قومی گواہی اور فوجی مصنفین

قومی گواہی اور فوجی مصنفین
تحریر : رعایت اللہ فاروقی

استاد محترم جنرل حمید گل مرحوم نے ایک سینئر صحافی دوست کو اپنی یاداشتیں ریکارڈ کرائی ہیں۔ یہ کسی مناسب موقع پر کتابی شکل میں سامنے آئیں گی۔ ان یاداشتوں میں جنرل صاحب نے ہر بات بغیر کسی لاگ لپیٹ کے صاف صاف ریکارڈ کروائی ہے۔ اور پوری شعوری کوشش کی ہے کہ تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں، چاہے وہ ان کے ادارے کے خلاف ہی کیوں نہ جاتے ہوں۔ ایسی ہی ایک کتاب بریگیڈئر صدیق سالک شہید کی “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” ہے۔ جس میں مشرقی پاکستان میں موجود اس وقت کے جرنیلوں کو پوری بے رحمی کے ساتھ ننگا کیا گیا ہے۔ اور یہ کتاب جنرل ضیاء کے دور میں ہی چھپی تھی۔ بعینہ “جنٹلمین استغفراللہ “والے کرنل صاحب نے بھی مشرف کی مٹی پلید کرتے حقائق کو کتابی شکل دی ہے۔ جنرل شاہد عزیز کی “یہ خاموشی کب تک” بھی جرنیلوں کے پول کھولتی کتاب ہے۔

جو احباب نہ جانتے ہوں ان کی معلومات کے لئے عرض کرتا چلوں کہ کوئی فوجی افسر اپنی کتاب تب تک شائع نہیں کروا سکتا جب تک آئی ایس پی آر سے اس کی منظوری نہ لے لے۔ یوں گویا ان کتابوں کو فوج کی منظوری سے ہی شائع کرایا گیا ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ فوج کو اپنے خلاف جانے والے حقائق شائع ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ وہ بس مسودے میں یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی حساس نوعیت کا سیکرٹ تو لیک نہیں ہورہا ؟ یا کوئی جھوٹ تو اس کے سر نہیں تھوپا جا رہا ؟اب یہ ایسی چیز ہے جو پاکستان کی سیاسی جماعتوں یا مذہبی مکاتب فکر میں بھی ڈھونڈنے سے نہیں مل سکتی۔ آپ اپنے مکتب فکر کے حقائق ذرا کھول کر تو دکھائیں، پھر دیکھیں آپ کا حشر آپ کا ہی مکتب فکر کیا کرتا ہے۔

جنرل حمید گل کی یاداشتیں قومی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ثابت ہوں گی۔ اس کا صرف ایک ہی چھوٹا سا گوشہ جان لیجئے، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اپنے خلاف جانے والا سچ بھی کیسا کھرا آنے والا ہے۔ سینئر صحافی دوست سیف اللہ خالد ان سے سوال پوچھتے ہیں

“آپ پاکستانی سیاستدانوں میں سے سب سے زیادہ عزت کس کی کرتے ہیں ؟”

وہ کہتے ہیں

“خان عبد الولی خان کی”

وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں

“جب 88 کے عام انتخابات ہوگئے تو صدر کے انتخاب کا مرحلہ بھی درپیش تھا۔ کیونکہ جنرل ضیاء شہید ہوگئے تھے اور غلام اسحاق خان قائمقام صدر تھے۔ چنانچہ میں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی تین سیاستدانوں کو ملاقات کے لئے دعوت نامہ جاری کیا۔ تاکہ ان کا انٹرویو کرکے طے کیا جاسکے کہ ان میں سے کون اگلا صدر پاکستان ہونا چاہئے۔ ان میں سے ایک نوابزادہ نصر اللہ خان، دوسرے غلام اسحاق خان اور تیسرے خان عبدالولی خان تھے۔ نوابزادہ نہ تو ملاقات کے لئے آئے اور نہ ہی دعوت نامے کا کوئی جواب دیا۔ جبکہ خان عبدالولی خان نے میرے دعوت نامے کی پشت پر یک سطری جواب لکھ کر بھیج دیا اور ملاقات کے لئے نہ آئے”

“اس سطر میں کیا لکھا تھا ؟”

“انہوں نے لکھاتھا، میں ایسی صدارت پر لعنت بھیجتا ہوں جس کے لئے تمہیں انٹرویو دینا پڑے”

اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتایئے، اپنے ہی خلاف جانے والی ایسی قومی گواہی دیتے کبھی کسی سیاستدان کو دیکھا ہے آپ نے ؟ اور اہم سوال یہ کہ اس ایک سطر کا نتیجہ کیا نکلا ؟ یہی نا کہ خان عبدالولی خان اسی حمید گل کے لئے سب سے زیادہ قابل احترام سیاستدان بن گئے ؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *