موجودہ صورتحال پر”ذبیح اللہ مجاہد” کی اہم گفتگو

ترتیب وترجمہ: سید افغان

گزشتہ دنوں امریکا کی وزارتِ دفاع پنٹاگون نے ایک اعلامیہ میں کچھ ایسی باتیں کی جن سے کابل انتظامیہ نے امیدیں لگائی اور دلیلیں تراشنا شروع کی امریکا کے افغانستان میں قیام کے لیے پھر سے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی-اس پر امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نجی چینل کے ساتھ انٹرویو میں بہترین ردعمل دیا جو مختصرا پیش خدمت ہے:

استعماری قوتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے اور تاریخ کے سینہ میں یہ محفوظ ہے کہ وہ اپنے زیرتسلط ممالک کو اپنے پاوں قدم جمانے کا موقع نہیں دیتی-ان کی کوشش رہتی ہے کہ کمزوری کی اس نہج پر پہنچادے جس کے بعد یہ کبھی سراٹھانے کے قابل نہ رہے-اس لیے کابل انتظامیہ جو امریکا اور دیگر غاصب قوتوں سے دوسال مزید افغانستان میں ٹھہرنے کی منتیں کررہی ہے اور دلیل یہ دیتی ہے کہ اس سے افغانستان مضبوط ہوگا بالکل غلط اور حقائق سے چشم پوشی ہے-یہ بیرونی قوتیں کتنی ہی طویل مدت یہاں کیوں نہ گزاردیں پھر بھی افغانستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ مزید تباہی کی طرف جائےگا-

مزید پڑھیں: سواتی، افغانستان سے سوات اور پھر ہزارہ آئے

کابل انتظامیہ اور اس کی فوج امریکا کے لیے آلہ کار ثابت ہوئی ہے اور ہورہی ہے اور امریکا ان سے ہمیشہ سے بطور آلہ کار اپنے مفادات کے لیے استفادہ کررہا ہے-اور انہیں اپنے مقاصد کی برآری کے لیے استعمال کررہاہے-کابل انتظامیہ کی فوج ہمارے بھائیوں پر مشتمل ہے-ہمیں ان کے قتل کرنے سے کوئی خوشی نہیں ہوتی-اگر آج وہ حقائق کا ادراک کرلے اور اپنی قوم کے مفادات کے لیے کھڑے ہوکر ہمارے شانہ بشانہ رہے تو ہمارا دامن ان کے لیے پھیلا ہے اور ہم انہیں بھائی کا درجہ دینگے-اس لیے انہیں بھی اب بیرونی قوتوں کے مکر وفریب اور دھوکہ میں نہیں رہنا چاہیے اور غلامی کا یہ طوق نکال لینا چاہیے

پینٹاگون آج کہتا ہے کہ انہوں نے افغان فوج کو فضائی حوالہ سے صحیح تربیت نہیں دی ہے اس لیے وہ معیاری نہیں کہلائی جاسکتی-میں کہتا ہوں کہ اگر امریکا بیس سال مزید بھی افغانستان میں رہے وہ پھر بھی فوج کو معیاری تربیت دے گا اور نہ ہی معیاری بنائے گا؛کیونکہ جس طرح میں نے پہلے کہا کہ سامراج کبھی ملکوں کا نظام نہیں بناتا-بیرونی قوتیں کبھی بھی مستعمرہ ملک کو خوشحال اور مستحکم نہیں کرتیں -استعمار کبھی بھی آبادی کے لیے نہیں ہوتا اس کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں -اپنے اغراض اور مفادات کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور نظام کی تشکیل اور استحکام ان کے اغراض میں شامل نہیں ہیں

مزید پڑھیں: عمرِ ثالث، سفر افغانستان (دوسری قسط)

رشید دوستم کی اشتعال انگیز باتیں ایک بچگانہ اقدام ہے اس سے رواں جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑتا-البتہ یہ حقیقت ہے کہ ملک اور ملت کو اس وقت امن اور چین کی ضرورت ہے جو اسلامی نظام اور بیرونی جارحیت کے خاتمہ سے وابستہ ہے اس لیے سب کو اشتعال پیدا کرنے کی بجائے اس موضوع پر آنا چاہیے اور ملک وملت کے مفاد کے لیے اپنی زبان استعمال کرلینا چاہیے-ہمارے سنجیدہ موقف سے کوئی اشتباہ میں نہ رہے-جس جنگ کی یہ آج دھمکیاں دے رہاہے اس بھٹی میں ہم کئی دفعہ آزمائے جاچکے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہم اس میدان کے شہسوار نکلے ہیں -اس لیے اس حربہ کو آزمانے سے پرہیز کرنا چاہیے

عمومی طور ہر ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے بھرپور سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کی امید رکھتے ہیں-دوحا معاہدہ ایک بنیاد ہے اس کی عمل درآمد کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہیں-اس وقت معاہدہ کی بعض شقیں عمل درآمد سے محروم ہیں جنھیں فوری توجہ کی ضرورت ہے-جیسا کہ بلیک لسٹ سے قیادت کے ناموں کا نکالنا،قیدیوں کی رہائی وغیرہ-رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیے کوشش یہ ہو کہ مسئلہ کا حل بہترین طریقہ پر نکالا جائے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *