دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے؛

جواب شکوہ بند نمبر 1

پہلے مشکل الفاظ کے معانی اور مختصر تشریح مطالعہ فرمائیں

الفاظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معانی؛

طاقت پرواز۔۔۔۔۔ اڑنے کی صلاحیت
قدسی الاصل۔۔۔۔۔ جس اصل فرشتوں کی طرح پاک ہے
رفعت۔۔۔۔۔ بلندی
خاک۔۔۔۔ مٹی ؛ زمین ؛ پستی
عشق۔۔۔۔۔ محبت جس میں شدت ہو
فتنہ گر۔۔۔۔۔ کہرام مچانے اور ہنگامے برپا کرنے والا
سرکش۔۔۔۔۔ بیباک
نالہ۔۔۔۔۔ فریاد جو شکوہ کی صورت کی گئی؛

مزید پڑھیں: نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری؛

تشریح؛

حکیم العصر؛ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی نظم ۔۔۔جواب شکوہ۔۔۔ اللّٰہ کی طرف سے جوابی شکوہ ہے یعنی عصر حاضر کے مسلمان نے اپنے ملی حالات سے دکھی ہو کر خدا کی بارگاہ میں جو شکوہ اور فریاد کی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں خدا کی طرف سے یہ اس کا جواب ہے؛ اور یہ بھی سوۓ ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک دردمندانہ کوشش ہے؛

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ شکوہ کی صورت میں جو فریاد میرے دل سے نکل کر زبان اور قلم پر آئی اس نے نہ صرف زمین پر مسلمان امت میں کہرام مچا دیا ہے بلکہ آسمان کو چیر کر عرش الہی کو بھی ہلا ڈالا ہے؛ دل سے نکلی ہوئی اس فریاد نے نہ صرف اہل زمین میں ہنگامے برپا کر دے ہیں بلکہ آسمانوں کی بلندیوں میں فرشتوں میں بھی ہل چل مچا دی ہے؛

کیوں کہ دل سے نکلنے والی بات اپنے اندر بلا کا اثر رکھتی ہے؛ اگرچہ اس کے پر نہیں ہوتے مگر بلندیوں کی طرف اڑنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی دل سے نکلی ہوئی بات اور فریاد اصلا فرشتوں کی طرح پاک اور رفعت و بلندی کی ایسی خوگر ہوتی ہے کہ خاک کی پستیوں سے اٹھ کر آسمانوں کی بلندیوں سے گزر جاتی ہے؛ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ درحقیقت اس شکوہ کے پیچھے کہرام مچانے والا مرا سرکش اور بیباک عشق ہے؛ اس لئے میرے نالہ و فریاد نے آسمان کا سینہ چیر دیا ہے؛

مزید پڑھیں: کاش کہ گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی؛

قارئین کرام!…..
اب ایک بار پھر کلام اقبال کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال اپنے دل کی تختی پر نقش کیجیے؛

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالہ بے باک مرا

(بزمِ اقبال)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *