سندھ بھر کے پرائمری اسکول اساتذہ کراچی پریس کلب پر احتجاج کریں گے .

گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسو سی ایشن سندھ( گسٹا ) اپنے مطالبات کے حق میں آج جمعرات کو کراچی پریس کلب پر احتجاج کرے گی، سند ھ بھر سے اساتذہ کے قافلے آج صبح کراچی پہنچ جائیں گے ،اساتذ ہ کراچی پریس کلب پر احتجاج کے بعد وزیر اعلی ہاؤس کی جانب پیش قدمی کریں گے اور دھرنا بھی دینگے ،

اساتذہ کے احتجا ج کے پیش نظر انتظامیہ نے گورنر اوروزیر اعلی ہاؤس کے اطراف سمیت ریڈ زون میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور پولیس کی بھاری نفری کو تیار رہنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے جبکہ احتجاج کے دوران ممکنہ گڑبڑ کے خدشے پراحتجاجی اساتذہ کو منتشر کرنے کی غر ض سے واٹر کینن بھی تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن سال2012کے بھرتی اساتذہ کو تنخواہوں کی فوری ادائیگی ،اساتذہ کی اگلے گریڈ میں ترقیوں سمیت دیگر چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کی منظوری کیلئے آج پریس کلب پراحتجاج کریگی گے۔ ۔گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسو سی ایشن سندھ( گسٹا )کے مرکزی صدر حاجی محمد اشرف خاصخیلی احتجاجی اساتذہ کے مظاہرے کی قیادت کریں گے ۔

اس حوالے سے گورنمنٹ سکینڈری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کے صدر اعجاز اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ، کشمور ، کندھ کوٹ ،شکار پور، سکھر، شہداد پور، تھر پار کر، مٹھی، ساکرو سمیت دیگر اضلا ع کے اساتذہ آج پریس کلب پر ہونیوالے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گے۔

اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ پریس کلب پر احتجا ج اور خطاب کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کیا جائے گا اگر اِس دوران کوئی حکومتی اہلکار ہم سے گفتگو کرنا چاہے تو ہم تیار ہیں بصورت دیگر وزیر اعلیٰ ہاؤس پر مطالبات کی منظوری تک احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کئی بار لاٹھیاں کھائی ہیں اس بار بھی کھالیں گے مگر ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت سندھ پر ہوگی کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ پر دما دم مست قلند ر ہوگا۔

ایک اور سوال کے جواب میں اِن کا کہنا تھا کہ مینجمنٹ کیڈر کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے ٹائم اسکیل ، ٹیچنگ الاؤنس اور 2012ء کے اساتذہ کی تنخواہوں کے اجراء کی منظوری کے بغیر محاذ پر ڈٹے رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سندھ سال 2012ء میں بھرتی اساتذہ کے حوالے سے کوئی کمیٹی بنانے کی آفر دیتی ہے تو گسٹا کے4نمائندے اورایماندار افسران پر مشتمل کمیٹی بنانے میں کوئی حرج نہیں مگر کمیٹی صرف برائے نام نہیں ہونی چاہیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں اِن کاکہنا تھا کہ ہم اب تک گسٹا نے جن کمیٹیوں کا مطالبہ کیا ہے اُن کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں اور انشاء اللہ اِس بار بھی اچھے نتائج نکلیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *