جناب سعود عثمانی سے ملاقات کی سعادت

تحریر: خرم شہزاد


دینی و علمی خانوادہ کے چشم و چراغ, مرحوم زکی کیفیؒ کے فرزند, شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے بھتیجے, معروف کالم نویس اور شاعر جناب سعود عثمانی سے آج پہلی دفعہ ملاقات کی سعادت ہوئی۔

وہ اپنے دفتر واقع انارکلی لاہور سے ہمارا انتظار کرنے کے بعد جاچکے تھے جب انہیں فون پر بتایا گیا تو وہ ازراہِ شفقت دوبارہ تشریف لے آئے۔

میں نے جناب سعود عثمانی کا نام اور تذکرہ سب سے پہلے عظمت فاروق صاحب (معروف خطاط, گوجرانوالہ) سے سنا اور اُنہیں کے ہاں سعود صاحب کے شعری مجموعے ”قوس“, ”بارش“ اور ”جل پری“ دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملا۔

کچھ مشاعروں میں ان کی زبانی شاعری بھی سنی اور جب یہ علم ہوا کہ وہ کوئی عام شاعر یا مصنف نہیں بلکہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبؒ(صاحبِ معارف القرآن) کے پوتے بھی ہیں, تو دل میں اُن کی قدر و منزلت مزید بڑھ گئی۔

آج جب اپنے دو شاگردوں (عبدالرحمٰن, ایاز احمد) کے ہمراہ ایک اہم کام سے لاہور جانا ہوا تو فراغت کے بعد سعود صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے فوراً ملاقات کا وقت عنایت فرما دیا اور اپنے ایک اہم کام کو مؤخر کرکے وہ دوبارہ اپنے ادارہ میں تشریف لے آئے اور ملاقات کی سعادت سے نوازا۔ فجزاھم اللہ تعالیٰ

جب میں نے ان سے اُن کے اُس شعر کی تصدیق چاہی تو انہوں نے نہ صرف تصدیق کی بلکہ شعر بھی سنا دیا کہ:

؎ کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے کتاب کہ اہمیت کو کم کردیا ہے, لوگ زیادہ تر کتاب خرید کر پڑھنے کی بجائے pdf میں پڑھنے پر ہی اکتفاء کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کاغذ کی وہ مہک اور کتاب پڑھنے کا وہ نشہ ختم ہو رہا ہے۔

پھر انہوں نے ہنس کر کہا کہ کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے اور ابھی اس صدی کا ربع حصہ بھی ختم نہیں ہوا (یعنی ابھی صدی کے 79 سال باقی ہیں۔)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *