سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں کروڑوں روپے کی ادویات ضائع

ادویات

رپورٹ: بابر علی اعوان


سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں کروڑوں روپے کی ادویات ضایع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ہفتے کو اسپتال سے کروڑوں روپے کی زائدالمیعاد ادویات ٹھکانے لگا دی گئیں ۔ جن میں اینٹی بائیوٹک ادویات، انجیکشن ، سیرپ اور دیگر سامان شامل ہے ۔

جنگ کے رابطہ کرنے پر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایوب ببر نے اس بات کی تصدیق کی کہ زائدالمیعاد ادویات اسپتال سے نکالی گئی ہیں تاہم ان کا کہناتھا کہ یہ ادویات ان کے دور میں نہیں خریدی گئیں بلکہ سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ڈاکٹر منتظر حیدر اور ڈاکٹر مادھوری لاکھانی نے خریدی تھیں ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا؟ تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے حالانکہ اسپتال کا چارج سنبھالنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسپتال کے تمام معاملات ، ریکارڈاور ادویات کی رپورٹ محکمہ صحت کو دے لیکن ڈاکٹر ایوب ببر ایسا کرنے سے قاصر رہے ۔

ذرائع کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی ادویات ہفتے کو بوریوں میں بھر کر کباڑیوں کو فروخت کر دی گئیں ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ زائد کمیشن کے حصول کے لئے شارٹ ایکسپائری ادویات خریدی گئیں جو استعمال سے قبل ہی زائدالمیعاد ہوگئیں اس طرح نہ صرف مریضوں کو مفت ادویات میسر نہ ہوسکیں بلکہ سرکاری خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر ادویات کی ایکسپائری نزدیک ہو تو اسپتال انتظامیہ ایسی ادویات کو کمپنیوں سے تبدیل کروا لیتی ہے لیکن اگر خریداری میں بے کمیشن لیا گیا ہو تو یہ پہلے ہی طے پاجاتا ہے کہ ادویات زائدالمیعاد ہونے کی صورت میں تبدیل نہیں کی جائیں گی ۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے احتساب اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں اب بھی شارٹ ایکسپائری ادویات کی خریداری جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *