سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نفسیاتی مریض بناتا ہے ،رپورٹ

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال سماجی مسابقت اور مادیت پرستی کی ترغیب دینے کے مترادف ہے ۔فیس بک ،ٹوئٹر ،انسٹا گرام اور یوٹیوب کے استعمال سے نوجوانوں میں ڈپریشن،پریشانی اور زندگی سے بیزاری بڑھانے کا سبب بنتے ہیں ،محمد علی جناح یونیورسٹی کی طالبہ کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 250کروڑ افراد سوشل سماجی نیٹ ورکنگ سائیٹس پر متحرک ہیں۔

سماجی نیٹ ورکنگ سائیٹس (سوشل میڈیا) کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوانوں کو سماجی مسابقت کی طرف متوجہ کر رہاہے، جو انہیں مادہ پرستی کی طرف لے جاتا ہے اور پھر مادہ پرستی کے سبب ان پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ،جن میں ڈپریشن کا شکار ہونا ،پریشان رہنا اور زندگی سے بے زاری شامل ہیں۔ یہ بات محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی (ماجو) کے بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ سوشل سائینسز فیکلٹی کی طالبہ کومل شمیم نے سماجی نیٹ ورکنگ سائیٹس کے زیادہ استعمال کے نتائج؛ شدت دباو کے نتیجہ کے ماڈل کو روکنا کے موضوع پر پیش کی جانے والی ایک اسٹڈی رپورٹ میں کہی ہے، جو انہوں نے اپنے استاد اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طاہر اسلام کی زیر نگرانی تیار کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس جن میں فیس بک،ٹوئیٹر،انسٹا گرام،یو ٹیوب اور دیگر شامل ہیں دنیا بھر میں عمومی طور پر اور پاکستان میں خاص طور پر بہت مقبول ہیں اور انھیں اطلاعات کی فراہمی کا یاک موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔گوکہ اس کے استعمال کرنے والوں کے لئے بیشتر مثبت نتائج کے باوجود سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بے شمار منفی نتائج کو فروغ دے رہا ہے جوکہ اب ایک لا علاج مسئلہ کے طور پر سامنے آرہا ہے۔سماجی مسابقت اور مادہ پرستی اب ہمارے نوجوانوں کے لئے ایک عام سی بات ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان کے برتاو اور دماغی حالت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

یہ اسٹڈی رپورٹ خاص طور پر پاکستان کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے جس میں ملک کی آبادی کی سب سے بڑی تعداد نوجوان طبقہ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور اس کی تیاری کے دوران ڈیٹا ان کے سروے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے جو جزوی طور پر لیزکی تیکنک کے ذریعے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ وقت نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کے استعمال کو دے رہا ہے اور ماہرین کے تجزیہ کے مطابق آج کا نوجوان روزآنہ 24 میں سے 8گھنٹہ سوشل میڈیا کے استعمال پر صرف کررہا ہے جس کی بنا پر ویب 2.0 ٹیکنالوجی نے لوگوں کا سماجی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ رابطہ کا طریقہ بالکل تبدیل کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 250 کروڑ افراد سوشل میڈیا کے اکاونٹس پر متحرک ہیں جبکہ سال 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر 296 کروڑتک پہنچ جائے گی۔اسٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں سماجی نیٹ ورکنگ سائیٹس کا بڑھتا ہوا استعمال ایک تشویشناک امر ہے کیونکہ یہ ان کے انفرادی رویہ پر منفی اثرات کو فروغ دے رہا ہے لہٰذا اس کے زیادہ استعمال سے بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال کی بنا پر اس شعبہ پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ کہ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا کے نشہ کے استعمال کے عادی ہوچکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سماجی مسابقتی تھیوری کے مطابق ایک عام آدمی میں کسی دوسرے سے اپنا موازنہ کرتے وقت بالکل درست معلومات حاصل کرنے کا رحجان موجود ہوتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *