرکت الانصار” جم نہیں رہا تھا۔ یہ اتحاد تو تھا ہی مفادات کی کشمکش کا نتیجہ سو جمتا بھی کیسے ؟ اسی کشمکش کے دوران ایک دن اچانک پتہ چلا کہ نئے امیر کے طور پر کوئی معین قریشی آنے والا ہے۔ جماعت مذہبی تھی سو اس کا معین قریشی آ بھی سعودی عرب سے رہا تھا۔ بولے تو ارض مقدس ! مولوی غیر مقدس تو کچھ کرتا ہی نہیں۔ ذرا سن گن لی کہ آنے والا معین قریشی ارض مقدس میں کرتا کیا ہے ؟آب زمزم کو دھوتا ہے یا عجوہ میں مٹھاس بھرتا ہے ؟ پتہ چلا کہ حضرت سبزی کی دکان کرتے ہیں۔ ہم سبزی کی تجارت کو بھی قدر کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔ مگر عسکری تنظیم کا سربراہ ایک سبزی فروش ؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ

معین قریشی کی فلائٹ آنے میں کچھ دن تھے سو اس حاصل مہلت میں تنظیمی سطح پر سبزی والے کے لئے زمین ہموار کرنی شروع کردی گئی۔ سٹاف اور ورکرز سے کہا جانے لگا کہ اسلام میں امیر کی اطاعت واجب ہے، چاہے وہ کوئی موچی ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ کہ حضرت خالد بن ولید کی جگہ بھی تو حضرت ابوعبیدہ ابن جراح (رضی اللہ تعالی عنہما) کو لایا گیا تھا۔ یہ ٹوپی ڈرامہ ہر طرف چلتا رہا مگر ہمارے آگے کسی نے نہ کیا۔ کیونکہ ہم تھے ہی ٹیڑھی کھیر، ہم ان جھانسوں میں نہیں آتے تھے۔ مگر ہاتھ میں ہمارے تھا سب سے اہم شعبہ یعنی اطلاعات و نشریات۔ چنانچہ ہمیں صرف ایک پیغام بھجوایا گیا کہ مورخہ فلاں بوقت فلاں جدہ سے سبزی ہمارا مطلب نئے امیر پہنچیں گے سو ہاتھ باندھ کر ان کی زیارت کو حاضرہوں۔

مرکزی دفتر اطلاعات و نشریات کے دفتر سے بمشکل دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مگر ہم نہیں گئے۔ ہاں، یہ ہے کہ اپنے سٹاف کو امتحان میں نہیں ڈالا، انہیں ان کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ سو کچھ سبزی دیکھنے گئے اور کچھ نہیں گئے۔ ہم نے اس وقت کے نائب سیکریڑی مالیات اور اپنے جگری یار Rana A Rahman کو کال کرکے پوچھا

“یار رانا صاحب ! یہ سبزی والا دکھتا کیسا ہے ؟ یہ نہ ہو کسی سبزی کی دکان پر ٹکر جائے اور ہم قدر نہ کرسکیں”

رانا جی بہت ہنسے اور ہمیں ان کا حلیہ بتا دیا۔ کوئی دس روز بعد ہمیں اطلاع دی گئی کہ کل دن تین بجے سبزی والا اپنےجملہ” کور کمانڈرز” سمیت ہمارے شعبے کے “معائنے” کے لئے آئے گا لھذا صاف صفائی بھی کی جائے اور پھول بوٹوں کا بھی مناسب انتظام کیا جائے۔ ہم نے اگلے روز صفائی کے عملے کو صبح سے چھٹی دیدی اور دفتر کو معمول کی سرگرمیوں پر رکھا ۔ دن کے تین کیا شام کے پانچ بج گئے مگر سبزی نہ آئی۔ ہم سمجھ گئے ہمیں انتظار کا “سبق” سکھایا جا رہا ہے۔ سو عصر کی نماز کے بعد جب رفقاء نے پوچھا

“اب کیا کرنا ہے ؟”

عرض کیا

“اب روز کی طرح کرکٹ کھیلنی ہے۔ لاؤ بال بلے”

ہمیں کھیلتے ہوئے کوئی پندرہ بیس منٹ ہوئے تھے کہ کوئی چار پانچ ڈبل کیبنز قطار اندر قطار عثمان پلازہ پر آکر رکیں۔ لڑکے کھیل روکنے ہی لگے تھے کہ ہم نےسخت لہجے میں کہدیا

“جو میدان سے باہر گیا وہ خود کو نشریات سے بھی باہر سمجھے۔ کوئی نہیں جائے گا، چپ چاپ کھیلتے رہو”

آج بھی شکر گزار ہیں کہ رفقاء نے لاج رکھی اور کوئی بھی میدان سے باہر نہ گیا۔ اب انتظار کی باری سبزی والے کی تھی اور وہ بھی لبِ سڑک۔ صرف سبزی والا کیا، اس کے جملہ کور کمانڈرز بھی انتظاری۔ کوئی پندرہ منٹ یہ لشکر اسلام وہاں کھڑا کھڑا میدان کی جانب تکتا رہا اور پھر الٹے قدموں لوٹ گیا۔ مغرب کے بعد دفتر میں بیٹھک ہوئی تو رفقاء میں سے جو کمزور دل تھے وہ اگلے دن کے انجام سے خوفزدہ نظر آئے۔ ہم نے پوچھا

“آپ کو میدان سے باہر جانے سے کس نے روکا تھا ؟”

“آپ نے ”

بس آپ نے یہی حق سچ کی گواہی دینی ہے کہ ہمارے شعبے کے سربراہ نے روکا، سو ہم رک گئے”

ان میں سے ایک نے کہا

“حضرت خالد کی جگہ بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔”

ہم نے بات کاٹتے ہوئے کہا

“ابوعبیدہ ابن جراح سبزی فروش نہ تھے کمانڈر تھے۔ کیا حضرت خالد کی جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی سبزی فروش کو لائے تھے ؟ کمانڈر کی جگہ کمانڈر نے لی تھی۔ یہاں تو مفادات کی جنگ چل رہی ہے۔ اس جنگ میں ایک فریق ایک کمزور شخص کو بطور امیر لانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اور اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ حرامی پنے دوسروں کے ساتھ تو چل سکتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ نہیں، ہم نے حرامی پنوں میں پی ایچ ڈی کر رکھا ہے”

اگلے روز مجلس شوری کا ہنگامی اجلاس طلب ہوگیا اور ہمارے نام کا سمن بھی آگیا۔ چونکہ حرامی پنوں کے سپیشلسٹ تھے تو یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ اجلاس میں یہ ہم پر چڑھائی فضل الرحمن خلیل سے ہی کروائیں گے۔ کیونکہ ہم انہی کے خاص بندے معروف تھے۔ ظاہر ہے انہیں کہا گیا ہوگا کہ آپ کے بندے نے ہمیں ذلیل کیا، اور یوں اب وہ سب کی نظر میں معتبر ہونے کے لئے ہم پر چڑھائی ہی کرتے۔ چنانچہ اجلاس شروع ہوتے ہی توقع کے عین مطابق فضل الرحمن خلیل ہی ہماری جانب متوجہ ہوئے لیکن جیسے ہی متوجہ ہوئے اور بات شروع کی تو ہم نے فورا ٹوکتے ہوئے کہا

“ہم سے بات وہ کرے جو کل عثمان پلازہ پر موجود رہا ہو۔ آپ تو وہاں تھے ہی نہیں، آپ کیوں بول رہے ہیں ؟ کوئی چشم دید گواہ بولے”

اندر ہی اندر تو وہ بھی یہی چاہ رہے ہوں گے سو یکدم چپ ہوگئے۔ اب باقی سب ایک دوسرے کی شکلیں تکنے لگے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ؟ بالآخر وہ بولے جن کی ہم تب بھی سب سے زیادہ عزت کرتے تھے، اور آج 26 سال بعد بھی اسی درجے کی غائبانہ عزت کرتے ہیں۔ یعنی مولانا سعادت اللہ صاحب ۔ یہ ایک ایسا درویش شخص تھا جو تنظیم کا سربراہ ہوکر بھی کارکن کے جوتے سیدھے کیا کرتا تھا۔ اور انہیں کو ہٹا کر سبزی فروش کو لایا گیا تھا۔ وہ بولے تو یوں مخاطب ہوئے

“بھائی رعایت اللہ ! کل کیا ہوا ؟ ساتھی کچھ شکایت کر رہے ہیں”

عرض کیا

“ایک عسکری تنظیم کے سربراہ کو وقت کا پابند ہونا چاہئے۔ ہمیں تین بجے کا کہا گیا تھا۔ اگر ہم سے شکایت یہ ہے کہ ہم تین بجے موجود نہ تھے یا موجود تو تھے مگر خاطر مدارت میں کوئی کمی کوتاہی کی ہے تو سزا کے لئے حاضر ہیں”

جیسا کہ عرض کرچکے کہ مولانا سعادت اللہ صاحب ایک درویش صفت انسان تھے۔ سو درویش نے فورا فرمایا

“کہہ تو ٹھیک رہے ہیں”

اور یہ کہہ کر سب کو دیکھنے لگے۔ مولانا عبدالصمد سیال کا ہم پر ایک بڑا ادھار چلا آرہا تھا۔ سو انہوں نے اسے چکانے کی کوشش کرتے ہوئے چڑھائی کی

“امیر صاحب تشریف لائے اور آپ کرکٹ کھیلتے رہے ؟ یہ ہے امیر کی قدر ؟ یوں کی جاتی ہے امیر کی عزت ؟”

ہم نے کہا

“چھٹی کے وقت ہم کسی کے مامور نہیں۔ چھٹی کا وقت ہمارا نجی وقت ہے، جیسے چاہیں استعمال کریں۔ اس پر ہم سے باز پرس کا کسی کو حق نہیں”

مولانا عبدالجبار شہید نے صورتحال کو سنبھالنے کے لئے یکدم مداخلت کرتے ہوئے کہا

“دیکھیں فاروقی صاحب ! معاملہ حل کرتے ہیں۔ آپ بس یہ وعدہ کرلیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا”

ہم نے صاف کہدیا

“ایسا کوئی وعدہ ہم کسی صورت نہیں کرتے”

عبد الصمد سیال نے دھمکی دی

“تو پھر آپ اس عہدے پر نہیں رہ سکتے”

ہم نے لیٹر پیڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

“ابھی لکھیں فیصلہ، ہٹائیں ہمیں اس ذمہ داری سے۔ ان دھمکیوں سے وہ ڈرے جو تنظیم میں واپس ڈبل کیبن ملنے کی شرط پر آیا ہو۔ ہم ڈبل کیبنوں میں نہیں گھومتے۔ ویگنوں میں دھکے کھانے والوں میں سے ہیں”

جب جملہ کور کمانڈروں نے دیکھا کہ دال گل نہیں رہی۔ تو ہمیں کچھ دیر کے لئے کمرے سے باہر جانے کا کہا گیا۔ ہم اٹھے تو سیدھا اپنے دفتر آگئے۔ پیچھے جملہ کور کمانڈرز نے متفقہ فیصلہ کیا کہ چونکہ انگور بہت ہی کھٹے ہیں لھذا معاملہ رفع دفع کرنے میں ہی عافیت ہے۔ سبزی فروش صرف دو ماہ ہی امارت کے عہدے پر رہا۔ اور بحمداللہ ان دو ماہ میں ہمارا شعبہ نشریات ان کے سبزی زدہ قدموں سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ جاتے جاتے آپ کو ایک دلچسپ بات یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہماری انہی حرکتوں کی وجہ سے شعبہ اطلاعات و نشریات کا سربراہ ہونے کے باوجود ہمیں مجلس شوری کی رکینیت دینے کی غلطی نہ کی گئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ شوری میں ہوا تو بھنگ بھوسڑے نہ رہیں گے 🙂

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *