“اعتماد کا ووٹ اور شاہی نجومی”

تحریر: رعایت اللہ فاروقی

آؤ بچو ! آپ کو صبح صبح ایک شاہی قصہ سنائیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصہ قبل آپ نے شاہی نجومی کو لال حویلی کے جس پلنگ پر “مینار پاکستان” کی صفائی کرواتے دیکھا تھا، اسی پلنگ پر جلوہ افروز ہوکر وہ گزشتہ سے پیوستہ روز “آئین پاکستان” نامی قومی کتاب کا مطالعہ فرما رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ آئین میں ایک آرٹیکل 96 ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ اگر وزیر اعظم پاکستان اعتماد کا ووٹ حاصل کرلے تو پھر اگلے 6 ماہ تک اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں آسکتی۔

یہ آرٹیکل دیکھ کر شاہی نجومی تو جھوم ہی اٹھے۔ انہوں نے فورا فون اٹھا یا اور مراد چٹے کا نمبر ڈائیل کردیا۔ مراد چٹے نے جیسے ہی کال ریسیو کی، شاہی نجومی بولے: “عالم پناہ سے بات کراؤ”

امیر المومنین لائن پر آئے تو بیتاب شاہی نجومی نے اعتماد کے ووٹ پر بات شروع کردی ، مگر عالم پناہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا: “اے چپڑاسی کَم شاہی نجومی ! اچھا کیا کہ فون کرلیا۔ مرید فروش تو ہمیں اعتماد کے ووٹ کے چکر میں مروانے ہی والا تھا مگر شاید مراد چٹے کے ساتھ کیا گیا کوئی “عمل” کام آگیا۔ اب اعتماد کے ووٹ سے یوٹرن لینا ہے، جلدی سے کوئی ترکیب پیش کر”

مزید پڑھیں: پاکستان کا پہلا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’اردو فلکس‘لانچ کردیا گیا

شاہی نجومی بولے: “یا امیر المومنین ! للہ اعتماد کے ووٹ سے یوٹرن نہ لیجئے گا۔ اگر آپ فورا اعتماد کا ووٹ لے لیں تو آئین کے آرٹیکل 96 کے تحت پی ڈی ایم تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے چھ ماہ کے انتظار پر بیٹھ جائے گی”

یہ سن کر امیر المومنین کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہ آیا۔ وہ جھوم اٹھے اور شاہی نجومی کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا: “اے چپڑاسی کَم شاہی نجومی ! ذرا ہم اس جاری بحران سے نکل آئیں، اگلا اٹارنی جنرل اور وزیر قانون دونوں تمہیں کو بنائیں گے”

یہ سن کر خوشی کے مارے شاہی نجومی کے دل میں ریلوے کے ہارن بجنے شروع ہوگئے۔ادھر امیر المومنین نے حتمی اعلان کردیا کہ ہم تو اعتماد کا ووٹ لے کر ہی رہیں گے۔ اور حضور نے پی ٹی وی پر تقریر بھی کھڑکا دی۔ سارے شاہی چمچے حیران کہ امیر المومنین تو یو ٹرن کی تیاری فرما رہے تھے۔

اب اچانک اعتماد کے ووٹ پر ضد کیوں شروع کردی ؟ مگر امیر المومنین کسی کو وہ بات بتائیں ہی نہیں جو شاہی نجومی نے انہیں بتائی تھی۔چنانچہ کوئی کمر خمیدہ قسم کا فروغ نسیم تلاش کرکے امیرالمومنین کے دل کا حال معلوم کرنے کو بنی گالیاں بھیجا گیا۔امیر المومنین نے بزرگ قانون دان سے کہا: “بڑے میاں ! پہلے وعدہ کرو کہ جب تک ہم اعتماد کا ووٹ نہ لے لیں تم یہ شاہی راز راز ہی رکھوگے”

مزید پڑھیں: سب میرا ساتھ چھوڑ جائیں پھر بھی ان کے خلاف لڑوں گا، عمران خان

نئے پاکستان کے شریف الدین پیرزادہ وعدہ کرچکے تو امیرالمومنین نے سرگوشی کرتے ہوئے شاہی نجومی والی بات انہیں بتا دی، اور لگے انہیں فاتحانہ نظروں سے تکنے۔

جوابا بوڑھے قانون دان نے امیر المومنین سے اپنا شاہی کان قریب لانے کو کہا۔ اور جب عالم پناہ ایسا کرچکے تو شاہی قانون دان نے سرگوشی کرتے ہوئے انکشاف کیا: “عالم پناہ ! لگتا ہے شاہی نجومی کے پاس آئین پاکستان کی جو کتاب ہے وہ سابق امیر العساکر الحاج جنرل ضیاء الحق قدس اللہ سرہ کے دور والی ہے۔ آرٹیکل 96 کو آئین سے کالعدم ہوئے زمانے بیت گئے۔ اب اعتماد کا ووٹ لینے کے اگلے ہی روز بھی تحریک عدام اعتماد آسکتی ہے”

سنا ہے شاہی نجومی شاہی چھترول کے بعد اب سب سے یہ کہتا پایا جا رہا ہے کہ جس جس کو بھی جنرل اختر عبدالرحمن نے آئین کی کتاب کا ہدیہ دیا ہو، شاہی کتب خانے میں جمع کرادے، ورنہ امیر المومنین نے لمیا پا لینا ہے 🤐🤐🤐

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *