مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا؛

جواب شکوہ: بند نمبر 2

محترم قارئین!….. مشکل الفاظ کے معانی مطالعہ فرمائیں؛

الفاظ۔۔۔۔۔۔۔۔ معانی؛

پیر گردوں۔۔۔ بوڑھا آسمان
سر عرش بریں۔۔۔ عرش الہٰی کے اوپر
اہل زمیں۔۔۔ زمین پر رہنے والا انسان
کہکشاں۔۔۔ بےشمار چھوٹے چھوٹے ستاروں کے جھرمٹ
رضوان۔۔۔ جنت کے دروازے پر معمور فرشتہ

مزید پڑھیں: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے؛

مختصر تشریح؛

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میرے شکوے اور فریاد سے کائنات میں ایسی ہل چل مچی کہ سن کر بوڑھے آسمان نے حیرت سے کہا یہ خدا سے شکوے کی پرسوز صدا یہی کہیں آسمان سے آ رہی ہے؛ اور سیارے بھی حیران ہو کر کہنے لگے کہ شاید یہ بیباک آواز عرش کے اوپر سے آ رہی ہے؛ اور چاند بولا نہیں نہیں یہ اجنبی آواز زمین سے آ رہی ہے؛ اور کہکشاں کہنے لگی یہ یہی کہیں ستاروں میں کوئی پوشیدہ ہے جس کی پر شکوہ فریاد نے کہرام مچا دیا ہے؛ جبکہ اگر کوئی کچھ صحیح سمجھا ہے تو وہ جنت کا دروغہ رضوان ہے جو جانتا ہے کہ میں جنت سے نکالا ہوا انسان ہوں جو اپنے خدا سے شکوہ کناں ہوں؛

مزید پڑھیں: مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے

اب ایک بار پھر کلام اقبال کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال اپنے دل کی تختی پر نقش کیجیے:

پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئی
بولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئی
چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی؛ پوشیدہ یہی ہے کوئی

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا؛

(بزمِ اقبال)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *