مشرق وسطی میں نئی تبدیلیاں

تحریر: علی ہلال

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر 6 ڈرون حملے ہوئے ہیں ۔ سعودی عرب کے کنگ خالد ائیر بیس اور ابہا کے ہوائی اڈے پر دو حملے ہوئے ہیں جبکہ جدہ میں تیل کمپنی آرمکو کے آئل اسٹیشن پر بھی ایک ڈرون حملے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ سعودی ائیر ڈیفنس اب تک حوثیوں کے تمام ڈرونز کو تباہ کرچکا ہے ۔

سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے انتقامی کارروائی کا حصہ ہیں ۔ یمن کے تیل سے مالا مال صوبہ مآرب پر حوثیوں کے دوماہ سے جاری حملے بالآخر بدترین ناکامی سے دوچار ہوگئے ہیں جبکہ دوسرے اہم صوبہ تعز میں بھی یمنی فوج کے مقابلے میں حوثی زمینی لڑائی ہار گئے ہیں اورتعز کے کئی اہم مواقع پر کنٹرول قائم کرنے میں یمنی فوج کوکامیابی ملی ہے ۔

تاہم معاملہ خطرے سے باہر نہیں ہے ۔ اس سے قبل جنوری میں عراق سے بھی سعودی عرب پر ڈرون حملہ ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں: تیری رعونت کا بھی دور جانے لگا

سعودی عرب کا دروازہ کہلانے والے ہمسایہ ملک عراق کو اس وقت فارسی توسیع پسندانہ منصوبے کا تختہ مشق بنایا ہوا ہے ۔ عراق میں صدام حکومت کے سقوط کے بعد امریکی سرپرستی میں کمبیوں کی طرح اگنے والی فارسی نواز عسکری تنظیموں کی تعداد 67 تک پہنچ گئی ہے ۔

2016 میں داعش کے خلاف آُپریشن کی آڑمیں ان تنظیموں کو قومی لشکر کانام دیکر سرکاری حیثیت دے دی گئی ۔ اس وقت ان تنظیموں کے ایک لاکھ سے زائد کارکن عراقی فوج اورپولیس فورسز میں سرکاری مراعات رہے ہیں ۔ موصل ،فلوجہ ، الانبار ، صلاح الدین ،تکریت اور دیالی میں ان متعصب گروپوں نے عربوں کے اوپر ہرناجائز ظلم وستم ڈھایا ہے ۔ اس وقت دس لاکھ سے زائد عرب داعش کے خلاف آپریشن کے نام پر اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر کیمپوں میں بھٹکتے پھررہے ہیں ۔

یہ فارسی سلطنت کے توسیعی پروگرام کا حصہ ہے مگر فرقہ واریت کا رنگ دے کر امریکہ اورعالمی قوتوں نے اصل منصوبے کو پردہ خفا میں رکھا ہوا ہے ۔ مشکل مگر یہ ہے کہ عرب ممالک کو اس معاملے کی نزاکت کا احساس نہیں ہے ۔ یا پھر اگر احساس ہے بھی تو ان کا پلاننگ مناسب نہیں ہے ۔

مزید پڑھیں: قے چاٹنے والے لبرلز

خطرے کی ایک اورگھنٹی یہ بھی بجی ہے کہ جنوری میں عراق سے سعودی عرب کے اہم ترین شاہی محل قصر یمامہ پر بھی ڈرون حملہ ہوا ہے ۔ادھر امریکہ نے یمن جنگ میں سعودی عرب کی مدد بند کردی ہے جبکہ کل یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ یمن کے لئے امریکی ایلچی کی قیادت میں امریکی وفد عمان میں حوثی باغیوں کے وفد سے خفیہ ملاقات بھی کرچکاہے ۔

مشرق وسطیٰ کا منظر نامہ غیرمعمولی عجیب ہے ۔ ایک سمت اسرائیل عرب ممالک کی طرف بڑھ رہا ہے ۔جبکہ دوسری جانب فارسی سلطنت ہے ۔ درمیان بھی ترک بھی پیش قدمی کے لئے ریہرسل کررہے ہیں مگر لیبیا اور شمالی شام میں ترکی کے عسکری مہمات سے عربوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔

گزشتہ بدھ کو مصرمیں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ترکی پر عراق،شام اورلیبیا میں بدامنی کو ہوادینے کا الزام عائد کرکے انقرہ کو فوری طوپر عرب اراضی سے اپنی فوجیں نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

مزید پڑھیں: عماد وسیم کے گھر ننھی پری کی آمد

دوسری جانب ایک خبر ہے کہ اسرائیل خلیج کے عرب ممالک کے ساتھ دفاعی وعسکری اتحاد تشکیل دینے کے لئے سرگرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے ۔

ادھراسرائیلی وزیردفاع نے کہہ دیا ہے کہ اسرائیلی آرمی ایران کے جوہری پروگرام پر حملے کی تیاری مکمل کرچکی ہے ۔ مشرق وسطی کے امور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عربوں کے پاس اب آخری آپشن یہی رہ گیا ہے کہ وہ اسرائیل اورایران میں سے کسی ایک کو اختیار کرے ۔جارحانہ امریکی عزائم دیکھ کر بھی عربوں کے پاس اسرائیل سے قربت کا ہی آپشن باقی رہ گیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *