مولانا رومی بانسری کی فریاد

۔ 👈 مثنوی شریف حکایت نمبر 1
مولانا رومی بانسری کی فریاد👉

اس حکایت کی ایک ظاہر ہے اور ایک
باطن جو باطنی تک گیا اس نے پالیا

بانسری سے سُن! کیا حکایت کرتی ہے اور جُدائیوں کی شکایت ہے؟ کہ جب سے مجھے بنسلی سےکاٹا ہے، میرے نالوں سے مرد عورت سب روتے ہیں۔ میں ایسا سینہ چاہتی ہوں جو جُدائی سے پارہ پارہ ہو، تاکہ میں عشق کے درد کی تفصیل سناؤں۔ جو کوئی اپنی اصل سے دُور ہو جاتا ہے، وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر تلاش کرتا ہے۔میں مجمع میں روئی، خوش اوقات اور بداَحوال لوگوں میں رہی، ہر شخص اپنے اَحوال کے مطابق میرا یار بنا لیکن میرے اندر سے میرے رازوں کی جستجو نہ کی۔میرا راز، میرے نالوں سے دُور نہیں ہے آنکھ اور کان میں وہ نور موجود نہیں ہے۔

رُوح عالَمِ اَرواح میں اپنی اصل یعنی ذاتِ حق میں لوٹنے کی مُشتاق ہے۔ جو اِس راز کو سمجھتا ہے وہ ہی میرے نالے کی اصل کو بھی سمجھتا ہے۔ بدن، رُوح سے اور رُوح، بدن سے چُھپے ہوئے نہیں ہیں لیکن کسی کے پاس رُوح کو دیکھنے کا دستور نہیں ہے۔ یعنی بدن، رُوح کا مُشاہدہ نہیں کرسکتا۔ بانسری میں آنے جانے والی ہوا، ہوا نہیں بلکہ آگ ہے اور جس میں یہ آگ نہ ہو اُس کے لیے موت بہتر ہے۔ عشق کی آگ ہے جو بانسری میں لگی ہوئی ہے اور مَستی اِسی جوشِ عشق کی وجہ سے ہے۔ بانسری اُس کی ساتھی ہے جو اپنے یار سے کٹا ہوا ہے۔ اِس کے راگوں نے ہمارے دلوں پر پڑے ہوئے پردے پھاڑ دیئے ہیں۔ بانسری زہر بھی ہے اور تریاق بھی۔ بانسری خطرناک راستے کی بات کرتی ہے یعنی مجنوں کے عشق کے قصے بیان کرتی ہے۔

بانسری کی طرح گویا ہم دو منہ رکھتے ہیں، ایک منہ اللہ کے لبوں میں چُھپا ہوا ہے، جیسے بانسری کا ایک منہ بجانے والے کے منہ میں چُھپا ہوتا ہے۔ اِسی طرح دوسرے منہ سے جو آواز برآمد ہوتی ہے دراصل وہ بجانے والے ہی کی ہوتی ہے۔ یوں ہمارے کام مَشِیَّتِ ایزدی کی وجہ سے ہیں لیکن ہم اپنی کم عقلی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا۔ ہم نے وہ کیا۔بانسری کے ظاہری سوراخ سے جو آواز آرہی ہے وہ اُس سوراخ کی آواز ہے جو بانسری بجانے والے کے منہ میں چُھپا ہوا ہے۔ ایک منہ روتا ہوا تمہاری جانب ہے، جس نے آسمان میں شوروغُل مچایا ہوا ہے، لیکن جسے آنکھ میسر ہے وہ جانتا ہے کہ اِس سِرے کی آہ فریاد اُسی جانب سے ہے۔

اِس دُنیا میں جو لوگ عشق کے زیر اثر آہ فریاد کرتےہیں، دراصل اُس کا منبع ذاتِ الہیٰ ہی ہے۔اِس بانسری کی آواز اُسی کی پھونکوں کی وجہ سے ہے اور رُوح کی بے تابی اور تڑپ پھڑک اُسی کی کشش کی وجہ سے ہے۔اِس بانسری کی آواز کا اگر کوئی نتیجہ نہ ہوتا تو بانسری دُنیا کو مٹھاس سے نہ بھرتی۔ فراق میں عمریں گزر گئیں۔ عمریں گزرتی ہیں تو کہہ دو گزر جائیں لیکن اے وہ! کہ تجھ جیسا کوئی پاک نہیں ہے، تُو رہے۔اگر محبوب باقی ہے تو فراق کےغم کی کوئی پرواہ نہیں۔مچھلی دریا کے پانی سے کبھی سِیر نہیں ہوتی، اِسی طرح عاشق دریائے عشق سے کبھی سِیر نہیں ہوتا اور قرب کا مُتلاشی رہتا ہ۔ کوئی ناقص کسی کامل کا حال نہیں جان سکتا۔ اس لیے بات مختصر چاہیے والسّلام۔۔

شراب میں وہ جوش و خروش کہاں جو عشقِ صادق میں ہے۔ عاشقِ صادق کی سَیر آسمانی سَیر و گردش سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیونکہ عاشق بہرِ وحدت کا غوطہ خور ہے، آسمان جس کا ایک جُزو ہے۔ شراب ہم سے مست ہوئی نہ کہ ہم اُس سے اور ہمارا جسم ہماری رُوح کی وجہ سے پیدا ہوا نہ کہ ہم اُس کے لئے۔ سچی یعنی حقیت کی باتیں سننے پر ہر شخص قادر نہیں ہے۔

اِسی طرح عاشقوں کی کفیات بھی عام لوگ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جیسے انجیر ہر پرند کی خوراک نہیں ہوتی۔ اے بیٹا! اپنی خود ساختہ قید کو توڑ اور آزاد ہو جا۔ مَاسِوَا اللہ کی قید سے الگ ہو جا، تو سونے چاندی اور جسمانی لوازمات کا قیدی کب تک بنا رہے گا ؟ عشق کے ذریعے اِس قید سے رہا ہوجا۔ اگر تُو دریا کو پیالے میں ڈالے تو کتنا آئے گا ؟ ایک چھوٹا سا حصہ۔ حِرص سے دور ہوجا کیونکہ حریصوں کی آنکھ کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا۔ سیپ نے ایک قطرے پر قناعت کرلی، موتیسے بھر گئی۔ جس کا جامہ عشق کی وجہ سے چاک ہو گیا وہ حرص اور عیب سے بالکل پاک ہوگیا۔

شادباش اے عِشقِ خوش سودائے ما

اے طبیبِ جُملہ عِلّتہائے ما

خوش رہ ہمارے اچھے جنون والے عشق

ہمارے تمام بیماریوں کے طبیب

اے ہمارے تکبر اور عزت طلبی کی بیماریوں کی دوا

تو ہمارا افلاطون اور جالینوس ہے

جنونِ عشق سے بڑھ کر رُوحانی بیماریوں کا کوئی معالج نہیں۔ خاکی جسم، جسم عشق کی وجہ سے آسمانوں پر جاپہنچا جیسے حضرت عیسٰیؑ اور رسولِ اکرمؐ اور پہاڑ ناچنے لگا جیسے طُور پر زلزلہ آگیا اور معراج پر جاتے ہوئے چٹان نے سفر شروع کردیا۔ اے عاشق! عشق طُور کی جان بن گیا۔ طُور مَست ہوگیا اور موسٰیؑ بے ہوش ہو کر گرے۔ زیروبم میں ایک راز چُھپا ہوا ہے، اگر میں اس راز کو بیان کر دوں تو دُنیا درہم برہم ہو جائے۔

بانسری جو کچھ کہتی ہے اگر میں بیان کر دوں تو دُنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بانسری کی طرح اپنے یار کے ہونٹ سے ملا ہوا ہوتا تو بانسری کی بات کہتا۔ جو شخص یار سے جدا ہوا، چاہے وہ سو سہارے رکھے، وہ بے سہارا ہی ہے۔

حقیقت یہ ہے تمام کائنات معشوق ہے اور عاشق پردہ ہے۔ معشوق زندہ ہے اور عاشق مردہ ہے۔ جب رحمتِ خداوندی بندہ کے شاملِ حال نہ ہو تو وہ بے بال و پَر کا پرندہ ہے۔ ہمارے بال و پَر اُس کے عشق کی کمند ہیں

جو کہ کھنچتی ہوئی ہمیں دوست کےکوچہ تک لے جاتی ہیں۔

میرے دوست کا نور میرا ساتھی ہے اور دائیں بائیں اُوپر نیچے طوق اور تاج کی طرح میرے سر اور گردن پر ہے

عشق چاہتا ہے کہ اُسے ظاہر کردیا جائے مگر تیرا آئینہ زنگ آلودہ ہو تو وہ اُس تجلی کو کس طرح قبول کر سکتاہے۔ تُو جانتا ہے کہ تیرا آئینہ عکس کو قبول کیوں نہیں کرتا۔ اِس لیے کہ اُس سے زنگ دُور نہیں ہوا۔ وہ آئینہ جو زنگ سے دُور ہے وہ خُدا کے نور کے آفتاب کی شعاعوں سے بھرا ہوا ہے۔ جا اُس کے رُخ کو زنگ سے صاف کر پھر حقیقت کو دل کے کان سے سُن تاکہ تُو پانی اور مٹّی کے خول سے باہر آجائے۔ رُوح کو راستہ دو اور شوق سے راستے پر چلو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *