سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک،عزم وہمت کی ایک ناقابل یقین لیکن جیتی جاگتی کہانی۔عبدالغفور چودھری کی زبانی۔

تحریر: عبدالستاراعوان

عبدالغفور چودھری ایک سیلف میڈ انسان ہیں۔ انہوں نے قصور کے ایک زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی اور سخت محنت کرکے نمایاں مقام حاصل کیا۔ دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا تھا کہ انہیں ان کے والد کے سیاسی مخالفین نے قتل کے ایک جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی۔

عبدالغفور چودھری ایک ٹھٹھرتی صبح گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے اور کھیتوں سے ہوتے ہوئے قصور پہنچے اور پھر لاہور میں اپنے ماموں زاد بھائی فرزند علی کے پاس آکر پنا ہ لی۔ فرزند علی نے انہیں فوج میں بطورسپاہی بھرتی کروا دیا۔ جس وقت روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں، وہ پاک افغان سرحد پر اپنے دوساتھیوں سمیت سب سے بلند پہاڑی چوٹی پر قائم ”ابزرویشن پوسٹ “ پرتعینات تھے۔

انہوں نے روسی جارحیت کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ کہتے ہیں :” اس وقت موت کو بہت قریب سے دیکھا جب روسی گن شپ ہیلی کاپٹر ہماری پوسٹ کے عین اوپر آگیا اور روسی فوج کے آرٹلری دستے نے ہماری پوسٹ پر شدید گولہ باری شروع کردی“۔

مزید پڑھیں: تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

چودھری صاحب نے فوج کی سخت نوکری کے دوران بھی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھااور ”آرمڈ فورسزبورڈ فار ایجوکیشن“کے تحت انٹر میڈیٹ کے امتحانات میںپہلی پوزیشن حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد پاک فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسرکے لئے اپلائی کیااور سپاہی سے براہ راست نائب صوبیدار سلیکٹ ہوگئے۔ اس کے بعد بی ایڈ، ایم اے اسلامیات اور ایم اے انگلش کیا۔

1994 میں پی سی ایس کا امتحان دیا لیکن میرٹ اچھا نہ ہونے کے سبب انہیں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے بجائے ”اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سو سائٹیز“تعینات کر دیا گیا۔1996ءمیں دوبارہ پی سی ایس کا امتحان دیا اور انہیںایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تعینات کردیاگیا۔

چودھری صاحب کو لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں اہم انتظامی عہدوں پر کام کرنے کاموقع ملا۔انہوںنے بطورجوڈیشل افسر،ایکسٹرااسسٹنٹ کمشنر(مجسٹریٹ درجہ اول)، سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، ڈپٹی سیکریٹری ، ایڈیشنل کمشنراورڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کیا۔

مزید پڑھیں:عاشق رسول “عبد اللہ” کی ایمان افروز داستان

1980ءمیں پاک فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے عبدا الغفور چودھری 2019ءمیں بطور ڈپٹی کمشنرملازمت سے سبکدوش ہوئے۔

چودھری صاحب نے افسر شاہی اور مختلف سیاسی و سماجی رویوںکا بڑے قریب سے مشاہدہ کیا۔ میں چودھری صاحب کابے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے”قومی ڈائجسٹ “کے لئے اپنی دلچسپ یادداشتیں محفوظ کرنے کے لئے تعاون کیا۔تقریبا ً 80 صفحات پر مشتمل ان یادداشتوں میں کئی گوشے تو خاصے چشم کشا ہیں جو قارئین کے لئے یقینا دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *